مولانا شیخ ادریس کی شہادت

آج انتہائی بھاری اور دل کو چیر دینے والا دن ہے۔ دماغ سن ہو چکا ہے، زبان ساتھ نہیں دے رہی اور دل کی کیفیت الفاظ میں ڈھلنے سے انکار کر رہی ہے۔ کبھی کبھی انسان کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے، مگر کہنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ آج وہی کیفیت ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے دل کے اندر کوئی طوفان برپا ہو یا کسی نے دل مٹھی میں بند کر کے دبا دیا ہو۔ آج ہم سے ایک ایسی ہستی جدا کر دی گئی، جس کا نعم البدل زمانوں میں بھی نہیں مل سکتا۔

حضرت اقدس شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس ترنگزئی… یہ صرف ایک نام نہیں تھا، یہ ایک عہد تھا، ایک ادارہ تھا، ایک روشنی تھی جو سینکڑوں نہیں، ہزاروں دلوں کو منور کر رہی تھی۔ وہ محبتِ وطن کا عملی نمونہ تھے، فنا فی اللہ کی جیتی جاگتی تصویر تھے، تقویٰ، شرافت اور عاجزی ان کی شخصیت سے جھلکتی تھی۔ علم ان کے وجود میں یوں رچا بسا تھا جیسے خوشبو پھول میں۔ وہ صرف ایک محدث نہیں تھے بلکہ ایک ایسے معلم تھے جنہوں نے نسلوں کو سنوارا، دلوں کو جوڑا اور ایمان کو تازگی دی۔ ان کی زندگی کو اگر ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ ”خدمت” ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی اشاعت، علومِ نبوت کی ترویج، طلبہ کی تربیت اور امت کی اصلاح کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ ان کے دروسِ حدیث میں صرف الفاظ نہیں ہوتے تھے، وہاں روحانیت ہوتی تھی، وہاں اخلاص ہوتا تھا، وہاں ایک ایسی تاثیر ہوتی تھی جو سننے والے کے دل میں اتر جاتی تھی۔ جو ایک بار ان کی مجلس میں بیٹھ جاتا، وہ خالی ہاتھ نہیں لوٹتا تھا۔

آج سوچتا ہوں کہ آخر ان کا قصور کیا تھا جو انہیں سر عام گولی مار کر شہید کر دیا گیا اور ان کی سفید اجلی داڑھی سے بھی حیا نہ کی گئی۔ وہ تو ایک بے ضرر انسان تھے، کسی کے لیے خطرہ نہیں تھے، بلکہ سب کے لیے خیر کا باعث تھے۔ پھر بھی انہیں اس بے دردی سے ہم سے چھین لیا گیا۔ کیا ان ظالموں کو اللہ کا خوف نہیں آیا؟ کیا انہیں اس بات کا احساس نہیں ہوا کہ وہ کس ہستی پر ہاتھ اٹھا رہے ہیں؟ ایک ایسا انسان جس کی ہر سانس دین کی خدمت میں گزری، جس کا ہر لمحہ انسانیت کے لیے تھا، اسے یوں خاموش کر دیا گیا۔ کیا وطن عزیز سے محبت کا اظہار کرنا،اس کو عالمی سطح پر ملنے والی عزت و توقیر پر مسرت کا اظہار کرنا اور اس کامیابی پر ملک کے ارباب اختیار کے حق میں حوصلہ افزائی کے دوبول بول دینا اتنا بڑا جرم ہے کہ اس پر ایک فرشتہ صفت بزرگ پر گولیاں چلادی جائیں؟ دل بار بار یہ سوال کرتا ہے کہ جب ان پر گولیاں برس رہی تھیں تو زمین کیوں نہ پھٹ گئی؟ آسمان کیوں نہ ٹوٹ پڑا؟ سورج کیوں نہ اپنی تپش سے ان ظالموں کو جلا کر خاک کر دیتا؟ مگر شاید یہ سب اللہ کی مشیت ہے، ایک آزمائش ہے، ایک ایسا امتحان جس میں ہم سب کو صبر کا دامن تھامنا ہے۔

آج واقعی ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے ہم یتیم ہو گئے ہوں۔ وہ لوگ جو اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے ان کے پاس آتے تھے، وہ کہاں جائیں گے؟ وہ دل جو ان کی نصیحتوں سے سکون پاتے تھے، اب کس کے در پر دستک دیں گے؟ ہماری اصلاحِ باطن کا ذریعہ کون بنے گا؟ یہ خلا صرف ایک انسان کا نہیں، ایک پورے نظام کا خلا ہے، جو شاید کبھی مکمل نہ ہو سکے۔اے میرے رب! ہم تیرے ہر فیصلے پر راضی ہیں، کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ تو جو کرتا ہے، بہتر کرتا ہے۔ اب ہم کس کے سامنے اپنا درد بیان کریں؟ اے اللہ تو ہی تو ہے جو دلوں کے حال جانتا ہے، تو ہی تو ہے جو ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑتا ہے۔اے قہار و جبار! ان ظالموں کو نشانِ عبرت بنا دے۔ انہوں نے تیرے بندوں پر ظلم کیا ہے، تیرے دین کے خادموں کو نشانہ بنایا ہے۔ اے اللہ! اب تو ہی ان کا حساب لے۔ ان علماء کی حفاظت فرما، ان مدارس کو اپنی پناہ میں رکھ۔ آج ایسا لگتا ہے جیسے دین کے چراغوں کو ایک ایک کر کے بجھایا جا رہا ہے۔ اے اللہ! ان چراغوں کی حفاظت فرما، انہیں مزید روشن کر۔

الٰہی ہم کمزور ہیں، بے بس ہیں، ہماری کوئی طاقت نہیں، مگر ہمارا یقین مضبوط ہے کہ تو سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ تیری محبت ماں سے ستر گنا زیادہ ہے، تو اپنے بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ آج ہم تیرے سامنے ہاتھ اٹھا کر فریاد کرتے ہیں کہ ان حالات کو بدل دے، اس ظلم کو ختم کر دے، ظالموں کو نشان عبرت بنادے اور ہمیں صبر عطا فرما۔ یا اللہ! مولانا محمد ادریس کے درجات بلند فرما، ان کی خدمات کو قبول فرما، اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔ ان کی کمی کو پورا کرنا ہمارے بس میں نہیں، مگر تو اپنی قدرت سے ایسے لوگوں کو پیدا فرما جو دین کی اس شمع کو روشن رکھ سکیں۔ آج آنکھیں نم ہیں، دل بوجھل ہے، مگر امید کا دامن ابھی بھی ہاتھ میں ہے۔ کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ اللہ کے ہاں کسی کا خون رائیگاں نہیں جاتا۔ یہ قربانیاں ایک دن ضرور رنگ لائیں گی۔ بس ہمیں صبر کرنا ہے، دعا کرنی ہے، اور اپنے آپ کو سنبھالنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس صدمے کو برداشت کرنے کی ہمت دے اور ہمیں حق پر ثابت قدم رکھے۔ آمین۔