اطلاعات کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران کو فیصلہ کن حملے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ یہ حملہ امریکی مطالبات منظور نہ کرنے کی صورت میں کیا جائے گا جن میں سرفہرست یورینیم کی افزودگی سے مکمل دست برداری اور میزائل سازی پروگرام کا انجماد ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران کی جانب سے جنگ کا تاوان ادا کرنے اور اقتصادی پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان بظاہر مذاکرات معطل ہو چکے ہیں لیکن ذرائع کے مطابق ترکیہ، مصر اور قطر اس وقت میں دونوں متحارب ریاستوں کے درمیان روابط کا ذریعہ ہیں اور ان ملکوں کی پوری کوشش ہے کہ کسی بھی طرح جنگ کو مزید پھیلنے سے روک دیا جائے۔ دہشت گردی کا عالمی مرکز اسرائیل جو کہ خود بھی ایرانی حملوں کی زد میں ہے، اس جنگ کا پھیلاؤ چاہتا ہے تاہم بعض میڈیا ذرائع کے مطابق اسرائیل کے اعلیٰ حکام جنگ بندی یا مزید حملوں کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلے کے منتظر ہیں۔ سرِدست جہاں امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طورپر ایران پر شدید حملے کیے ہیں اور تہران میں بجلی کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے، وہاں ایران کی جانب سے اسرائیل کے جوہری توانائی کے مرکز اور دیگر شہروں پر میزائل برسائے گئے ہیں۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ جنگ میں شدت امریکا اور اسرائیل کو مہنگی پڑے گی اور امریکی اتحادی ممالک کے توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ان کمپنیوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا جو امریکی معیشت کی بہتری اور ترقی کے لیے کردار ادا کر رہی ہیں۔ ایسے میں روس کے وزیرِخارجہ نے مختصر الفاظ میں اس جنگ کے مقاصد کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا دراصل توانائی کے ذخائر اور تیل کے کنوؤں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔
یہ بات واضح ہے کہ ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ جارحیت دراصل توانائی کے مراکز پر قبضے کے ساتھ ساتھ علاقائی بالادستی اور مشرقِ وسطیٰ پر مکمل تسلط کی کوشش ہے۔ اسرائیل اور امریکا دونوں ہی ایران کے ساتھ علاقائی بالادستی کی کشمکش اور وسائل پر تسلط کے حوالے سے بنیادی حریف ہیں۔ ایک طویل عرصے تک اعصابی جنگ اور سیاسی رسہ کشی کے بعد امریکا اور اسرائیل ایران پر ایک ایسے وقت میں ٹوٹ پڑے ہیں جب اسرائیل کی انتہاپسند قیادت توسیع پسندانہ عزائم کی جلد اور ہر حال میں تکمیل کے لیے پر تول چکی ہے۔ اس تناظر میں ایران اور امریکا کی جنگ دنیا بھر کے مسلمانوں کی جانب سے ایران کی تائید کی گئی ہے تاہم اس موقع پر یہ امر ملحوظ رہنا چاہیے کہ ایران نے خطے میں متعدد بار امریکی مفادات کی سہولت کاری بھی کی ہے جس کی مثالیں عراق پر امریکی حملے میں مدد، افغانستان میں امریکی مداخلت سہولت کاری اور پاکستان میں گوادر بندرگاہ اور سی پیک کے خلاف سازشوں میں کردار ادا کرنا وغیرہ ہیں۔ مزید یہ کہ ایران نے خود کو عربوں کے لیے ایک بڑے خطرے کی صورت میں پیش کیا جس کی وجہ سے عربوں کو امریکا کی مدد حاصل کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
