حکومت کی جانب سے سولر پینلز استعمال کرنے والے صارفین کے لیے میٹرنگ کے متنازع فیصلے کے بعد پروٹیکٹڈ (چھوٹے ) صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد کرنے کی تجویز سامنے آ گئی۔نیپرا میں بجلی کے نئے ٹیرف کیلئے پاور ڈویڑن کی درخواست پر سماعت ہوئی جس دوران نئے ٹیرف میں پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈصارفین کیلئے فکسڈ چارجز تجویز کیے گئے جبکہ کراس سبسڈی کو کم کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ دوسری طرف پارلیمنٹ کے ایوان بالامیں سینیٹرڈاکٹر زرقا سہر وردی کی نیٹ میٹرنگ لائسنسنگ سے متعلق قرارداد مسترد کر دی گئی، قرارداد پر حکومتی اتحادی و اپوزیشن ارکان نے کہا کہ اگر نیٹ میٹرنگ ختم کرنا تھی تو شروع کیوں کی تھی، عوام سے وعدہ کیا گیا تھا کہ آپ سولر لگائیں گے تو ہم آپ کو فائدہ دیں گے، عوام پر بم گرایاگیاہے، چیئرمین نیپراکو سینیٹ میں بلائیں اورجیل بھیجیں ۔
ملکی معیشت میں عدم استحکام کے جہاں متعدد عوامل ہیں، وہاں ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہماری معاشی پالیسیوں اور انتظامی معاملات میں استحکام، تسلسل، شفافیت اور جامعیت کا شدید فقدان پایا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پچیس کروڑ کی آبادی کے ملک کا نظام معیشت و انتظام چلانے کیلئے طویل المدتی پالیسیاں بنانے اور ان پر عملدرآمد کی بجائے عموماً مختصر مدت کیلئے پالیسیاں تشکیل دینے کی ہی دفع الوقتی کی روایت چلی آرہی ہے اور ہر کچھ عرصے بعد ایک نئی پالیسی نافذ کردی جاتی ہے۔ عالم یہ ہے کہ جب ایک حکومت اپنی ترجیحات کے مطابق کسی شعبے میں ایک پالیسی وضع کرتی ہے تو کچھ عرصے بعد نئی حکومت آ کر پیشرو حکومت کی بنائی گئی پالیسی پر خط تنسیخ پھیر دیتی ہے اور نئے سرے سے پالیسی ترتیب دیتی ہے۔ اس سارے عمل کے دوران نہ صرف پہلی پالیسی اور اس پر عمل درآمد کے ڈھانچے کی تشکیل میں ہونے والے اخراجات ضائع ہو جاتے ہیں، بلکہ نئی پالیسی سازی اور اس پر عمل درآمد کیلئے مزید اخراجات اٹھانے پڑتے ہیں اور یہ غیر سنجیدہ اور فرسودہ طرز حکمرانی شروع سے چلی آرہی ہے اور المیہ یہ ہے کہ کسی بھی حکومت اور رہنما کو قومی خزانے کے اس بدترین ضیاع کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ بات یہیں تک محدود نہیں، صورتحال یہ ہے کہ ایک ہی حکومت کے دور میں بھی طویل المدتی منصوبہ بندی کی بجائے مختصر مدت کے فیصلے کیے جاتے ہیں اور کچھ عرصے بعد ان فیصلوں کو روک کر یا ختم کر کے نئی پالیسی لائی جاتی ہے۔ اس عدم تسلسل کی روایت نے نہ صرف معیشت بلکہ انتظامیہ کو بھی متاثر کیا ہے۔ نتیجتاً نہ معیشت سنبھل پا رہی ہے اور نہ انتظامیہ میں ٹھہراؤ، شفافیت اور کارکردگی میں کوئی بہتری آ رہی ہے۔
یہی وجوہات ہیں کہ آج بجلی کے مسائل جیسے اہم شعبے میں بھی پالیسیوں کا بار بار بدلنا معمول بن گیا ہے۔ نیٹ میٹرنگ کا معاملہ اس کا واضح ثبوت ہے۔ کبھی میٹر ریڈنگ کو مسائل کے حل کیلے امرت دھارا مان لیا جاتا ہے، کبھی اسے ختم کرکے اس کی جگہ کوئی اور پالیسی اختیار کی جاتی ہے۔ ٹیرف میں مسلسل تبدیلیاں کی جاتی ہیں اور پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ صارفین کیلئے مقرر کردہ ریلیف بھی زیر بحث آجاتا ہے۔ اب یہی دیکھیں کہ پروٹیکٹڈ صارفین کیلئے ماہانہ 100 یونٹ پر 200 روپے، 200 یونٹ پر 300 روپے فکسڈ چارجز کی تجویز سامنے آئی ہے جبکہ نان پروٹیکٹڈ صارفین کیلئے ماہانہ 100 یونٹ تک 275 روپے، 200 یونٹ تک 300 روپے، اور 300 یونٹ تک 350 روپے تک فکسڈ چارجز عائد کرنے کی تجویز ہے۔ یہ اقدام اس حقیقت کے باوجود کیا جا رہا ہے کہ پروٹیکٹڈ صارفین کی کیٹیگری خاص طور پر غریب اور کم آمدنی والے افراد کو ریلیف دینے کیلئے تشکیل دی گئی تھی۔ اس سے انہیں زندگی کی مشکلات میں معمولی سہی ایک مدد مل رہی تھی، مگر اب حکومتی تجاویز اس ریلیف کو محدود کرنے کی طرف جا رہی ہیں۔ اس طرح کی پالیسیاں نہ صرف عوام کے لئے بھاری مالی بوجھ پیدا کرتی ہیں بلکہ طویل المدتی معاشی استحکام کی راہ میں بھی رکاوٹ بنتی ہیں۔
بجلی کے ٹیرف کے حوالے سے نئی حکومتی تجاویز اس قدر بوگس ہیں کہ سینیٹ میں ڈاکٹر زرقا سہروردی کی نیٹ میٹرنگ لائسنسنگ سے متعلق قرارداد پر بحث میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان دونوںنے متحد ہو کر اس پر تنقید کی ہے۔ سینیٹر علی ظفر نے بجا کہا کہ عوام نے حکومت کی ہی پالیسی سے متاثر ہوکر لاکھوں روپے کے سولر پینلز پر سرمایہ کاری کی، قرض لے کر چھتوں پر سولر لگوائے، مگر اب حکومت اپنی ترجیحات بدل رہی ہے اور وعدہ خلافی پر اتر آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کا مافیا مہنگی بجلی بیچ رہا ہے اور نیپرا کے اقدامات عوام کیلئے بم کے مترادف ہیں۔ سینیٹر ذیشان خانزادہ نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ ملک میں صنعتیں بند کرنا چاہتی ہے اور معیشت کو زرمبادلہ پر چلانا چاہتی ہے۔ یہ بحث اس بات کی مظہر ہے کہ ملک میں طویل المدتی منصوبہ بندی اور پالیسیوں میں تسلسل کی شدید کمی ہے۔ مختصر مدتی فیصلے، کبھی میٹرنگ، کبھی فکسڈ چارجز اور بار بار ٹیرف کی تبدیلیاں نہ صرف عوام کیلئے پریشانی پیدا کرتی ہیں بلکہ معیشت میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بھی غیر یقینی بناتی ہیں۔ اگر حکومت واقعی معاشی استحکام چاہتی ہے تو ضروری ہے کہ طویل المدتی پالیسیاں تشکیل دی جائیں، شفافیت اور ذمہ داری کو فروغ دیا جائے اور عوام کو جو معمولی ریلیف پہلے سے حاصل ہے، اسے برقرار رکھا جائے۔
اس سلسلے میں اصلاحات معاشرتی انصاف کے نقطہ نظر سے بھی ناگزیر ہیں۔ غریب عوام کے منہ سے نوالہ چھین کر کسی خاص طبقے کو فائدہ پہنچانا یا بین الاقوامی سرمایہ کاری کیلئے عام آدمی کے حقوق کو نظر انداز کرنا ملک کے سماجی ڈھانچے کیلئے سنگین خطرہ ہے۔ پالیسیوں میں تسلسل، شفافیت اور جامعیت موجود ہو تو نہ صرف معیشت مستحکم ہو سکتی ہے بلکہ عوام بھی مطمئن رہیں گے اور سرمایہ کاری کا ماحول بھی بہتر ہوگا۔بار بار پالیسی بدلنے کی روایت جاری رہی تو نہ صرف معیشت متاثر ہوگی بلکہ عوام کا اعتماد بھی کمزور ہوگا۔ سرمایہ کار غیر یقینی ماحول کی وجہ سے ملک سے دور رہیں گے، جبکہ عام صارف روزانہ کی بنیاد پر بڑھتے ہوئے بلوں اور غیر مستحکم پالیسیاں دیکھ کر پریشانی کا شکار ہوگا۔ یہ بھی لمحہ فکریہ ہے کہ ایک طرف حکومت دھڑلے سے معاشی استحکام اور ترقی کے دعوے کر رہی ہے اور دوسری طرف عالم یہ ہے کہ عوام کو دی گئی معمولی معمولی مراعات بھی حیلے بہانوں سے واپس لی جا رہی ہے۔ اگر معیشت مستحکم ہو رہی ہے تو اس کا تقاضا عوام کو ریلیف دینے کا ہے، اگر ریلیف نہیں مل رہا تو سوچنے کی بات ہے کہ معاشی ترقی کے ثمرات آخر کس کے آنگن میں اتر رہے ہیں؟

