قرآن کریم کا متن اور حدیثِ نبویۖ

امریکی ریاست ورجینیا کے دو دینی اداروں دارالہدیٰ اور مدینة العلوم میں منعقدہ سلسلہ محاضرات کا ایک حصہ نذرِ قارئین کیا جا رہا ہے۔
بعد الحمد والصلوٰة۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فضل اور کرم ہے کہ اس نے زندگی میں ایک بار پھر ملاقات کا بلکہ چند ملاقاتوں اور دین کی کچھ باتیں کہنے سننے کا موقع عنایت فرمایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اس حاضری کو اور ہمارے مل بیٹھنے کو قبول فرمائے اور کچھ مقصد کی باتیں کہنے سننے کی توفیق عطا فرمائے اور پھر دین حق کی جو بات علم میں آئے، سمجھ میں آئے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق سے نوازے۔ کئی برسوں سے یہ معمول ہے کہ واشنگٹن (ڈی سی، امریکا) حاضری کے موقع پر دو چار دن کے لیے آپ کے اس دینی ادارے ”دارالہدی” میں حاضری کا موقع ملتا ہے اور کسی نہ کسی دینی عنوان پر گفتگو ہوتی ہے۔

قرآن کریم اور حدیث نبویۖ کا آپس میں جوڑ اور تعلق کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ کے کلام کو ہم قرآن کریم کہتے ہیں جبکہ حدیث نبوی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام ہے۔ جو بات اللہ تعالیٰ کی طرف وحی کے طور پر منسوب ہو کہ اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا اور اپنے کلام میں یہ کہا، وہ قرآن کریم ہے اور جو بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا، فلاں عمل کیا یا کسی دوسرے کے عمل کی تصدیق کی وہ حدیث ہے۔اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا اس کے دو درجے ہیں: ایک ہے قرآن کریم اور دوسرا ہے حدیثِ قدسی۔ قرآن کریم تو کتاب اللہ ہے اور اس کے اندر جو آیات اور سورتیں جو کچھ بھی بیان ہے وہ قرآن کہلاتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ سے منسوب وہ باتیں جو قرآن کریم سے ہٹ کر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نقل کی ہیں، روایت کی ہیں، وہ احادیثِ قدسیہ کہلاتی ہیں۔ یعنی ایسی باتیں جو روایت تو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کرتے ہیں لیکن بات ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی۔ احادیثِ قدسیہ بھی سینکڑوں ہیں۔ قرآن کریم جو وحی الہی کا تسلسل ہے: ” بسم اللہ الرحمن الرحیم، الحمد للہ رب العالمین ” سے لے کر ” من الجنة والناس” تک ہمارے پاس ایک کتاب کی شکل میں موجود ہے اور حدیث نبویۖ یعنی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات مقدسہ اور اعمال مبارکہ کا ذخیرہ بھی ہمارے پاس موجود و محفوظ ہے۔ ان دونوں یعنی قرآن کریم اور احادیث مبارک کو صحابہ کرام نے روایت کر کے آگے امت تک پہنچایا۔ چنانچہ آج میری گفتگو کا موضوع یہ ہے کہ قرآن کریم اور حدیث نبویۖ کا آپس میں تعلق اور جوڑ کیا ہے۔ اس پر میں دو تین نشستوں میں اِن شاء اللہ العزیز بات کروں گا۔

قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی کوئی بات سمجھنے میں کوئی الجھن پیش آتی تو صحابہ کرام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رجوع کرتے تھے۔ اس لیے کہ حضور علیہ السلام قرآن مجید کے شارح ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور حضور علیہ السلام کی سنت قرآن کریم کی تشریح ہے۔ جبکہ تابعین، خیر القرون یعنی قرون اولی کے لوگ صحابہ کرام سے رجوع کرتے تھے۔ اس لیے کہ ان کے سامنے قرآن کریم نازل ہوا اور وہ اس کے پس منظر کو اور موقع محل کو زیادہ بہتر جانتے تھے اور زیادہ بہتر تشریح کر سکتے تھے۔ صحابہ کرام میں سے کسی کو الجھن پیش آتی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا جاتا کہ یارسول اللہ! اس آیت کا مطلب سمجھ میں نہیں آیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کی وضاحت فرما دیتے۔ جبکہ تابعین میں سے اگر کسی کو قرآن کریم کے متعلق کوئی بات سمجھنے میں کوئی دقت پیش آتی تو وہ کسی صحابی سے رجوع کرتے کہ جناب یہ بات سمجھ میں نہیں آئی، آپ چونکہ وحی کے گواہ ہیں اور موقع محل سے واقف ہیں اس لیے آپ بتائیں کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ اس پر حدیث کی کتابوں میں بہت سے واقعات ہیں۔

ہمارا ایمان ہے کہ اس وقت ہمارے سامنے جو قرآن کریم مصحف کی صورت میں موجود ہے اور جسے دنیا بھر کے مسلمان پڑھتے ہیں، یہی اصلی قرآن کریم ہے اور اسی پر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو چھوڑ کر گئے ہیں۔ یہ قرآن کریم اس طرح کتابی شکل میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں موجود نہیں تھا بلکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر کے دور خلافت میں حضرت عمر کی تجویز و تحریک پر حضرت زید بن ثابت نے قرآن کریم کو موجودہ کتابی صورت میں تحریر کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں قرآن کریم کو یاد کرنے کا ذوق زیادہ تھا اور سینکڑوں حفاظ صحابہ کرام موجود تھے، اس لیے لکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ ویسے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک وحی جاری تھی اور قرآن کریم کی مکمل صورت نے حضور علیہ السلام کے وصال کے بعد ہی سامنے آنا تھا۔

