پاکستان نے عالمی امن اور استحکام کے فروغ میں اپنی کامیاب سیاسی اور فوجی ڈپلومیسی کے ذریعے عالمی سطح پر اہم مقام حاصل کر لیا ہے۔ امریکی نمایندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف نے پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ امن معاہدے کے فریم ورک کے لیے 15 نکاتی ایکشن لسٹ پاکستان کے ذریعے ایران تک پہنچائی گئی جس نے مثبت اور مضبوط مذاکرات کے راستے کھولے۔ اسٹیو وٹکوف کے مطابق پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے ذریعے اہم اور متوازن تعلقات قائم کیے ہیں اور اس کامیاب سفارتکاری نے خطے میں کشیدگی کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مدبرانہ پالیسیوں اور مؤثر حکمت عملی نے جنگ کو بڑھنے سے روکنے میں نمایاں کردار ادا کیا اور عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت اور اعتماد کو مزید مستحکم کیا ہے۔ پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی اور کامیاب سیاسی و فوجی ڈپلومیسی نے اسے ایک مؤثر عالمی ثالث اور امن کا ضامن بن کر ابھارا ہے۔ امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے دوران امن کے لیے سہولت کاری کے لیے پرزور ٹیلیفونک سفارتکاری کی۔
ایک ایسے وقت میں جبکہ مشرق وسطی میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف چھیڑی گئی جنگ نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے اور بہت سے معاشی ودفاعی لحاظ سے طاقتور ممالک بھی شدید دباؤ محسوس کر رہے ہیں، پاکستان نے اس بحران میں اب تک مضبوط اعصاب کا مظاہرہ کیا اور متوازن پالیسی اپنائی ہے جس کے نتیجے میں ایک جانب جنگ کے دونوں فریق پاکستان پر اعتماد کر رہے ہیں، امریکا نے باضابطہ طور پر پاکستان کے ثالثی کردار کا اعتراف کیا ہے اورعالمی امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے جبکہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان ہر دوسرے دن وزیر اعظم پاکستان کو فون کرکے تشکر کے جذبات کا اظہار کرتے ہیں، ایرانی پاسداران انقلاب نے تو انوکھے انداز میں پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ اسرائیل پرداغے جانے والے میزائلوں پر تھینک یوپیپلز آف پاکستان لکھ دیا۔ تازہ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب، ترکیے اور مصر کے وزرائے خارجہ آج اسلام آباد آرہے ہیں اور توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ تینوں برادر اسلامی ممالک مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کا اعلان کریں گے اور ان کوششوں میں اپنی تجاویز بھی شامل کریں گے۔ پاکستان ایران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور سفارتی حلقوں کے مطابق پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان اعتماد کے بحران کو ختم کرنے اور دونوں فریقوں کو معقولیت کی درمیانی راہ میں لانے کے لیے کوشاں ہے۔
گوکہ دونوں فریقوں کے ایک دوسرے سے مطالبات میں بہت زیادہ بُعد پایا جاتا ہے اور دونوں جانب سے کئی غیر حقیقت پسندانہ باتیں دوہرائی جارہی ہیں تاہم یہ امر بالکل ظاہر ہے کہ دونوں فریق جنگ میں زیادہ دیر تک الجھنا نہیں چاہیں گے اور بالخصوص امریکی فریق کے بارے میں اب یہ تاثر پوری دنیا میں عام ہے کہ وہ بظاہر کامیابی کے بلند بانگ دعوے کرنے کے باوجود درحقیقت اب جنگ کے کمبل سے جان چھڑانے کی فکر میں ہے، امریکی میڈیا رپورٹ کر رہا ہے کہ جنگ کے اب تک کے نتائج،مضمرات، حکمت عملی اور منصوبہ بندی سے متعلق