مڈل کلاس والوں کا سب سے بڑا دھوکا

پچھلے سال گرمیوں کی بات ہے، ایک شادی میں شریک ہوا۔ ایک معروف شادی ہال میں تقریب تھی۔ کھانے کا وقت ہوا، لوگ تیزی سے لپکے اور جیسا کہ عام طور سے ہوتا ہے، رش لگ گیا۔ میرے جیسے چند لوگ خاموشی سے انتظار میں کھڑے ہو گئے، وہاں ایک جاننے والے سے ملاقات ہوگئی۔ آئی ٹی کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ خوشحال، لاہور کے ایک پوش علاقے میں ذاتی مکان ہے، دوبیٹے ہیں۔ گپ شپ شروع ہوئی تو مہنگائی کا ذکر ہونے لگا۔ بولے، یار بجلی کا بل پچھلے مہینے 21 ہزار آیا۔ اخراجات بے پناہ ہو چکے ہیں، گزارا نہیں ہوتا۔ یہ ملک رہنے کے قابل نہیں رہا۔ میں نے پوچھا، پھر کیا ارادہ ہے؟ کہنے لگے، بڑے بیٹے کو انگلینڈ بھجوا رہا ہوں، میں خود بھی کینیڈا اپلائی کر رہا ہوں، شاید اگلے سال چلے جائیں۔ مجھے یہ سن کر قدرے حیرت ہوئی۔ ویسے تو باہر چلے جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں، لوگ جاتے رہتے ہیں، مگر یہ صاحب ٹھیٹھ مذہبی نظریات کے حامل رہے ہیں، اکثر مغرب کے حوالے سے سخت تنقیدی منفی رائے کا اظہار کرتے رہتے۔ میں نے ان سے پوچھا، وہ تو ٹھیک ہے، مگر آپ تو کہا کرتے تھے کہ مغرب میں لوگ اللہ کو مانتے ہی نہیں، بچے وہاں راہ سے بھٹک جاتے ہیں، اس لیے اپنے کلچر میں رہنا چاہیے۔ یہ رائے اب بدل گئی کیا؟ وہ ایک لمحے کو رکے، پھر شرمندہ شرمندہ مسکراہٹ کے ساتھ کھانے کی طرف بڑھ گئے۔ میں نے بھی مزید کچھ نہ پوچھا، پلیٹ میں کھانا نکالا اور دوسری طرف چل دیا۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی مڈل کلاس کے بے پناہ تضادات پر کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ پاکستانی مڈل کلاس مذہب بھی چاہتی ہے اور اپنی ذاتی زندگی میں ایک خاص انداز کا لبرل ازم بھی۔ یہ طبقہ مغرب کو گالیاں بھی دیتا ہے اور ویزا بھی لینے بھاگتا ہے۔ ایک لیڈر کو بڑے جتن سے لاتا ہے اور پھر اسی کو اتارنے کی تحریکیں چلاتا ہے۔ مہنگائی کے شکوے کرتا ہے، حکومت پر غصہ نکالتا ہے مگر جس کا جہاں بس چلے وہاں خود مہنگائی کر دیتا ہے۔ دودھ والا پانی ملاتا ہے، ڈاکٹر غیر ضروری مہنگے ٹیسٹ لکھتا ہے، وکیل کیس لمبا کرتا ہے، دکاندار کا جہاں دا لگے، وہ زیادہ قیمت لے گا۔ سب ایک دوسرے کو لوٹ رہے اور شکایت بھی کر رہے ہیں۔

