عبرانی اخبار ہارٹز نے انکشاف کیا ہے کہ قابض اسرائیل کے اندر ان طریقوں پر غوروخوض جاری ہے جن کے ذریعے غزہ کی پٹی کی تعمیرِ نو کے منصوبوں سے معاشی فوائد حاصل کیے جا سکیں۔ تل ابیب بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو ایک سنہری معاشی موقع قرار دے رہا ہے تاکہ اس وسیع تباہی سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔اخبار نے بتایا کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران اسرائیلی وزارتِ خزانہ کے حکام، قابض فوج کے افسران اور جنوبی قابض اسرائیل کے قصبے کریات غات میں قائم امریکی فوجی و سول رابطہ ڈائریکٹوریٹ کے نمائندوں کے درمیان اس سلسلے میں اہم ملاقاتیں ہوئی ہیں۔
غزہ کی حالیہ صورتحال اور اس کے پس منظر میں سامنے آنے والی خبریں اس تلخ حقیقت کو مزید واضح کر رہی ہیں جسے مشرقِ وسطی کے امور کے ماہرین طویل پہلے ہی بیان کرتے آئے ہیں۔ یہ تصور اب زیادہ تقویت اختیار کر گیا ہے کہ اکتوبر 2023 میں فلسطینی مزاحمت کی کارروائی محض ایک ایسا بہانہ بن گئی جسے اسرائیل اور اس کے سرپرست پہلے سے موجود منصوبہ بندی کو عملی شکل دینے کیلئے استعمال کرنے کے شدت سے منتظر تھے۔ عالمی سیاست میں یہ کوئی نئی بات نہیں کہ بڑی طاقتیں کسی واقعے کو اپنی وسیع تر حکمت عملی کے جواز کے طور پر استعمال کریں۔ غزہ کے معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ 7اکتوبر 2023 کے فوراً بعد ہی اسرائیل کی جارحیت شروع ہوگئی۔ ابتدائی لمحات میں اسے دفاعی ردعمل قرار دیا گیا، مگر بہت جلد یہ کارروائی اپنی نوعیت میں بدل گئی۔ شہری آبادی، رہائشی علاقوں، اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور بنیادی ڈھانچے کو جس بہیمانہ طریقے سے نشانہ بنایا گیا، اس نے اس کو دفاعی ردعمل کے دائرے سے نکال کر نسل کشی کی کارروائی میں تبدیل کر دیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا پورے کے پورے شہر کو ملبے میں بدل دینا، ہزاروں بچوں اور عورتوں کی جانیں لے لینا اور ایک محدود جغرافیے کو انسانی بحران کے بدترین نمونے میں تبدیل کرنا کسی بھی اصول کے تحت دفاع اور جوابی کارروائی کہلا سکتا ہے؟
تاریخ شاہد ہے کہ جنگیں مسائل حل نہیں کرتیں بلکہ مسائل پیدا کرتی ہیں۔ جنگوں سے مسائل حل نہیں ہوتے، نت نئے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ سے لے کر مشرقِ وسطی کی طویل کشمکش تک، ہر جگہ یہی سبق سامنے آتا ہے کہ بالآخر مذاکرات اور سیاسی حل ہی پائیدار ثابت ہوتے ہیں۔ اگر اسرائیل فلسطینی مزاحمتی قوت کے آپریشن طوفان الاقصیٰ کا فوری اور شدید فوجی ردعمل دینے کی بجائے تحمل اور سفارتی راستہ اختیار کرتا تو نہ صرف اپنی سیکورٹی کے خدشات کو عالمی سطح پر بہتر انداز میں پیش کر سکتا تھا بلکہ فلسطینی مزاحمت کو بھی عالمی رائے عامہ کے سامنے جوابدہ بنایا جا سکتا تھا، مگر اس کی بجائے طوفان الاقصیٰ کارروائی کو نائن الیون کی طرح برت کر اہل غزہ کیخلاف اندھا دھند طاقت کے استعمال نے اس امکان کوختم کر دیا۔ اکتوبر 2023 کے بعد کے مہینوں میں غزہ جس تباہی سے گزرا، وہ جدید تاریخ کے بدترین انسانی المیوں میں شمار کی جا سکتی ہے۔ غیر رسمی اندازوں کے مطابق اسرائیل کے تباہ کن حملوں میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، جبکہ بنیادی ڈھانچہ تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔ غزہ کے اسپتال، اسکول، بازار، مساجد اور رہائشی عمارتیں کھنڈرات میں بدل گئیں۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور ایک پوری نسل نفسیاتی اور جسمانی زخموں کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئی۔ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے کبھی نہیں رکے اور اب بھی شدت سے جاری ہیں اور کوئی بھی اسرائیل کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں۔ایسے میں عبرانی اخبار ہارٹز کی رپورٹ نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے اندر غزہ کی تعمیرِ نو کے منصوبوں سے معاشی فائدہ اٹھانے کے طریقوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ اب تعمیرِ نو کے نام پر ایسے منصوبوں کی بات کی جا رہی ہے جنہیں تجزیہ کار غزہ کی سرزمین پر معاشی مفادات کے حصول کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ امریکی سیاسی و کاروباری حلقوں سے منسلک شخصیات کی سرپرستی میں اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اور بڑے تجارتی و سیاحتی منصوبوں کی خبریں اس تاثر کو تقویت دیتی ہیں کہ انسانی المیے سے معاشی مواقع تلاش کیے جا رہے ہیں۔
یہ امر افسوسناک ہے کہ جہاں ضرورت غزہ کے عوام کی مرہم پٹی، بحالی اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کی ہے، وہاں اب امن کے پردے میں مفادات کا نیا کھیل شروع کیا جا رہا ہے۔ کسی بھی قوم کی سرزمین اور شناخت کو طاقت کے ذریعے مستقل طور پر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اس صورتحال میں مسلم دنیا اور خصوصاً او آئی سی ممالک کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ محض بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی اور مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ غزہ کی تعمیرِ نو، انسانی امداد اور فلسطینیوں کی باعزت آبادکاری کیلئے کردار ادا کریں۔ غزہ کی بحالی کو کسی بھی سیاسی یا معاشی مفاد کی بجائے انسانی وقار اور انصاف کے اصولوں پر استوار کرنا ہی عالمی برادری کی اصل آزمائش ہے۔
مہنگائی کے ذریعے رمضان کا استقبال؟!
رمضان المبارک کی آمد ہر مسلمان کیلئے رحمت، برکت اور قربِ الٰہی کے مواقع کی نوید لاتی ہے۔ یہ مہینہ صرف عبادت، روزہ اور روحانی تزکیہ کا نہیں بلکہ اخوت، رحم دلی اور اجتماعی تعاون کا بھی درس دیتا ہے، مگر افسوس کی بات ہے کہ ہر سال کی طرح اس بار بھی رمضان سے قبل مہنگائی کا جن بوتل سے باہر نکال دیا گیا ہے۔ سبزی، پھل، تیل، گھی، آٹا، بیسن، انڈے اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتیں اچانک آسمان کو چھونے لگیں۔ اسلام کی تعلیمات میں رمضان المبارک کے استقبال کا مقصد لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کرنا اور ان کی مشکلات کم کرنا ہے۔ قرآن اور سنت میں تاکید کی گئی ہے کہ مسلمان اپنے بھائیوں کی ضروریات کو پورا کرنے میں ہمدردی اور فراخ دلی کا مظاہرہ کریں۔ مہنگائی، احتکار اور قیمتیں بڑھانا دینی تعلیمات کے برعکس ہے اور یہ شیطانی رویہ ہے، جس میں رمضان المبارک کو بھی مال کمانے کا موسم سمجھ کر لوگوں کیلئے مشکلات پیدا کی جاتی ہیں۔ حکومتیں، انتظامی ادارے اور نجی شعبہ سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ رمضان کی تیاریوں کے دوران آسانیاں فراہم کریں اور عوام کیلئے ریلیف اور رعایت کے اقدامات کریں۔ تاجروں کو چاہیے کہ وہ رمضان کو صرف کاروباری موقع نہ سمجھیں بلکہ اس مہینے کو آخرت کی کمائی اور انسانیت کی خدمت کا سیزن بنائیں۔آسانیاں پیدا کریں اور رحم دلی کو فروغ دیں۔ یہی اسلامی تعلیمات کا تقاضا ہے اور یہی اصل استقبال رمضان ہے۔

