اسرائیلی پابندیوں کی وجہ سے بورڈ آف پیس کو غزہ میں مشکلات کا سامنا

قاہرہ:بورڈ آف پیس کے اعلی نمائندے نکولے ملاڈینوف نے کہا ہے کہ غزہ کی سرحدی گزرگاہوں پر اسرائیل کی وسیع پابندیاں غزہ میں انسانی امداد کے داخلے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔نکولے ملادینوف نے مصر کے القاہرہ نیوز چینل کو بتایا کہ کئی سطحی چیلنجز رہائشیوں کو امداد کی پائیدار اور مناسب ترسیل میں رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امداد کی تقسیم کا سابقہ طریقہ کار جنگ کیوجہ سے تباہ ہو چکا ہے جبکہ متبادل نظام ابھی تک موجود نہیں ہے جس سے ایک بڑا لاجسٹک مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک اور بڑا چیلنج غزہ کے اندر اسرائیلی افواج کی تعیناتی ہے، جس کا نصف سے زیادہ علاقہ اب بھی اسرائیلی کنٹرول میں ہے۔ آبادی تک پہنچنے کے لیے موثر متبادل ابھی تک قائم نہیں کیے جا سکے ہیں۔

بورڈ آف پیس کے رکن ممالک بشمول مصر، امریکا اور خلیجی ریاستوں کی جانب سے مالی وعدوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اصل چیلنج ان وعدوں کو زمینی طور پر ٹھوس امداد میں تبدیل کرنا ہے۔

انہوں نے شہریوں کو پناہ دینے کے لیے عارضی ہاؤسنگ یونٹس کی تیزی سے فراہمی پر زور دیا اور غزہ کے صحت کے شعبے کی تعمیر نو کے لیے فوری مداخلت کی ضرورت پر زور دیا۔