تضاد صرف عمل اور دعوے میں نہیں بلکہ خواہشات میں بھی ہے۔ ایک پاکستانی مڈل کلاس آدمی بیک وقت یہ سب کچھ چاہتا ہے: بیٹی ڈاکٹر بنے، مگر شادی کے بعد نوکری نہ کرے۔ ہمیشہ یہ شکوے کہ سیاست میں گند ہے، لیکن کوئی اچھا پڑھا لکھا، شریف آدمی الیکشن لڑے تو اسے ووٹ نہیں دینا کہ اس کا سیاست میں کیا کام۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ طبقہ برا ہے، دراصل یہ الجھا ہوا اور کنفیوز ہے۔ اس کا تاریخی پس منظر بھی ہے۔ پاکستانی مڈل کلاس پچھلے پچاس ساٹھ سال میں بنی ہے۔ دو چار فیصد لوگ تو زیادہ پڑھ لکھ کر پروفیشنل بنے جیسے ڈاکٹر، انجینیئر، بینکر، وکیل، چارٹر اکانٹنٹ، آئی ٹی پروفیشنل وغیرہ، یوں ان کی زندگی میں خوشحالی آئی۔ زیادہ تر مگر خلیجی ممالک میں کام کرنے والے پاکستانیوں کی ترسیلات زر سے خوشحال ہوئے۔ ایک اندازے کے مطابق پچھلی چار دہائیوں میں کئی سو ارب ڈالر کی ترسیلات زر پاکستان آئیں، ان سے تقریبا ایک کروڑ گھرانوں کی حالت بدلی۔ یہ غربت سے نکل کر لوئر مڈل کلاس میں آ گئے۔ بیرون ملک سے کمائی کے طفیل یہ گھرانے گاؤں سے شہر آئے، دس مرلے کا گھر خریدا، گاڑی لی، بچوں کو پرائیویٹ اسکول میں ڈالا۔ ان کی قدریں یا ویلیوز مگر گاؤں سے آئی تھیں، ان کی دنیا شہر کی تھی جبکہ ان کا خواب ویسٹ جانے کا تھا۔ یہ تین دنیاؤں میں بیک وقت جینے کی کوشش ہے۔ یہی وہ تضاد ہے جو اس طبقے کی شناخت بن چکا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی طبقہ سیاست میں بھی سب سے زیادہ فعال ہے اور سب سے زیادہ کنفیوز بھی۔ میں نے خود پنجاب میں اسی مڈل کلاس، لوئر مڈل کلاس کو مسلم لیگ ن اور شریف خاندان کی سپورٹ کرتے دیکھا۔ پھر بعد میں یہی طبقہ شریف خاندان کا ایسا مخالف ہوا کہ آج وہ کچھ بھی اچھا کام کر لیں، نظر میں ٹکتا ہی نہیں۔ 2011میں پی ٹی آئی کا عروج بھی یہی طبقہ لے آیا۔ لاہور کا وہ جلسہ جس نے سیاست کا رخ بدل دیا، اسی شہری مڈل کلاس نے بھرا۔ پھر 2013، 2018میں پی ٹی آئی کو ووٹ دیا۔ پھر2021اور 2022میں یہی لوگ کہنے لگے کہ کچھ نہیں کیا اس نے، اتر جانا چاہیے۔ اپریل 2022کو جب عدم اعتماد کی تحریک آئی تو مڈل کلاس کا ایک حصہ خوش تھا۔ پھر جب تحریک انصاف پر کریک ڈاؤن ہوا تو یہی طبقہ سڑکوں پر نکل آیا۔ آٹھ فروری 2024کے الیکشن میں پھر پی ٹی آئی کو ووٹ دیا۔ آج دو 2026میں حال یہ ہے کہ یہی لوگ پی ٹی آئی کے ہر دوسرے لیڈر کو غدار اور کمپرومائزڈ قرار دے رہے ہیں۔ سوائے خان صاحب کے پوری پارٹی میں شاید کوئی بھی قابل اعتبار نہیں بچا۔

آج اسی مڈل کلاس کے لوگ باہر جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ پچھلے ایک سال میں آٹھ لاکھ سے زیادہ پاکستانی ملک چھوڑ گئے۔ مزے کی بات ہے کہ یہی لوگ جو پاکستان کو چھوڑ رہے ہیں، وہ باہر جا کر پاکستانی قوم پرستی کا علمبردار بنتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر پاکستان کی ترقی کے چرچے، کرکٹ کے میچز میں سبز پرچم، یومِ آزادی پر ٹورنٹو، ہیوسٹن، لندن میں ریلیاں۔ جو ملک انہیں راس نہیں آیا، وہی ملک اب ان کی شناخت کا مرکز بن گیا۔

ایک اور چیز جو اس طبقے کی شناخت بنی ہے، وہ ہے احساسِ محرومی۔ یہ لوگ خود کو ہمیشہ محروم سمجھتے ہیں۔ مالی طور پر جتنا بھی ہو، یہ ناکافی ہے۔ سماجی طور پر جتنی بھی عزت ملے، یہ کم ہے۔ سیاسی طور پر جتنی بھی نمائندگی ہو، یہ بے معنی ہے۔ یہ احساس محرومی اصل میں اس تضاد سے پیدا ہوتا ہے کہ یہ طبقہ خود کا بالائی طبقے سے موازنہ کرتا ہے۔

میں نے مڈل کلاس کے خلاف اتنی باتیں لکھ ڈالیں، مگر یہ بھی یاد رکھیں کہ یہی طبقہ ملک کی ریڑھ کی ہڈی بھی ہے۔ یہی پاکستان کی سیاسی، معاشی اور ثقافتی شکل طے کرتا ہے۔ دنیا کی ہر ترقی یافتہ قوم کی بنیاد مڈل کلاس نے رکھی ہے۔ یورپ کا صنعتی انقلاب، امریکا کا گلوبل ایمپائر بننا، جاپان کی ترقی، جنوبی کوریا کا کرشمہ، چین کا معاشی سپر پاور بننا، ہر جگہ مڈل کلاس کا مرکزی کردار رہا۔ یہ طبقہ جب حقیقت پسند ہو جائے، جب یہ اپنے تضادات کو تسلیم کر کے ان سے نکلنے کی کوشش کرے، تب تبدیلی آتی ہے۔ پاکستانی مڈل کلاس ابھی اس مقام پر نہیں پہنچا۔