مولانا شیخ محمد ادریس کی نماز جنازہ میں عوام کا سمندر امڈ آیا

پشاور/نوشہرہ/چارسدہ/اسلام آباد/لاہور:معروف عالم دین مولانا شیخ محمد ادریس شہید کی نمازِ جنازہ آبائی علاقے ترنگزئی میں ادا کر دی گئی جس کے بعد انہیں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔نماز جنازہ کی امامت ان کے فرزند مولانا انیس نے کرائی۔

نمازجنازہ میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سمیت ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی جس سے علاقے میں گہرے رنج و غم اور سوگ کی فضا دیکھنے میں آئی۔اس موقع پر سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے جبکہ جے یو آئی کے رضاکاروں کی بڑی تعداد بھی سیکورٹی ڈیوٹی پر مامور رہی۔

نماز جنازہ میں جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی امیر مولانا عطا الرحمان سمیت دیگر اہم قائدین نے بھی شرکت کی اور مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی۔

دریں اثناء شیخ الحدیث مولانا ادریس کے قتل کی ایف آئی آر تھانہ سی ٹی ڈی مردان میں درج کرلی گئی،ایف آئی آر کانسٹیبل شیر عالم کی مدعیت میں درج کی گئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں نامعلوم ملزمان نامزد، قتل کے ساتھ دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں،گاڑی میں مولانا ادریس،2پولیس اہلکار اور ڈرائیور تھے۔

ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے گاڑی پر پیچھے سے فائرنگ کی،فائرنگ سے مولانا ادریس شہید اور2پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

علاوہ ازیںآئی جی خیبر پختونخوا نے نامور مذہبی اسکالر شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس پر فائرنگ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے سی ٹی ڈی اورضلعی پولیس کی مشترکہ ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں جو اس واقعے کی تفصیلی تحقیقات کرے گی۔

تفتیشی ٹیمز نے موقع پر موجود سیف سٹی کیمروں کی مدد سے حملہ آوروں کی تصاویر حاصل کر لیں،دہشت گردوں کا تعاقب جاری ہے۔آئی جی خیبر پختونخواہ ذوالفقار حمیدنے کہا کہ ابتدائی شواہد کے مطابق وقوعہ ٹارگٹ کلنگ ہے، ملوث عناصر کو جلد انجام تک پہنچایا جائے گا۔

ادھرواقعے سے متعلق ابتدائی تفتیش میں غیر ملکی نیٹ ورکس کے ملوث ہونے کے اشارے سامنے آئے ہیں۔تفتیشی ذرائع کے مطابق حملہ افغان خارجی عناصر اور ایک غیر ملکی خفیہ ایجنسی کے تعاون سے کیا گیا جبکہ حملہ آوروں کے فرنٹ پر ایک کالعدم تنظیم کے ملوث ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے پس منظر میں مولانا محمد ادریس کے حالیہ بیانات کو بھی ممکنہ محرک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ابتدائی معلومات کے مطابق حملہ آوروں نے اس سے قبل بھی عالم دین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی تاہم اس بار وہ اپنے ہدف تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

تفتیشی حکام کے مطابق واقعے کی مختلف پہلوئوں سے تحقیقات جاری ہیں اور حتمی رپورٹ سامنے آنے کے بعد مزید حقائق سامنے آئیں گے۔واضح رہے کہ منگل کی صبح تقریباً 08:10 بجے تھانہ اتمانزئی (چارسدہ)کی حدود میں نامعلوم دو موٹر سائیکل سوار4 دہشت گردوں نے معروف مذہبی اسکالر اور جید عالمِ دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی۔

واقعے کے فوری بعد مولانا ادریس اور دونوں زخمی کانسٹیبلز کو ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم مولانا محمد ادریس راستے میں ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔زخمی کانسٹیبلز کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