اگر ایرانی قیادت پراکسی وار کا استعمال نہ کرتی اور ذیلی تنظیمیں اور حمایت یافتہ گروہ ایرانی قیادت کے توسیع پسندانہ عزائم کا اظہار نہ ہوتے تو شاید عرب ریاستیں ایران کے مقابلے میں اس قدر دفاعی انداز اختیار کرنے پر مجبور نہ ہوتیں۔ اس وقت بھی ایران کے پاس یہ موقع موجود ہے کہ وہ اس جنگ کو خالص اسرائیل، امریکا مخالف اقدامات تک محدود رکھے اور عرب ریاستوں کے مفادات کو نشانہ بنا کر جنگ کو وہاں تک نہ پھیلائے کہ جس کے بعد صورتحال خود اس کے ہاتھوں سے بھی نکل جائے۔ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے کہ عربوں کے ساتھ ایران کے ٹکراؤ کے خطرات سنگین حد تک موجود ہیں جس کے پسِ منظر میں صرف اسرائیل و امریکا دشمنی ہی نہیں بلکہ عربوں کے ساتھ اعتقادی، نظریاتی اور سیاسی تنازعات بھی کارفرما ہیں۔ ایرانی قیادت خود بھی علاقائی سطح پر ایک ایسی طاقت کی صورت میں رہنا چاہتی ہے جو ناقابلِ تسخیر ہونے کے ساتھ ساتھ اہم مذہبی، اقتصادی اور توانائی کے مراکز پر بھی تسلط رکھتی ہو۔ اس امر کے شواہد قرب وجوار کی ریاستوں میں طویل تاریخی مداخلت کی صورت میں موجود ہیں جن سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ایران جو کہ اس وقت اسرائیل اور امریکا دونوں ہی کو اعلیٰ جنگی مہارت اور بھرپور مزاحمتی قوت کے ساتھ جواب دے رہا ہے، عرب ریاستوں کے حوالے سے اپنی سابقہ پالیسیوں پر نظر ثانی کر چکا ہے یا جنگ کے ممکنہ اختتام کے بعد وہ نئے سرے سے اپنی پراکسی کو فعال کرے گا؟ یہاں یہ سوال دراصل اس جنگ کے ممکنہ نتائج سے متعلق ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ کا ممکنہ اختتام فریقین کے درمیان اپنی اپنی فتح کے اعلانات کے ساتھ ہوگا جس کے بعد ہر فریق پہلے کے مقابلے میں زیادہ بہتر تیاری کی تگ و دو میں لگ جائے گا۔ اب تک کی جنگ میں ایران نے یہ تو ثابت کر دیا ہے کہ اس کی جنگی مہارتیں اسرائیل اور امریکا کی توقعات سے بڑھ کر ہی ثابت ہوئی ہیں، لہٰذاجنگ کے بعد وہ علاقائی سطح پر ایک بڑی طاقت کے روپ میں ظاہر ہوگا جس کے بعد علاقائی سطح پر طاقت کے توازن کا مسئلہ بھی کھڑا ہو جائے گا۔ ایسے میں عرب ریاستوں کے لیے پاکستان اور ترکیہ کے کردار کی اہمیت پہلے سے کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اسرائیل اور امریکا کے ساتھ ٹکر لینے کے باوجود ایرانی قیادت نے مسلم اُمہ کی تائید اور حمایت کے لیے وہ سرگرمی نہیں دکھائی جس کی توقع کی جا سکتی تھی۔ کیا اس کا یہ مطلب لیا جا سکتا ہے کہ ایران کو چین اور روس کی تائید کے بعد مسلم دنیا بالخصوص عرب ریاستوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی فکر لاحق نہیں، لہٰذا وہ ان ریاستوں کے لیے اسرائیل ہی کی مانند ایک نیا اور بڑا خطرہ بھی ثابت ہو سکتا ہے؟ خدا کرے کہ یہ اندیشہ محض وسوسہ ہی ہو لیکن آنے والے چند ہی دنوں میں اس اندیشے کی تائید یا تردید کے پہلو مزید واضح ہو جائیں گے۔ ان حالات میں پاکستان کی قیادت نے بہرصورت بالخصوص سعودی عرب اور بالعموم دیگر عرب ریاستوں کا ساتھ دینے کا اشارہ دیا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے شیعہ مسلک کے علماء کرام کے ساتھ ایک خصوصی میٹنگ میں واضح کر دیا ہے کہ پاکستان اپنے مفادات کے مطابق تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا۔ فی الواقع امریکا اور اسرائیل نے خطے میں ایک نئی جنگ چھیڑ کر تمام ممالک کے امن و سلامتی اور ان کے عوام کی زندگیوں کو شدید خطرات میں دھکیل دیا ہے اور اس غیرانسانی، غیراخلاقی اور عالمی قوانین اور سفارتی آداب کے خلاف روش کی بنیادی وجہ علاقائی وسائل پر تسلط اور بالادستی کا جنون ہے۔ یہ وہی حرص و لالچ ہے جو زمین میں فساد کا سبب بنتا ہے اور جس کے متعلق قرآن کریم نے واضح ہدایات دی ہیں۔ ان حالات میں اہلِ وطن کو اپنی آزادی، خودمختاری اور امن و سلامتی کے لیے زیادہ حساس، محتاط، متحد اور سنجیدگی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

