رپورٹ: علی ہلال
آبنائے ہرمز اِس وقت عالمی توجہ کا مرکز ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ توانائی سپلائی کے متاثر ہونے کے حوالے سے خبردار کررہے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کی 20 فیصد تیل کی سپلائی ہوتی ہے لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس آبنائے کی بندش سے دنیا کی زراعت بھی بدترین طریقے سے متاثر ہورہی ہے جس کے نتائج غذائی اشیاءکی مہنگائی کی صورت میں چند ماہ بعد نظر آنے لگ جائیں گے۔
دنیا جہاں ایک طرف تیل کی بڑھتی قیمتوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے وہیں عالمی غذائی ادارے ایک زیادہ گہرے خطرے سے خبردار کررہے ہیں۔ یہ ایسا خطرہ ہے جو براہِ راست کھیتوں سے جڑا ہوا ہے۔ جدید زراعت صرف پانی اور بیجوں پر منحصر نہیں بلکہ کھاد، توانائی اور بروقت ترسیل کے مستحکم نظام پر قائم ہے۔اسی تناظر میں آبنائے ہرمز محض تیل کی گزرگاہ نہیں بلکہ ایک اہم شریان کے طور پر سامنے آتی ہے جہاں سے کھاد اور اس کی تیاری کے لیے درکار گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ امریکا‘ اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے بعد اس راستے کی بندش نے معاملے کو صرف توانائی کی قیمتوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ زرعی موسم اور عالمی غذائی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ نائٹروجن کھادیں خصوصاً یوریا جو خلیجی ممالک میں تیار ہوتی ہیں بڑی حد تک قدرتی گیس پر انحصار کرتی ہیں۔یہ گیس پیداواری لاگت کا تقریباً 70 فیصد تک حصہ بن سکتی ہے۔ اندازوں کے مطابق عالمی یوریا تجارت کا تقریباً ایک تہائی حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔
آبنائے میں رکاوٹ کے باعث نہ صرف تیل اور ترسیل مہنگی ہوئی بلکہ کھاد کی پیداوار بھی متاثر ہوئی۔ گیس کی فراہمی میں خلل اور توانائی تنصیبات پر حملوں نے کئی کارخانوں کی پیداوار کم یا بند کر دی۔ اس کا اثر براہِ راست کسانوں پر پڑا جو پہلے ہی محدود سپلائی، چینی برآمدی پابندیوں اور یورپ میں گیس بحران کے باعث مشکلات کا شکار تھے۔نتیجتاً کھاد کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ یورپ میں نائٹروجن کھاد کی قیمتیں 2024ء کے اوسط سے تقریباً 58 فیصد بڑھ گئیں جبکہ بھارت میں اپریل کے دوران یوریا کی قیمت ایک ہزار ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئی جو صرف دو ماہ پہلے کے مقابلے میں تقریباً دگنی ہے۔ اسی دوران جہاز رانی میں شدید کمی دیکھی گئی اور جنگی انشورنس کی لاگت 0.25 فیصد سے بڑھ کر 3 فیصد تک جا پہنچی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ صرف ترسیل مہنگی ہو گئی بلکہ تاخیر اور خطرات میں بھی اضافہ ہوا‘ ایسے وقت میں جب زراعت بروقت فراہمی کی شدید محتاج ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق زراعت توانائی کی منڈیوں کی طرح لچکدار نہیں ہوتی۔ کسان قیمتوں میں عارضی اضافے کو تو برداشت کر سکتے ہیں لیکن اگر کھاد وقت پر نہ پہنچے تو وہ ضائع ہونے والے سیزن کی تلافی نہیں کر سکتے۔اسی لیے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے FAO نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ بحران طویل ہوا تو یہ ایک بڑے زرعی و غذائی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان ممالک کے لیے جو محدود زرعی سیزن رکھتے ہیں اور مہنگی متبادل اشیاءخریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
یہ اثرات دنیا بھر میں یکساں نہیں ہیں۔ بین الاقوامی تجارتی اداروں کے مطابق کینیا، یوگنڈا، جنوبی افریقہ، تھائی لینڈ اور سری لنکا جیسے ممالک خلیجی کھاد پر زیادہ انحصار کرتے ہیں، اس لیے ان کے لیے معمولی تاخیر بھی سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔اسی طرح آسٹریلیا اور برازیل جیسے بڑے زرعی ممالک بھی اس بحران سے متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ بھی ہرمز کے راستے آنے والی یوریا پر انحصار کرتے ہیں۔ اس کے برعکس امریکا کسی حد تک محفوظ ہے، کیونکہ اس کی مقامی پیداوار نسبتاً مضبوط ہے، اگرچہ وہ بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں۔
