فلسطینیوں کا مقدمہ اور مسلم ممالک کا فرض

پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک نے اسرائیل کے ہاتھوںغزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اورفلسطینیوں کے حقوق کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ پاکستان ، سعودی عرب ، ترکیہ، قطر ،مصر،اردن،متحدہ عرب امارات اورانڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے غزہ میں اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر تشدد اور ان کے گھر مسمار کرنے جیسے اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی اقدامات بین الاقوامی قانون کی صریحا خلاف ورزی ہیں اور ان کا مقصد فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین سے بے دخل کرنا اور اسرائیلی قبضے کا مستحکم کرنا ہے۔

اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کے ظالمانہ اقدامات کی مذمت و مخالفت کی سفارتی دنیا میں اپنی جگہ ایک اہمیت ہے اور اگر چند اسلامی ممالک نے مل کر مظلوم فلسطینیوں کا مقدمہ دنیا کے سامنے پیش کیا ہے تو اس کے پیچھے کارفرما نیک جذبے کی بھی ستائش کی جانی چاہیے تاہم مقبوضہ فلسطین کی سرزمین سے اس وقت جس طرح کی اطلاعات مل رہی ہیں،ان کو سامنے رکھتے ہوئے اس حقیقت کا اظہار بھی ضروری ہے کہ اسلامی ممالک کی ذمہ داری صرف مشترکہ مذمتی بیان جاری کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ امر ناگزیر ہے کہ اسلامی ممالک آگے بڑھ کرایسے عملی اقدامات کریں جن کے ذریعے فلسطینیوں پر جاری بدترین مظالم کا تسلسل روکا جاسکے۔اس وقت صورت حال یہ ہے کہ نیتن یاہو کی صہیونی انتہا پسند حکومت فلسطینیوں کا نام و نشان مٹانے، آزاد فلسطینی ریاست کا تصور ختم کرنے، فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے اور سب سے بڑھ کر دنیا کے دو ارب مسلمانوں کے تیسرے بڑے حرم اور قبلہ اول بیت المقدس پر مکمل طور پر قبضہ کرنے کے لیے باؤلے پن کی حد تک کے شیطانی ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔یہ محض کوئی تجزیہ نہیں بلکہ خود صہیونی حکومت کے وزیر خزانہ سموتریش نے ایک بار پھر کھلے لفظوں میں کہا ہے کہ اسرائیل فلسطینی ریاست کے تصور کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔ غزہ میں بظاہر جنگ بندی قائم ہے لیکن اسرائیلی فوج وہاں روزانہ کی بنیاد پر ٹارگٹڈ حملے کر رہی ہے اور جنگ بندی کے آغاز سے اب تک چھ سو سے زائد فلسطینی اس بہیمیت کا نشانہ بن چکے ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں انسانی امداد کی رسائی میں رکاوٹیں بھی بدستور قائم ہیں۔

پھر صہیونی درندگی کا یہ کھیل صرف غزہ تک محدود نہیں۔ مغربی کنارے میں بھی فلسطینیوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے۔ ابھی دو روز قبل یہ خبر آئی تھی کہ نیتن یاہو کابینہ نے بین الاقوامی قانون اور فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ کئے گئے معاہدوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے مقبوضہ مغربی کنارے کے ان علاقوں میںبھی نئی صہیونی کالونیوں کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے جو معاہدے کے تحت مکمل طور پر فلسطینی اتھارٹی کے کنٹرول میں تھے، مبصرین کے مطابق اس کا مقصد دو ریاستی حل کے اس فارمولے کو بھی دفن کرنا ہے جس کو بہت سے مغربی ممالک مسئلہ فلسطین کا حل سمجھتے ہیں۔گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مغربی کنارے میں سینکڑوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل اور مزاحمت کرنے والوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ مغربی کنارے میں صہیونی آباد کار اسرائیلی فوج کی چھتری تلے دندناتے پھر رہے ہیں۔

