ملک میں حالیہ دنوں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے تسلسل میں یہ نکتہ اہمیت کا حامل ہے کہ دراصل مملکتِ خداداد پاکستان اس وقت ایک بڑی، نوعیت کے لحاظ سے ماضی سے مختلف اور تیکنیک کے اعتبار سے جدید مہارتوں پر مشتمل جنگ کی زد میں ہے جس کی کڑیاں دہلی سے تل ابیب اور کابل تک باہم جڑی ہوئی ہیں۔اس جنگ کے متعددمظاہر وہ ہیں جو کہ خود کش دھماکوں ، سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور افغان بارڈر سے ہونے والی دراندازی کے واقعات کی صورت میں عام آدمی کے سامنے موجود ہیں تاہم بہت سے معاملات پیچیدہ ریاستی، سفارتی اور دفاعی امور سے متعلق ہونے کی وجہ سے عام نگاہوں سے اوجھل رہتے ہیں۔ عام ذہن کو یہ بات سمجھنے میں دشواری ہوتی ہے کہ افغانستان سے پاکستان پر مسلط کردہ جنگ کے باوجود دہشت گردملک میں کیسے داخل ہوجاتے ہیں؟۔اس حوالے سے افواج پاکستان کے ترجمان اور دفاعی ماہرین بار ہا یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ دو ہزار چھ سو کلو میٹر طویل پاک، افغان سرحدی لائن دشوار گزار زمینی خطے پر قائم ہے جس کی مؤثر نگرانی کا عمل سہل نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک کم مزاحمتی زون ہے یعنی پوشیدہ طورپر سر حد عبور کرنے والوں کے لیے قدرتی راستے کثرت سے موجود ہیں یہی وجہ ہے کہ دہشت گردوں کو مکمل طورپر روکنا ممکن نہیں ہے ۔ چنانچہ پاک، افغان جنگ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بات مدِ نظر رہنی چاہیے کہ پاکستان پر مسلط کی گئی دہشت گردی جدید جنگ کی ایک شکل ہے جس کی پشت پر اربوں ڈالر کی خفیہ دولت موجود ہے جوافغانستان میں مسلسل تقسیم ہورہی ہے۔ایسے میں ملک میں ہونے والے بم دھماکوں یا دہشت گردی کی کسی بھی شکل و صورت کو محض سیکیورٹی اداروں کی فعالیت یا کردار پر سوالیہ علامت کا جواز بنالینا کوئی معقول رویہ نہیں ہے ۔ ملک دشمن عناصر ایسے ہی بیانات کو افواج پاکستان کے خلاف برپا کردہ ابلاغی جنگ میں ہتھیار کے طورپر استعمال کررہے ہیں۔
اس موقع پر یہ امر بھی ملحوظ رکھنا چاہیے کہ سرحدی نگرانی صرف انسانی اعمال پر منحصر نہیں بلکہ دہشت گرد گروہوں کو ٹیکنالوجی کی فراہمی اور بھاری مالیت رکھنے والے جدید جنگی ہتھیاروں کی دست یابی کی وجہ سے نگرانی کا عمل بھی جدید وسائل اور آلات کے استعمال کا محتاج ہوچکاہے ۔ پاکستان نے دو ہزار چھ سو کلو میٹر طویل سرحد پرجابجا باڑلگائی ہے تاہم سیلابی ریلوںاور درمیان میں موجود نہایت دشوار گزار پہاڑی اور دلدلی نوعیت کے علاقوں کی وجہ سے ہر جگہ رکاوٹ کارآمد بھی نہیں اور نہ ہی خود باڑ ہی کو ہر لمحہ جوانوں کی نگاہ میں رکھا جاسکتاہے۔ مقامی افراد کی سہولت کاری اور جدید وسائل کے استعمال کی وجہ سے سرحدعبور کرنا،منطقی لحاظ سے کوئی انہونی بات نہیں ۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان ڈرون ٹیکنالوجی اور جدید اسکینر کی مدد سے دراندازی کو مزید محدود تر کرنے کی کوشش میں ہے تاہم اس کے باوجود یہ کام آسان نہیں کیوں کہ افغان حکومت اس وقت دہشت گردی کی بھرپور سرپرستی کررہی ہے، اس لیے مستقبل میں بھی دہشت گردی کے خطرات بدستور دکھائی دے رہے ہیں۔
