جنگ میں شدت اور بڑھتا ہوا عالمی بحران

ایران پر امریکی اوراسرائیلی جارحیت میں شدت پیدا ہوچکی ہے جس کی وجہ سے جنگ کے پھیلاو کے خطرات میں مزید اضافہ ہوچکا ہے۔امریکا کے احمق ترین صدر ٹرمپ نے ایران میں مواصلاتی ذرائع اور بڑے پلوں کو تباہ کرنے کی دھمکی دی ہے جس کے جواب میںایران کی جانب سے عرب ریاستوں میں قائم پُلوں کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیا گیاہے۔ ساتھ ہی جنگ کے پھیلاو کے خطرات بڑھتے ہی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوںکو پَر لگ گئے ہیں۔ دنیا بھر میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ ہی مہنگائی اورگرانی کا ایک ہوشربا طوفان برپا ہوگیا ہے۔ آئی ایم ایف کے دباو پر پاکستان نے بھی پٹرول کی قیمتوں میں یک مشت تقریبا ً بیالیس فیصد اور ڈیزل کی قیمتوں میں یک مشت تقریبا ً چون فیصد اضافہ کردیا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ پاکستان کی اکثریتی آبادی کےلئے قطعی طورپر ناقابلِ برداشت ہے ۔ پٹرول اورڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے صرف سفر ہی کے اخراجات میں اضافہ نہیں ہوگا بلکہ روز مرہ زندگی کی ہر شے مہنگی ہوجائے گی جس کے ساتھ ہی متوسط طبقات ، تنخواہ دار اور دیہاڑی دار لوگوں کو زندگی کی شدید مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا۔ یہ صورتحال صرف پاکستان ہی میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں پیش آرہی ہے ۔ جنگ کے پھیلتے سائے پوری دنیا کی معیشت کو نگل رہے ہیں اور روسی صدر پیوٹن کے یہ الفاظ درست ثابت ہورہے ہیں کہ جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والا عالمی بحران کورونا وبا سے بڑھ کر دنیا کےلئے تباہ کن ثابت ہوگا۔ جنگ کی وسعت اور شدت کی وجہ سے دنیا میں پیدا ہونے والی کساد بازاری، معاشی تباہی اور شدید مہنگائی اور اس کے ساتھ جڑی اخلاقی قدروں کی پامالی، فتنہ و فساد اوردہشت گردی کے عالمی اڈے اسرائیل اور امریکی صدر ٹرمپ کی ڈوریا ں ہلانے والی صہیونی لابی کے عین مفاد میں ہے۔ فتنہ و فساد اور شر جس قدر پھیلے گا، صہیونی دہشت گردوں اور عالمی ساہوکاروں کو اسی قدر اپنا جال پھیلانے میں سہولت میسرآئے گی، لہٰذا اس وقت ضرورت اس ا مر کی ہے کہ اس جنگ کو کسی بھی صورت وسعت اختیار کرنے سے روکا جائے۔
ایران جس انداز میں عرب ریاستوں کے مفادات اور شہری اثاثوں کو نشانہ بنانے کی جانب بڑھ رہاہے ،یہ امر انتہائی خطرناک ہے اور اس کمزور پالیسی کو اختیار کرنے سے نہ صرف ایران کی حمایت میں کمی واقع ہوگی بلکہ خود ایران کےلئے نئے مسائل پیدا ہوجائیں گے۔جس طرح ایران کو برداشت سے کام لیتے ہوئے صرف اسرائیل ہی کو نشانہ بنانے پر توجہ دینی چاہیے، اسی طرح عرب ریاستوں اور خاص طورپر سعودی عرب کو بھی اس موقع پر تدبر ،حکمت اور تحمل سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ تاریخ کے ا ن لمحات میں سعودی قیادت پر بڑ ی بھاری ذمہ داری عائد ہوچکی ہے کہ وہ صہیونی جال میں پھنسنے سے خود کو بچائے اور جنگ میں کودنے کی بجائے پاکستان ،ترکیہ،چین اور روس کی مدد سے اس جنگ کے منفی اثرات کو امریکا اور اسرائیل پر منتقل کرنے کی سعی اور جستجو کرے۔