علاوہ ازیں صہیونی ریاست کی جیلوں میں قید دس ہزار سے زائد فلسطینیوں پر بے پناہ مظالم اور اذیت رسانی کی رپورٹیں بھی مل رہی ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق فلسطینی اسیروں کو سزائے موت دینے کے لیے قابض اسرائیل نے نیا منصوبہ تیار کرلیا،قابض اسرائیلی میڈیا کی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ پیش رفت کنیسٹ میں اس قانون کے مسودے کی پہلی خواندگی میں منظوری کے بعد سامنے آئی ہے۔اسرائیلی چینل 13 کے مطابق اس منصوبے میں سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے ایک مخصوص جگہ کا قیام، خصوصی آپریشنل طریقہ کار کی تیاری اور ان قیدیوں کی تربیت شامل ہے جو اس عمل کو انجام دیں گے۔چینل کے مطابق اس منصوبے کے تحت ایک الگ مقام قائم کیا جائے گا جسے اسرائیلی سکیورٹی ادارے نے ”اسرائیلی گرین مائل ”کا نام دیاہے۔منصوبے کے تحت اسرائیل غزہ جنگ کے دوران گرفتار فلسطینی مقاومت کے سینکڑوں سرکردہ رضاکاروں کو 7اکتوبر کے حملوں میں ملوث ہونے کاالزام عائد کرکے پھانسی دینے کے خنزیر صفت صہیونی وزیر ایتمار بن گوئر کے منصوبے پر عمل کرنے کی تیاریوں میں ہے۔ اسرائیل یہ تمام تر وحشیانہ و بہیمانہ کارروائیاں دن دہاڑے، کھلے عام اور پوری ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ کر رہا ہے اورحیرت کی بات یہ ہے کہ آج کی اکیسویں صدی کی خود کو مہذب کہنے والی دنیا میں کوئی اس ولد الحرام بدمعاش ریاست کا ہاتھ روکنے والا نہیں ۔

یہ بات اپنی جگہ درست اور قابل لحاظ ہے کہ انسانیت کا ضمیر ابھی بھی زندہ ہے اور اس وقت بھی دنیا کے مختلف ممالک میں صہیونی دہشت گردی کے خلاف اور مظلوم فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔گزشتہ روز آسٹریلیامیں اسرائیلی صدر کے دورے کے موقع پر جس بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکلے اور صہیونی قاتلوں اور ان کے بین الاقوامی سرپرستوں کے خلاف احتجاج کیا، وہ انسانیت کے مستقبل کے لیے ایک امید افزا امر ہے مگر حال کا تقاضا تو بہر حال یہ ہے کہ عالمی برادری اب صہیونی غنڈی گردی کے خلاف اٹھ کھڑی ہو اور مغربی ممالک کے انصاف پسند باشندے اپنے ان حکمرانوں کا احتساب کریں جو تاحال اسرائیل کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔عالمی برادری کو صہیونی ریاست کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کو جوتی کی نوک پر رکھنے کی بدمعاشی کا بھی سدباب کرنا ہوگا تاکہ دنیا کو جنگل بننے سے بچایا جاسکے۔ خود اسلامی دنیا کے عوام و خواص پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ خواب غفلت سے کسی طور انگڑائی لیں اور فلسطینی مسلمانوں کے پشتیبان بن جائیں۔ امریکی صہیونی صدر ٹرمپ نے غزہ پیس بورڈ کے نام سے مشرق وسطی کا نقشہ بدلنے کا جو کھیل شروع کیا ہے، پاکستان سمیت ان تمام اسلامی ممالک کو جو اس کا رکن بن چکے ہیں، نہایت ہوشیاری اور احساس ذمہ داری کے ساتھ اور آنکھیں کھلی رکھ کر اس بورڈ میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور کسی بھی ایسے منصوبے کا حصہ بننے سے اجتناب کرنا ہوگا جس کا مقصد ناجائز صہیونی ریاست کو تحفظ دینا اور فلسطینیوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنا ہو۔