وقوعہ کی اطلاع ملتے ہی ضلعی پولیس اورمحکمہ انسداد دہشت گردی کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔پولیس نے سیف سٹی کیمروں کی مدد سے حملہ آوروں کی شناخت کے حوالے سے اہم پیشرفت کی ہے اور ملزمان کی تصاویر حاصل کر لی گئی ہیں جن کی بنیاد پر ٹیمیں مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہیں۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ ایک منظم ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے۔ادھرمولانا محمد ادریس کی شہادت کیخلاف احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں ۔مظاہرین ترنگزئی رجڑ سے چارسدہ کی جانب چل پڑے۔چارسدہ میں حالات کشیدہ ہوگئے ‘مختلف مدارس کے طلبہ سڑکوں پر نکل کر چارسدہ فاروق اعظم چوک کی طرف بڑھتے رہے ۔

علماء کرام کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام مسلمان بھائیوں خاص طور پر ضلع چار سدہ کے لوگوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ ہر حالت میں پر امن رہیں۔یہ ہمارے اوپر بزدل دشمنوں کا وار ہے جو کہ بہت جلد اللہ تعالی بدلہ لے گا جبکہ نوشہرہ کی سیاسی، سماجی، مذہبی اور تاجر برادری نے بھی احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرین نے کئی گھنٹے شوبرا چوک پر روڈ بلاک کر کے ملزمان کی فوری گرفتاری اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔احتجاجی مظاہرے کی قیادت جمعیت علماء اسلام خیبرپختونخوا کی صوبائی مجلس شوریٰ کے رکن اور سابق ناظم مفتی حاکم علی حقانی، قاری ظہور احمد، فضل اکبر باچا، مولانا عمران اللہ حقانی، افتخار احمد خان اور جمعیت علماء پاکستان کے رہنما مولانا فضل غنی نے کی۔

ہزاروں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مفتی حاکم علی حقانی نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ سے شیخ الحدیث مولانا ادریس کے خلاف منصوبہ بندی کے تحت زبان درازی کی جارہی تھی لیکن ریاستی اور سرکاری اداروں نے ان کی حفاظت یقینی نہیں بنائی۔

عوامی حلقوں کی جانب سے صوبائی حکومت پر تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ شہریوں، خصوصاً علما ئے کرام اور مذہبی شخصیات کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔

دوسری جانب صدرِ مملکت آصف زرداری نے بھی اس افسوسناک واقعے پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بزدلانہ دہشت گردانہ اقدامات سے قوم کے حوصلے ہرگز پست نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے شہید کے اہلِ خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر کی دعا کی۔

صدر زرداری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے قومی عزم مضبوط اور غیر متزلزل ہے جبکہ دہشت گرد عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ پاکستان کو ایک پْرامن اور مستحکم ریاست بنایا جا سکے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہید کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔

وزیراعظم نے واقعے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کی جلد صحتیابی کے لیے بھی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

گورنر خیبر پختونخوا نے شیخ الحدیث مولانا ادریس کی شہادت کو صرف صوبہ ہی نہیں بلکہ ملک کا ناقابل تلافی نقصان قراردیا اور اعلیٰ حکام سے رپورٹ طلب کر لی۔

انہوں نے کہا کہ شہید کی زندگی دین کے پرچار اور امن کے فروغ میں صرف ہورہی تھی،ایسے علماء فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے آنکھوں میں کھٹکتے ہیں، قاتلوں کو عبرت کا نشان بنایا جائے گا۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ دکھ کی اس گھڑی میں صبر کا دامن نہ چھوڑیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے واقعے کا نوٹس لے کر واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پولیس حکام سے رپورٹ طلب کر لی۔وزیراعلیٰ نے شہید کے درجات کی بلندی اور لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔

اس موقع پر سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ مولانا محمد ادریس کی شہادت افسوسناک ہے، مشکل کی اس گھڑی میں لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں، مولانا ادریس کی شہادت کی خبر سن کر دل انتہائی افسردہ ہوا، متاثرہ خاندان کے غم میں پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے چارسدہ میں حملے کے دوران جے یو آئی کے سابق ایم پی اے اور ممتاز عالم دین مولانا محمد ادریس ترنگزئی کی شہادت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔

مہتمم جامعة الرشید مفتی عبدالرحیم نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے مولانا ادریس کی شہادت کو بڑا نقصان قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد خوارج پاکستان کا امن تہ و بالا کرنے کیلئے علمائے کرام کو نشانہ بنارہے ہیں مگر افواج پاکستان ان کے یہ مذموم مقاصد کبھی کامیاب نہیں ہونے دینگے۔