اس پس منظر میں سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ آخر ا س معاملے کا حل کیاہے ؟کیا پاکستان کے عوام یونہی دہشت گردی کا نشانہ بنے رہیں گے یا پوری قوم متحد ہو کر اس فتنے و فساد کے خاتمے کے لیے کوئی مؤثر اقدام کرپائے گی ؟ جامعة الرشید کے سرپرست اعلیٰ مفتی عبد الرحیم جو کہ خود بھی افغان امور کے ماہر کا درجہ رکھتے ہیں ، اس حوالے سے حکومت، عوام اور سیاسی و مذہبی جماعتوں کی خدمت میں بہت مفید مشورے پیش کرچکے ہیں۔ پاکستان پر مسلط کردہ دہشت گردی کا فتنہ چوں کہ اپنے خمیر میں مذہبی جذبات و احساسات رکھتاہے ،لہذا اس فتنے کو مذہبی شناخت حاصل ہے اور یہ عنصر اس خوف ناک اور تباہ کن عمل کے فساد کو مزید گہر ا ،وسیع اور ہمہ گیر بنا رہاہے ۔چوںکہ یہ فتنہ اپنے پہلو میں مذہبی تعصبات اور حق کی تلبیس رکھتاہے، اس لیے اہلِ علم کے لیے ضروری ہے کہ وہ رائے عامہ کے سامنے اس فساد کی حقیقت کو واضح کریں ۔پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتیں متحد ہوکر ایک بیانیہ تشکیل دیں جس میں افغان عبوری حکومت کو متنبہ کیا جائے کہ وہ دہشت گردی کی سرپرستی سے ہاتھ کھینچ لے اور پاکستان کے خلاف جنگ سے باز آجائے۔اس بیانیے کا کم از کم یہ فائدہ ضرور ہوگا کہ سادہ لوحی اور لاعلمی کی وجہ سے دہشت گردی کی آگ کا ایندھن بننے والے نوجوانوں کو حقائق کا ادراک ہوسکے گا۔
پاکستان کے دینی وعوامی حلقوں کے لیے افغانستان کی طالبان حکومت کا رویہ اور طرز عمل نہایت تکلیف دہ ہے۔ پاکستان کی جانب سے مسلسل یہ بات کی جارہی ہے کہ افغان حکومت کو اپنے دوست اور دشمن میں فرق سمجھنا چاہیے اور بھارت کی رکھیل بن کر پاکستان کے خلاف سازش کا حصہ بننے سے گریز کرنا چاہیے تاہم افغان قیادت ٹس سے مس ہونے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتی۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ افغانستان میں جابجا پاکستان کے خلاف جنگ کا ماحول بنایا جارہاہے ۔ بھارت کی پراکسی اور معاونِ کار کے طورپر ”لویہ افغانستان ”کے نعر ے بلند ہورہے ہیں اور پاکستان کو سبق سکھانے کی باتیں کی جارہی ہیں۔یہ صورت حال بتاتی ہے کہ آنے والے دنوں میں افغانستان کی موجودہ قیادت پاکستان کے خلاف مزید جارحانہ اقدامات کرسکتی ہے ۔ ایسے میں اہلِ وطن کو اپنے دشمن کے متعلق درست حقائق کا علم ہوناچاہیے تاکہ وہ جذبات کی رو میں بہہ کر دشمنوں کی سازشوں کا شکار نہ ہوجائیں۔ ملک میں اس وقت شیعہ ،سنی کی کوئی کشیدگی نہیں پائی جاتی۔ اختلاف اور بعض تنازعات کے باوجود دونوں اطراف کے سنجیدہ مزاج افراد اس امر پر یقین رکھتے ہیں کہ ملک دشمن قوتیں ہمیں لڑانے کی فکر میں ہیں۔ایسے میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کو دفاعِ وطن کے حوالے سے مزید پختہ سوچ کا اظہار کرنا ہوگا۔ عام مسلمانوں کے امن کو تباہ کرنا، تخریب اور تشدد اور ضد اور ہٹ دھرمی خوارج کا وطیرہ ہے اور وہ ہمیشہ اپنی ضد، عناد، غرور اور حسد کی وجہ سے عام مسلمانوں کے خلاف کفار کے آلہ ٔ کار کا کردار ادا کرتے چلے آئے ہیں اور اس وقت بھی وہ یہی کچھ کررہے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے عالمی سطح پر بھی یہ بات واضح کی گئی ہے کہ جنوبی ایشیا کا امن دنیا کے امن کے لیے اہمیت کا حامل ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اقوامِ عالم کو افغانستان کے راستے سے پاکستان میں جنگ کے شعلے بھڑکانے کی مسلسل کوششوں کو نظر میں رکھنا ہوگا تاکہ امن کی خاطر پاکستان کے کسی بھی اقدام کی حمایت کو اخلاقی جواز کے ساتھ ساتھ دوست اور غیر جانب دار ممالک کی حمایت حاصل ہوسکے۔

