تیسری و آخری قسط:
معافی کا خواستگار ہوں کہ اصل موضوع کی طرف آنے سے پہلے عالم اسلام اور پاکستان میں اسلامی نظام حیات اور مغربی فلسفہ کی کشمکش کا تعارف قدرے تفصیل کے ساتھ آپ حضرات کے سامنے لانا پڑا لیکن جب مغربی فلسفہ کی یلغار کے حوالہ سے دینی صحافت کی ذمہ داریوں پر بحث مقصود ہے تو اس یلغار کے مالہ و ما علیہ پر ایک نظر ڈال لینا ضروری تھا۔ اس پس منظر میں دینی صحافت کی سب سے اہم اور بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ
٭اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش کے عالمی تناظر میں دنیا کے واقعات، حقائق، مسائل اور مشکلات کو سامنے لائے اور اپنے قارئین کو ان سے آگاہ کرے۔ ٭اسلام کے خلاف کام کرنے والی لابیوں اور تنظیموں کی نشاندہی کرے اور ان کے طریق واردات کو بے نقاب کرے۔ ٭انسانی حقوق کے حوالہ سے اسلامی احکام و قوانین پر کیے جانے والے اعتراضات و شبہات کا جائزہ لے کر علمی و تحقیقی انداز میں ان کا جواب دے۔ ٭مغربی تہذیب و فلسفہ نے انسانی معاشرہ کو جن پریشانیوں، مشکلات اور مسائل سے دوچار کر رکھا ہے، تجزیہ و تحقیق کے حوالہ سے ان کو سامنے لائے اور پورے اعتماد و حوصلہ کے ساتھ ان خرابیوں کو اجاگر کر کے رائے عامہ کو ان سے روشناس کرائے۔ ٭دینی حلقوں کے انتشار کو کم کرنے اور باہمی مشاورت و اشتراک عمل کو فروغ دینے کی کوشش کرے۔ ٭اپنے محدود دائرہ پر قناعت کرنے کے بجائے اسے وسعت دینے کا اہتمام کرے اور ان مقامات تک موثر رسائی کی راہ نکالے جو مغربی فلسفہ کی اس یلغار کو روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ٭علماء کرام، خطبائ، مبلغین اور دینی کارکنوں کی غالب اکثریت جو دینی مدارس میں فکری تربیت اور ذہن سازی کے فقدان کے باعث مذکورہ فکری و نظریاتی کشمکش اور اس کے تقاضوں سے بے خبر ہے، اس کی ذہن سازی اور فکری راہنمائی و تربیت کو اپنی ترجیحات میں بنیادی اہمیت دے۔
یہ سارے وہ کام ہیں جو موجودہ حالات میں دینی صحافت کی ذمہ داریوں کے ضمن میں آتے ہیں۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ دینی صحافت کا موجودہ ڈھانچہ اپنی ہیئت اور ترجیحات کے حوالہ سے ان امور کو اہمیت نہیں دے پارہا جس کی ضرورت ہے۔ اس امر کی مزید وضاحت کے لیے ضروری ہے کہ دینی صحافت کے موجودہ دائرہ کار پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے۔ ہمارے ملک میں شائع ہونے والے دینی جرائد کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
١۔ بعض جرائد مختلف دینی جماعتوں کے آرگن کے طور پر شائع ہوتے ہیں۔
٢۔ بعض جرائد دینی حوالہ سے کام کرنے والی بعض شخصیات کے ترجمان ہیں۔
٣۔ بعض جرائد علمی اداروں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
٤۔ اور بعض جرائد وہ ہیں جو مسالک اور مکاتب فکر کے حوالہ سے خدمات سر انجام دیتے ہیں۔