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر مولانا مفتی محمد تقی عثمانی سمیت دیگر اکابرین نے شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان پر حملے کو افسوسناک اور قابل مذمت قراردیا۔

وفاق المدارس کے قائدین نے کہا کہ مولانا ادریس ایک بزرگ اور نامور عالم دین تھے جن کے تلامذہ اور شاگرد ہزاروں کی تعداد میں پوری دنیا میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔وفاق المدارس کے قائدین نے کہا کہ شیخ الحدیث مولانا ادریس ایک بے ضرر عالم دین تھے جو زندگی بھر درس حدیث کی مسند پر جلوہ افروز رہے۔

وفاق المدارس کے قائدین نے مطالبہ کیا کہ شیخ الحدیث مولانا ادریس کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کرکے نشان عبرت بنایا جائے۔وفاق المدارس کے قائدین نے مطالبہ کیا کہ تمام ممتاز علمائے کرام کو فول پروف سیکورٹی مہیا کی جائے اور ریاست علمائے کرام کے معاملے میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔

وفاق المدارس کے قائدین نے جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک اور جامعہ نعمانیہ چارسدہ کی انتظامیہ،اساتذہ و طلبہ اور شیخ الحدیث مولانا ادریس کے دنیا بھر میں پھیلے شاگردوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔

وفاق المدارس کے قائدین نے تمام مساجد کے ائمہ و خطبا اور دینی مدارس کے ذمہ داران سے شہید مولانا ادریس کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کرنے کی اپیل کی ۔

علاوہ ازیںجمعیت علمائے اسلام (ف ) نے اپنے صوبائی سرپرست، شیخ الحدیث، سابق ایم پی اے، رکن مرکزی مجلس شوریٰ مولانا ادریس کے قتل کیخلاف آج ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کر دیاجبکہ ضلع میں 3دن تک تمام دینی مدارس بند رہیں گے۔

جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مولانا ادریس کی شہادت کی مذمت و افسوس کا اظہار کیا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ شیخ الحدیث مولانا ادریس کی شہادت کی خبر سے دل رنجیدہ ہے، مولانا ادریس نے اسلام اور پاکستان کے دفاع کی قیمت چکائی ہے۔

سفید ریش عالم دین کی شہادت قرآن وسنت اور پاکستان کی بات کرنے والوں پر حملہ ہے۔سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ علما پاکستان کے بے لوث نظریاتی محافظ ہیں لیکن ان کی حفاظت کا کوئی انتظام نہیں۔ مولانا ادریس شہید نے ہمیشہ امن کی بات کی، افسوس کہ آج وہ خود بدامنی کا شکار ہوگئے۔

مولانا فضل الرحمان نے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو فوری گرفتار کرکے نشان عبرت بنایا جائے، لاقانونیت اور دہشت گردی حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے۔

ادھر مولانا عطا الرحمان نے کہا کہ ہم کب تک جنازے اٹھاتے رہیں گے، ریاست شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت عوام کو سیکورٹی فراہم نہیں کر سکتی تو پھر اس کا وجود کیوں برقرار ہے۔

خیبر پختونخوا بار کونسل نے بھی ممتاز عالم دین شیخ محمد ادریس کی المناک شہادت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے وفاقی و صوبائی حکومتوں اور سیکورٹی اداروں سے دہشت گرد عناصر، ان کے سہولت کاروں اور ان کے تمام ٹھکانوں کے خلاف بلا امتیاز فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا۔

بار کونسل کے بیان میں کہا گیا کہ دہشت گردی کی جڑوں کا خاتمہ وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے’خاموشی مزید تباہی کو جنم دے گی۔ خیبر پختونخوا بار کونسل کے پی آر اونواز خان عادل کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ خیبر پختونخوا بار کونسل ممتاز عالم دین شیخ محمد ادریس کی المناک شہادت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔

یہ افسوسناک واقعہ نہ صرف ایک عظیم دینی و سماجی شخصیت کے قتل کا سانحہ ہے بلکہ پورے معاشرے کے امن، استحکام اور انسانی اقدار پر حملہ ہے۔