کن فصلوں کو سب سے زیادہ خطرہ؟اس حوالے سے ماہرین کے مطابق نائٹروجن پر زیادہ انحصار کرنے والی فصلیں سب سے پہلے متاثر ہوں گی، جن میں گندم، چاول اور مکئی شامل ہیں۔ یوریا دنیا بھر میں نائٹروجن کھاد کے استعمال کا نصف سے زیادہ حصہ فراہم کرتی ہے، اس لیے اس کی کمی براہِ راست پیداوار میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔سپلائی میں ہر تاخیر یا کھاد کے استعمال میں ہر کمی کا براہِ راست اثر خاص طور پر نائٹروجن پر منحصر فصلوں پر پڑ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لاطینی امریکا کے بعض کسان اب کم نائٹروجن استعمال کرنے والی فصلوں کی طرف منتقل ہونے پر غور کر رہے ہیں۔اسی تناظر میں جنوبی ایشیا اور مشرقی افریقہ میں بڑھتی ہوئی تشویش بھی قابلِ فہم ہے جہاں نہ تو بڑے ذخائر موجود ہیں اور نہ ہی ایسے متبادل ذرائع جو بروقت دستیاب ہو سکیں۔یہ بحران صرف یوریا تک محدود نہیں بلکہ خلیجی خطے سے گزرنے والی سلفر اور فاسفیٹ سے متعلقہ مواد کی بڑی مقدار اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگر بحران طویل ہوا تو کھاد کی دیگر اقسام بھی دباو کا شکار ہو سکتی ہیں۔سب سے بڑا خطرہ سپلائی کے وقت سے جڑا ہوا ہے۔ اگر کھاد کاشت کے موزوں وقت کے بعد پہنچے تو فصلیں اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتیں جس کے باعث کسان یا تو کھاد کی مقدار کم کر دیتے ہیں یا فصلوں کا انتخاب تبدیل کر لیتے ہیں۔
عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ کھاد کی فراہمی میں معمولی کمی بھی پیداوار میں دوگنا کمی کا سبب بن سکتی ہے، کیونکہ کھاد اور پیداوار کے درمیان تعلق غیرخطی (linear Non) ہوتا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق اس تنازع کے زمینی حقائق سامنے آنے لگے ہیں۔یوریا کی کمی نے لاطینی امریکا میں کسانوں کو مکئی کی دوسری فصل چھوڑنے پر مجبور کردیا ہے جبکہ افریقہ میں کسان ایک”اہم مرحلے“ سے گزر رہے ہیں جو بڑے نقصانات کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ یوکرین میں کسان زیرِ کاشت رقبہ کم کر رہے ہیں اور قیمتیں بڑھا رہے ہیں جبکہ اس سیزن میں 5 سے 10 فیصد تک پیداوار کم ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث زرعی مشینری کا استعمال کم ہو گیا ہے جس سے کٹائی میں تاخیر کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔خلیجی ممالک میں کارخانوں کی بندش نے عالمی سطح پر سپلائی کم کر دی ہے جبکہ بنگلادیش اور پاکستان میں کچھ چھوٹے کسان گندم اور دیگر اناج کے بجائے کم نائٹروجن والی فصلیں جیسے دالیں اگانے پر غور کر رہے ہیں، جس سے آئندہ سال اناج کی مجموعی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔
انشورنس اور شپنگ اخراجات میں اضافے کے باعث متبادل راستوں (جیسے’ راسِ رجاءالصالح‘ افریقی براعظم سے گھوم کر جانے والا راستہ) سے ترسیل میں زیادہ وقت لگ رہا ہے، جس سے قیمتوں میں اضافہ حقیقی قلت میں تبدیل ہورہا ہے۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر یورپی یونین کھاد اور ایندھن کی اضافی لاگت کا 50 فیصد تک سبسڈی دینے کے منصوبے پر غور کررہی ہے۔ بھارت نے بھی کسانوں کو سہارا دینے کے لیے کھاد پر سبسڈی میں 11.6 فیصد اضافہ کردیا ہے۔ چین کے پاس اگرچہ بڑے ذخائر موجود ہیں اور وہ مقامی کوئلے پر انحصار کرتا ہے تاہم امکان ہے کہ وہ بہار کے موسم کے بعد اپنی برآمدات کم کر دے، جس سے عالمی منڈی میں اس کا کردار محدود ہوجائے گا۔ امریکا اپنی مقامی پیداوار کے باعث نسبتاً کم متاثر ہے، اگرچہ وہاں بھی قیمتوں میں اضافہ ممکن ہے۔ دوسری جانب اقوامِ متحدہ نے ہرمز کے ذریعے کھاد بردار جہازوں کے لیے محفوظ راہداری کھولنے کی تجویز پیش کی ہے تاہم یہ منصوبہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔
آگے کیا ہوگا؟ ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جاتا ہے تو اثرات زیادہ تر قیمتوں میں اضافے تک محدود رہ سکتے ہیں اور ذخائر یا متبادل ذرائع اس خلا کو پُر کرسکتے ہیں۔ لیکن اگر بحران کئی ماہ تک جاری رہا تو کھاد کے کم استعمال کے باعث 2026ء، 2027ء کے زرعی سیزن میں پیداوار کم ہوجائے گی جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر حقیقی قلت پیدا ہوسکتی ہے اور مزید لاکھوں افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہوسکتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ صرف ایک جغرافیائی یا سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ یہ عالمی غذائی نظام کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکی ہے۔ ایسا خطرہ جو آنے والے مہینوں میں دنیا بھر کے کھانے کی میزوں پر واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔

