ٹارگٹڈ ریلیف پیکیج کی تیاریاں’ پیٹرولیم قیمتیں بڑھنے کے خدشات برقرار

اسلام آباد/لاہور:ہائی اوکٹین کے ایک لیٹرپر پیٹرولیم لیوی 100 روپے سے بڑھا کر 300 روپے کردی گئی۔ فیصلے سے پبلک ٹرانسپورٹ اور ہوائی جہازوں کے کرایوں میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وڈیو لنک اجلاس میں امیر ترین طبقے کے زیر استعمال لگژری گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی اوکٹین فیول کے حوالے سے اہم فیصلہ کیا گیا۔وزیراعظم نے کہا کہ ہائی اوکٹین فیول پر لیوی بڑھنی چاہیے، وزیراعظم نے لیوی جوکہ 100 روپے فی لیٹر ہے، اس میں 200 روپے مزید فی لیٹر اضافے کا فیصلہ کردیا۔

مہنگی ترین گاڑیوں میں ڈلنے والے ہائی اوکٹین فیول پر اب سے 300 روپے فی لیٹر لیوی کا اطلاق ہوگا۔فیصلے سے حکومت کو 9 ارب روپے ماہانہ بچت ہو گی اور وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق عوام کو اس بچت سے ریلیف دیا جائے گا۔

قبل ازیں حکومت کی جانب سے مٹی کا تیل 70 روپے 73 پیسے فی لیٹر مزید مہنگا کردیا گیا۔عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث پاکستان میں مٹی کاتیل 70 روپے 73 پیسے فی لیٹر مہنگا کردیا گیا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق اس اضافے کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 428 روپے 74 پیسے فی لیٹر ہوگئی۔ قیمت میں اضافے کااطلاق فوری کردیا گیا۔ گزشتہ ہفتے بھی مٹی کا تیل 39 روپے 20 پیسے فی لیٹر مہنگا کیا گیا تھا۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے عیدالفطر کے موقع پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ صورتحال یوں ہی بگڑتی رہی تو تیل کی قیمتوں میں اضافے کا امکان رد نہیں کیا جاسکتا۔

گزشتہ روز قوم سے خطاب میں شہبا زشریف نے کہا کہ دنیا مشکل حالات سے دوچار ہے ،خطے میں جنگ نے عالمی معیشت اور امن کو جھنجھوڑکر رکھ دیا ہے،بحران سے متعلق خدشات ہر لمحے کے ساتھ بڑھتے جارہے ہیں۔

عالمی مارکیٹ میں خلیجی تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ احساس ہے کہ تیل کی قیمتوں میں 55 روپے اضافے سے عوام کی زندگی متاثر ہوئی ہے ،بہت سے گھرانوں کو ضروریات زندگی پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

دریں اثناء وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ کشیدگی اور ممکنہ جنگی حالات کے باعث توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔وسائل لامحدود نہیں، چیلنجز کے باوجود ملک میں استحکام اور سپلائی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

مستحق طبقات کے لیے ایک ٹارگٹڈ ریلیف پیکیج تیار کیا جا رہا ہے جبکہ عوام اور ماہرین سے تجاویز بھی طلب کی گئی ہیں تاکہ بہتر پالیسی سازی ممکن ہو سکے۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پٹرولیم، آئی ٹی اور خزانہ سمیت تمام متعلقہ وزارتیں مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہیں تاکہ معاشی چیلنجز کا موثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ اس ہفتے پیٹرول کی قیمت میں 150 روپے اور ڈیزل میں 250 روپے تک کے اضافے کو روکا گیا ہے جبکہ حکومت نے 69 ارب روپے کا بوجھ خود برداشت کیا تاکہ عوام پر اضافی دبا نہ پڑے۔

ان کا کہنا تھا کہ سپلائی سسٹم کو مکمل طور پر مانیٹر کیا جا رہا ہے اور توقع ہے کہ اپریل تک سپلائی کی صورتحال بہتر ہو جائے گی۔محمد اورنگزیب نے کفایت شعاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

قبل ازیں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے پیٹرول کی قیمت میں 150 اور ڈیزل میں 250 روپے اضافہ روکا گیا، آنے والے دنوں میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں، ہم سب کو مل کر بچت کے حوالے سے آئندہ کا لائحہ عمل بنانا ہوگا۔

وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیر توانائی علی پرویز ملک نے لاہور میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈی کے حساب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کیا جاتا ہے، ہمیں ہر حال میں تیل کی بچت کو ممکن بنانا ہے۔

وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ خطے میں اس وقت کشیدگی کا سامنا ہے، وزیراعظم نے اپنی پوری ٹیم کو اکٹھا کر کے کفایت شعاری کی اور عید کی خوشیوں کومد نظر رکھتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو برقرار رکھا، وزیراعظم کی ٹیم کی مراعات میں کٹوتیاں کی گئیں، کفایت شعاری کے باعث اس ہفتے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے آگے بند باندھا گیا۔