یہاں حضرت شاہ عبد القادر محدث دہلوی کے بیان کردہ ایک نکتہ کا ذکر بھی مناسب معلوم ہوتا ہے جو انہوں نے آیت کریمہ ” بل ھو آیات بینات فی صدور الذین اوتوا العلم ” کے ضمن میں لکھا ہے کہ قرآن کریم کی اصل جگہ سینہ ہے اور کتابت امرِ زائد ہے۔ یعنی کتابت قرآن کریم کی ضروریات میں سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق ہماری کمزوریوں سے ہے کہ جو شخص قرآن کریم یاد نہ کر سکتا ہو وہ اپنی سہولت کے لیے لکھا ہوا قرآن دیکھ کر پڑھ لے۔پہلی بات یہ ہے کہ قرآن کریم کا متن یعنی الفاظ، آیات، سورتیں اور ترتیب یہ سب کچھ ہمیں حدیث کے ذریعے سے ملتا ہے۔ قرآن کریم کے الفاظ بھی حدیث کے ذریعے معلوم ہوئے اور آیتیں بھی حدیث کے ذریعے سے معلوم ہوئیں۔ آیتوں اور سورتوں کی ترتیب کیا ہے، یہ بات بھی حدیث کے ذریعے معلوم ہوئی۔ ان میں سے کوئی بات بھی معلوم کرنے کا ہمارے پاس ذریعہ ایک ہی ہے، جسے حدیث کہتے ہیں، اور کوئی ذریعہ ہمارے پاس نہیں ہے۔ مثال کے طور پر ہم میں سے ہر آدمی جانتا ہے کہ قرآن کریم کی پہلی وحی کونسی تھی:

”اقرأ باسم ربک الذی خلق۔ خلق الانسان من علق۔ اقرأ و ربک الاکرم۔ الذی علم بالقلم۔ علم الانسان مالم یعلم۔”
یہ قرآن کریم کی پانچ آیتیں ہیں جو سب سے پہلے نازل ہوئی تھیں اور یہ بات ہر وہ مسلمان جانتا ہے جو تھوڑی بہت دین سے مناسبت رکھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہمیں یہ کیسے معلوم ہوا کہ یہ قرآن کریم کی آیتیں ہیں اور پھر یہ بات کہ یہ قرآن کریم کی سب سے پہلی نازل ہونے والی آیتیں ہیں۔ یہ بات پتہ چلانے کے لیے ہمیں غارِ حرا کا وہ واقعہ معلوم کرنا ہوگا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نبوت سے پہلے معمول مبارک یہ تھا کہ آپ غار میں چلے جاتے تھے اور وہاں کئی کئی دن رہتے تھے۔ غور و فکر کرتے تھے، عبادت کرتے تھے، اللہ اللہ کرتے تھے، انسانیت کے مسائل پر غور کرتے تھے۔ چنانچہ ایک دن آپ غارِ حرا میں تھے کہ اس دوران فرشتہ آیا، اس نے کہا ”اقرأ” پڑھیے جناب۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ما انا بقاریٔ” میں پڑھنے والا نہیں ہوں۔ میں واقعے کی تفصیل میں نہیں جاتا لیکن یہ واقعہ تقریباً ہر مسلمان کے ذہن میں ہے اور سب نے کسی نہ کسی موقع پر سنا ہوا ہے۔ یہ واقعہ ہمارے پاس یہ بات معلوم کرنے کا ذریعہ ہے کہ یہ قرآن کریم کی پہلی پانچ آیتیں ہیں جو غارِ حرا میں نازل ہوئیں۔ اس واقعے کا واسطہ درمیان میں نہ ہو تو یہ بات معلوم کرنا کہ قرآن کریم کی پہلی پانچ آیتیں یہ تھیں، اس کا کوئی اور ذریعہ ہمارے پاس نہیں ہے۔ چنانچہ ہمیں سب سے پہلے یہ واقعہ تسلیم کرنا ہوگا جو ظاہر ہے کسی صحابی نے روایت کیا ہے۔

یہ واقعہ حضرت عبد اللہ ابن عباس سے، حضرت عائشہ سے، حضرت جابر سے اور ان کے علاوہ بھی دیگر صحابہ سے روایت ہے۔ تو پہلے ہمیں اس واقعے کی تفصیلات معلوم کرنی ہوں گی اور یہ واقعہ تسلیم کرنا ہوگا تب ہم یہ مانیں گے کہ یہ قرآن کریم کی پہلی پانچ آیتیں ہیں۔سوال یہ ہے کہ اگر ہمارا اس واقعے پر ایمان نہ ہو تو کیا ان پانچ آیتوں پر ایمان ممکن ہے؟ یہ ساری تفصیل کہ فرشتہ آیا اور اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا، حضور علیہ السلام نے اس کے جواب میں یہ بات کہی، پھر واپس گھر آئے تو بڑی گھبراہٹ تھی، اپنی اہلیہ حضرت خدیجة الکبرٰی سے فرمایا کہ میں بہت گھبرا رہا ہوں مجھے چادر اوڑھاؤ۔ یہ ایک لمبا قصہ ہے۔ یہ سارا واقعہ وہ ماخذ ہے جس کے ذریعے سے ہمیں یہ پانچ آیتیں ملیں اور صحابہ نے یہ سارا واقعہ اور قصہ آگے امت کو روایت کر دیا۔ یہی بات حدیث کہلاتی ہے۔ الغرض قرآن کریم کے الفاظ تک پہنچنے کے لیے ہمارے پاس واحد ذریعہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی ہے۔ (جاری ہے)