ظاہر بات ہے کہ ان کی ترجیحات بھی اپنے اپنے مقاصد کے حوالہ سے یقینا مختلف ہیں۔ ایسے جرائد جو جماعت، شخصیت، ادارہ اور مسلک کی ترجیحات کے دائروں سے بے نیاز ہو کر عالم اسلام کی مشکلات و مسائل، مغربی فلسفہ کی یلغار، اسلامائزیشن کے تقاضوں اور سیکولر لابیوں کی سرگرمیوں کی بنیاد پر اپی ترجیحات کا آزادانہ تعین کر سکیں، ہمارے معاشرہ میں نہ ہونے کے برابر ہیں اور جو چند ایک ہیں خود ہمارے دینی حلقوں کا رویہ ان کے ساتھ حوصلہ افزائی کا نہیں ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ دینی جرائد جن دائروں میں کام کر رہے ہیں وہ خدانخواستہ غیر ضروری ہیں۔ ہرگز نہیں بلکہ ان میں سے ہر کام کی ضرورت اپنے دائرہ میں مسلم ہے جس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، البتہ ترجیحات کا معاملہ مختلف ہے اور میں بصد احترام یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اسلام اور اسلامی تحریکات کے حوالہ سے مغربی فلسفہ اور لابیوں کی ہمہ جہت یلغار کو سامنے رکھتے ہوئے ہمارے دینی جرائد کی موجودہ ترجیحات مجموعی طور پر درست نہیں ہیں اور ہمیں ان پر بہرحال نظرثانی کرنی چاہیے۔
میں نے جب محترم ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب ڈائریکٹر دعوہ اکیڈمی کی خدمت میں دینی جرائد کے مدیران کے اس سیمینار کے انعقاد کی تجویز پیش کی تھی تو میرے پیش نظر یہی بات تھی کہ ہمیں اپنی ترجیحات اور طریق کار پر باہمی مشاورت کے ساتھ نظر ثانی کرنی چاہیے اور کھلے دل و دماغ کے ساتھ ان امور کا جائزہ لینا چاہیے کہ عالم اسلام اور پاکستان کے حوالہ سے دینی صحافت سے ایک باشعور مسلمان کی توقعات کیا ہو سکتی ہیں؟ وہ توقعات اور ضروریات ہم کہاں تک پوری کر رہے ہیں؟ اس راستہ کی مشکلات اور رکاوٹیں کیا ہیں؟ اور ضروریات اور کام کے درمیان جو خلا دکھائی دے رہا ہے اس کو پر کرنے کے لیے ہم کیا کچھ کر سکتے ہیں؟
اس موقع پر میں اپنی تجویز کا دوسرا حصہ سیمینار کے معزز شرکاء کی خدمت میں پیش کرنا مناسب سمجھوں گا جو دعوة اکیڈمی کے لیے نہیں بلکہ شرکائے سیمینار کے لیے ہے کہ مشاورت کو مستقل شکل دینے کی کوئی عملی صورت نکالنی چاہیے۔ میرا خیال ہے کہ اگر ہم مختلف مقامات پر سال میں دو تین دفعہ جمع ہو کر مسائل اور ضروریات کا جائزہ لے لیا کریں تو باہمی مشاورت اور رابطہ کی برکت سے ہمارے کام کی ترجیحات اور تربیت کو خودبخود صحیح سمت مل جائے گی اور ہم اپنے موجودہ کام کی افادیت میں کئی گنا اضافہ کر سکیں گے۔ اس مقصد کے لیے اگر کوئی ہلکی پھلکی سی سوسائٹی تشکیل دے لی جائے تو مناسب رہے گا۔ سوسائٹی سے میری مراد ٹریڈ یونین طرز کی کوئی ایسی تنظیم نہیں ہے جو حقوق و مفادات اور مراعات کی دوڑ میں معاصر تنظیموں کے ساتھ شریک ہو۔ بلکہ خالصتاً علمی و فکری قسم کی سوسائٹی کا قیام مقصود ہے جو دینی جرائد کے درمیان مفاہمت اور اشتراک کی فضا پیدا کرے، ایک اسٹڈی سرکل کے طور پر پیش آمدہ مسائل کا تجزیہ کر کے دینی جرائد سے وابستہ افراد کی بریفنگ اور راہنمائی کا فریضہ سر انجام دے اور باصلاحیت نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کر کے دینی صحافت میں اچھا لکھنے والے افراد کا اضافہ کرے۔ میں توقع رکھتا ہوں کہ شرکائے سیمینار طویل سمع خراشی پر معذرت قبول کرتے ہوئے میری گزارشات اور تجویز کو سنجیدہ توجہ سے نوازیں گے۔ اللہ رب العزت ہمیں اخلاص نیت کے ساتھ توفیق عمل عطا کریں اور اسلام و عالم اسلام کو درپیش مسائل و مشکلات میں امت مسلمہ کو صحیح سمت راہنمائی کی توفیق سے نوازیں، آمین۔