نہ صرف یہ کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان شدید اختلاف پیدا ہوچکا ہے جس کا ایک مظہر یہ ہے کہ امریکی صدر کے واضح اعلان کے باوجود اسرائیل نے ایران کی جوہری توانائی کی تنصیبات پر حملہ کیا ہے بلکہ خود امریکا کی ٹرمپ انتظامیہ کے کچھ سنجیدہ و فہمیدہ حلقے بھی یہ کہتے پائے گئے ہیں کہ اسرائیل نے غیر اندازوں اور جھوٹی معلومات کی بنیاد پر امریکا کو ایران میں لاپھنسایا ہے، چنانچہ بتایا جارہا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اب” ڈیمج کنٹرول مشن” کے تحت ایران کے ساتھ بات چیت کے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں، تازہ بیانات میں خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اشارے دیے ہیں کہ وہ جلد سے جلد ایران سے جنگ چھڑا کر کیوبا کے خلاف مہم جوئی کا ارادہ رکھتے ہیں۔
بعض مبصرین کا خیال ہے کہ امریکا نے مذاکرات کا ڈول ایران کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے سے پہلے وقت کے حصول کے لیے ڈالا ہے اور وہ ضروری تیاریوں اور خطے کے ممالک سے مطلوبہ حمایت کے حصول کے بعد ایران پر تباہ کن حملے کرسکتا ہے۔ اس امکان کو اس امر سے تقویت ملتی ہے کہ اطلاعات کے مطابق امریکا مذاکرات کی کوششوں کے دوران بھی ایران کے خلاف زمینی کارروائی کے لیے بڑی تعداد میں فوجی روانہ کرچکا ہے اور مزید امریکی طیارہ بردار جہاز بھی خلیج کی طرف رواں دواں ہیں مگر یہ مذاکرات کے لیے فریق ثانی پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ بھی ہوسکتا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق امریکا کو خلیج سے نکلنے کے لیے مناسب فیس سیونگ درکار ہے اور وہ شکست کے تاثر کے ساتھ یہاں سے جانا افورڈ نہیں کرسکتا۔ وہ پاکستان جیسے ثالث ممالک کے ذریعے ایران سے کچھ ایسی ضمانتیں اور یقین دہانیاں چاہتا ہے جو وہ جنگ سے نکلنے کے لیے جواز کے طور پر دنیا اور اپنے عوام کے سامنے پیش کرسکے۔ اب یہ ثالث ممالک کی ذہانت اور بصیرت پر ہے کہ وہ کس طرح دونوں فریقوں کو ”کچھ لو اور کچھ دو” پر آمادہ کر پاتے ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ یہاں ایرانی قیادت کو بھی حکمت و دانائی کے تقاضوں کو پیش نظر رکھ کر فیصلے کرنے چاہئیں۔ امریکا کا بنیادی مطالبہ ایران سے جوہری پروگرام سے دستبردار ہونے اور اپنی حدود اربعہ سے باہر پراکسی جنگیں لڑنے سے اجتناب کرنے کا ہے۔ پہلے مطالبے سے متعلق خود ایرانی قیادت بھی بار ہا کہتی رہی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کے حق میں نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس معاملے پر فریقین میں اصولی اختلاف نہیں ہے، ایران کے پر امن جوہری پروگرام کے حق کو امریکا بھی رد نہیں کرتا۔ لہٰذا ایران کو عالمی برادری کو وہ ضمانتیں دینی چاہئیں جو ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کے اس کے عہد کو دنیا سے منوا سکیں۔ جہاں تک خطے میں پراکسی جنگیں لڑنے کے معاملے کا سوال ہے تو یہ صرف امریکا یا مغرب کا ہی نہیں بلکہ خطے کے کچھ عرب اور اسلامی ممالک کا بھی کنسرن ہے اوراس بارے میں واضح یقین دہانیاں کرکے ہی ایران اپنے پڑوسی ممالک اور عرب ریاستوں کے ساتھ مخاصمت کو ختم کرسکتا ہے۔ ایسا کرکے ایران خود پر عائد عالمی پابندیوں کو بھی ختم کراسکتا ہے اور اپنے عوام کو بھی مہنگائی اور معاشی بحران سے نجات دلا سکتا ہے جس کو ایران میں رجیم کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوششیں کی جاسکتی ہیں۔