پاکستان کی عسکری قوت کی ہمراہی کی وجہ سے زمینی حقائق کے مطابق سعودی عرب کا دفاع بے حد مضبوط ہے اور چند مقامات پر ہونے والے نقصانات اس کی مستحکم حیثیت کو متاثر نہیں کرسکتے لہٰذا ایران یا ایران میں موجود صہیونی پراکسی اس جنگ کو پھیلانے کےلئے اگر کسی اوچھے ہتھکنڈے سے کام لیں تو اس پر مشتعل ہوکر جنگ میں قدم رکھنا قرینِ مصلحت نہیں ہوگا۔ عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی مزاحمت یہ ثابت کرنے کےلئے کافی ہے کہ امریکا اور اسرائیل دونوں مل کر بھی اپنے مزعومہ اہداف حاصل نہیں کرپائے۔ امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کے مقابلے میں ایران کی مزاحمت کو مسلم دنیا سے زبردست خراجِ تحسین ملا ہے اور بقدرِ امکان متعدد مسلم ریاستوں نے اس موقع پر ایران کی موجودہ حکومت اور اس کے عوام کا بھرپور ساتھ دینے کی کوشش بھی ہے لہٰذا ایران اب تک مستحکم دکھائی دیتاہے جبکہ امریکا بند گلی میں جاتا دکھائی دے رہاہے ۔ اگر مسلم ریاستیں مل جل کر اس جنگ کو پھیلنے سے روک سکیں اور ایرانی مزاحمت برقراررہے تو امید یہی ہے کہ یہ جنگ دو ہفتے سے زیادہ نہیں بڑھے گی اور ٹرمپ کو ہی جنگ بند کرنے کا اعلان کرنا ہوگا۔
ماہرین کے مطابق گو امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کی بندش کو امریکا سے غیر متعلق قرار دیا ہے لیکن پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بہرحال امریکی عوام کےلئے مسائل کا باعث بن رہی ہیں۔ عالمی معیشت کا چلتا ہوا پہیہ اپنی رفتار کھو چکاہے اور معیشت کی سست روی بلکہ گرواٹ کے نتائج لاکھوں نہیں کروڑوں انسانوں کو زندگی کی مشکلات کی صورت میں سہنا پڑ رہے ہیں۔ایسے میں سوال یہ ہے کہ اگر ایران کی مزاحمت ٹرمپ کے دعووں کے برعکس جاری رہتی ہے تو امریکاعالمی سطح پر کہاں کھڑا ہوگا ؟ حتمی نتائج کے حصول کے بغیر جنگ کے اختتام سے امریکی ساکھ پر جو حرف آئے گا اس کا ازالہ امریکی قیادت کیسے کرے گی اور ساکھ کو داو  پر لگائے بغیر امریکا کس جواز کی بنا پر جنگ بندی کا اعلان کرے گا؟ ایران کی مزاحمت نے امریکی قیادت میں اختلافات پیدا کردیے ہیں جس کے نتائج استعفوں اور برطرفیوں کی صورت میں سامنے آرہے ہیں، دوسری جانب اسرائیل پر ہونے والے حالیہ حملے واضح کرتے ہیں کہ ایرانی مزاحمت کی صلاحیت کو اب تک ایسا نقصان نہیں پہنچا جس کے نتائج امریکی دعووں کی تصدیق کرسکیں، نئی ایرانی قیادت جنگ کےلئے آمادہ ہے اور مذاکرات کےلئے کارآمد افراد کو اسرائیل مسلسل نشانہ بنارہاہے ، ایسے میں اس جنگ کا اختتام کس انداز میں ہوگا ؟
ایرانی قیادت اگر مسلم ریاستوں کے ساتھ تصادم کی غلطی نہ کرے تو اس وقت جنگ میں اس کا پلہ بھاری دکھائی دیتاہے، جیسا کہ سلامتی کونسل میں بنائے ہرمز کو بزور طاقت بحال کرنے کی قرار داد پر زیادہ تر ممالک امریکی رائے کے مخالف دکھائی دے رہے ہیں تاہم جنگ کے دائرے کو پھیلا کر ایران وہ حمایت کھو دے گا جس کی بہر حال اسے اشد ضرورت ہے۔ مبصرین کے مطابق اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران اعصاب کی جنگ بھی ہے۔ جو ملک اور قوم جس قدر قوتِ برداشت سے کام لے گی، اسی قدر وہ بہتر نتائج حاصل کرپائے گی۔ ان حالات میں حکومت مخالف تحریکوں کی بجائے باہمی تعاون پر توجہ دینی چاہیے۔ ساتھ ہی شدید بحران کی اس کیفیت میں حکومت کو ہمہ گیر حکمت ِ عملی مرتب کرنا ہوگی جس کےلئے ہر شعبے کے ماہرین کا مسلسل تعاون درکار ہوگا۔ ممکن ہے کہ جنگ جلد ہی اختتام پذیر ہوجائے لیکن فی الوقت اس کے پھیلاو کے آثار سے دنیا کی معیشت اورعالمی امن خطرے سے دوچار دکھائی دے رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کو داخلی امن کے لیے غیر معمولی اقدامات کرنا ہوں گے۔