جون سے اگست کے دوران بجلی شارٹ فال مزید بڑھنے کا خدشہ

لاہور;سابق وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے جون سے اگست کے دوران بجلی کا شارٹ فال مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کردیا۔گوہر اعجاز نے ملک میں جاری بجلی کے بحران کو پاور سیکٹر کی ناکامی اور بدانتظامی کا منہ بولتا ثبوت قرار دے دیا۔انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آنے والے مہینوں میں بحران مزید سنگین صورت اختیار کر جائے گا۔

گوہر اعجاز کا کہنا تھا کہ ملک میں بجلی پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت کے باوجود لوڈشیڈنگ ہونا حیران کن ہے، موسم گرما کے آغاز پر ہی بجلی کا شارٹ فال 4090 میگا واٹ تک پہنچ چکا ہے۔صنعتوں کو 2 سے 4 گھنٹے جبکہ گھریلو صارفین کو 16 گھنٹے تک کی طویل لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے جبکہ پیک آورز میں بجلی کی طلب 20 ہزار 520 میگا واٹ ہے جبکہ پیداوار صرف 13 ہزار 958 میگا واٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جون سے اگست تک بجلی کی ڈیمانڈ 33 ہزار میگا واٹ تک پہنچنے کا خدشہ ہے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت آج ڈیمانڈ پوری نہیں کر پا رہی تو جون میں کیا کرے گی؟سابق وفاقی وزیر نے بجلی کی کمی کی چند بڑی تکنیکی اور انتظامی وجوہات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا سستا ترین بجلی پیدا کرنے والا نیلم جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ بند پڑا ہوا ہے، گیس کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے گیس پاور پلانٹس استعمال نہیں ہو پا رہے جبکہ بجلی کا موجودہ ترسیلی نظام مطلوبہ علاقوں تک بجلی پہنچانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

گوہر اعجاز نے عوام پر مالی بوجھ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں 46 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور عوام اس پوری صلاحیت کے کیپسٹی چارجز ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ بھاری ادائیگیوں کے باوجود عوام کو بجلی نہ ملنا ظلم ہے اور سوال کیا کہ آخر لوڈ منیجمنٹ کون اور کس بنیاد پر کر رہا ہے؟۔