افواج پاکستان کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ اطلاع کے مطابق بلوچستان کے مختلف اضلاع میں پاک فوج کا آپریشن ردالفتنہ اوّل کامیابی سے اختتام پذیر ہوچکا ہے جس میں دوسو سے زائد بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد مارے گئے، متعدد گرفتار ہوئے۔ ملک کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے شروع کیے جانے والے اس اہم نوعیت کے عسکری آپریشن میں بائیس جوانوں کے علاوہ کچھ عام شہری بھی شہید ہوئے۔ بتایا گیا ہے کہ کامیاب آپریشن میں بھارتی پشت پناہی پر ملک میں فساد پھیلانے و الے دہشت گردوں کے اہم کارندے اور کمانڈر ہلاک کردیے گئے ہیں۔ دہشت گردوں کے باہمی رابطوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ پاک فوج اور سیکورٹی اداروں نے ان کارروائیوں میں غیرملکی سلحے، جدید مواصلاتی آلات اور بیرونی پشت پناہی کے متعدد ثبوت حاصل کرلیے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ دہشت گردوں کے افغانستان سے روابط تھے اور انھیں وہیں سے ہدایات مل رہی تھیں۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے بی ایل اے کے خلاف منظورشدہ قرارداد کے مندرجات کے مطابق ا س تنظیم کو عالمی دہشت گرد گروہ قرار دینے کا مطالبہ پھر دُہرایا ہے اور عالمی ادارے کے پلیٹ فارم سے اقوام عالم کے سامنے ایک مرتبہ پھر اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کی پشت پناہی کی مرتکب ہورہی ہے اور طالبان رجیم کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد پاکستان میں دراندازی سمیت دہشت گردی اور تخریب کاری میں مسلسل اضافہ ہوا ہے جس پر دنیا کو توجہ دینا چاہیے، تاکہ خطے کے امن کو مزید تباہی سے بچایا جاسکے۔
بلوچستان میں دہشت گردوں کے بڑھتے ہوئے حوصلے کو کچلنااور عوام کو اُن کے خوف سے نجات دلاکر امن و امان کی فضا کو مکمل طورپر بحال رکھنا ایک اہم دفاعی اور قومی تقاضا ہے، جس پر آپریشن ردالفتنہ اوّل کی صورت میں عمل کیا گیاہے۔ پاک فوج کے بہادر اور مستعد جوانوں نے جان پر کھیل کر قوم کو تحفظ فراہم کرنے کا فریضہ انجام دیا اور ان دہشت گردوں کو کچل کر رکھ دیا جو کہ بیرونی ایجنڈے کی تکمیل کی خاطر اکھنڈ بھارت کے ناپاک منصوبے اور گریٹر افغانستان کے احمقانہ خواب کا حصہ بنے ہوئے تھے۔ بلوچستان کے مختلف شہروں پر دہشت گردوں کی ناکام یلغار اور خانہ جنگی کو بھڑکانے کے عمل میں طالبان رجیم اور بھارت کے مشترکہ کردار کے ثبوت یقینا ملک کے سیکورٹی اداروں کے پاس موجود ہیں’ تاہم شواہد کے درجے میں اگر بھارتی میڈیا کی رپورٹنگ ہی کو دیکھ لیا جائے تو واضح ہوتاہے کہ پاکستان میں عدم ِ استحکام، انارکی اور تخریب کاری میں بھارت کس درجے دلچسپی رکھتا ہے۔
بھارت کے معاندانہ کردار کی بنیادی وجہ دراصل مشرکانہ تہذیب کو خطے میں بزور قوت نافذ کرنے کے وہ عزائم ہیں جن پر موجودہ بھارتی قیادت کی سیاست کا دار و مدار ہے اور جس کے ذریعے وہ گروہی اور طبقاتی اجارہ داری کو برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔ ایسا نہیں کہ بھارتی قیادت نے ان عزائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہو۔ بھارت کے شدت پسند طبقات اور سناتا دھر م کے نسلی و مذہبی تفاخر کے شکار گروہوں اور خطے کے وسائل پر حریصانہ نگاہیں جمائے ہوئے عالمی ساہوکاروں کی خوشنودی اور حمایت حاصل کرنے کے لیے بھارتی قیادت گاہے بگاہے اکھنڈ بھارت کے قیام کے لیے اپنے توسیع پسندانہ عزائم، تعصب پر مشتمل پالیسیوں اور نفرت پر مبنی ایجنڈے کو بیان کرتی رہتی ہے۔ بھارت کے اس طرزعمل اور پاکستان کے خلاف برپاکردہ اس کی پراکسی وار کے جواب میں چین اور دیگر دوست ممالک کی جانب سے پاکستان کی حمایت کا اعادہ بھی معمول کی بات ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردی سے جڑے خطرات کا پاکستان کے دوست ممالک کو بھی بخوبی احساس ہے، جیسا کہ چین کے سفیر نے گزشتہ روز ہی ایک مرتبہ پھر پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ چین کے سفیر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں چین پاکستان کے ساتھ مکمل مضبوطی کے ساتھ کھڑا ہے۔ گویا چین نے سفارتی زبان میں واضح کردیا ہے کہ بھارتی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے افغانستان کی سرزمین جس طرح پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے، وہ چین کے لیے بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔ لہٰذا اس کے جواب میں چین اپنے ذرائع، وسائل اور تعلقات کو پاکستان کے حق میں استعمال کرے گا۔ سفارتی محاذ پر یہ پاکستان کی ایک نمایاں کامیابی ہے جو وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ پاکستان کے بتدریج مستحکم ہونے تعلقات کی صورت میں مزید نمایاں ہورہی ہے۔ وسطی ایشیائی ممالک میں پاکستان کی زرعی اشیاء کی برآمدات سے متعلق کامیاب تجارتی معاہدے افغانستان پر رہے سہے واجبی انحصار سے مکمل نجات کا ذریعے بھی بن سکتے ہیں۔ دوسری طرف سعودی عرب کے ساتھ کامیاب دفاعی معاہدے کے بعد پاکستانی قیادت مزید کامیابیوں کے حصول کے لیے سرگرم دکھائی دیتی ہے۔ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی یہ ہے کہ ملکی قیادت دہشت گردوں، ان کے پشت پناہوں، ان کے ہم نواؤں اوران کے سہولت کاروں کو ایک ہی پالیسی کے تحت قرار واقعی انجام تک پہنچانے کے لیے پُرعزم ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے انتباہ کیا ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو ہرگز چھوٹ نہیں دی جائے گی۔ اس بیان کو ریاست پاکستان کا اُصولی موقف سمجھ لینا چاہیے۔
اِس وقت دنیا کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ افغانستان کی طالبان رجیم نے شریعت کی آڑ میں جس طرح طبقاتی اجارہ داری، مذہبی منافرت اور عناد، انتقامی سوچ اور تعصب پر مشتمل مزاج اور قبائلی نوعیت کی روایات اور انہی پر منحصر پالیسیوں کو اختیار کرکے خطے کے ممالک کے لیے دہشت، تشدد، انارکی اور خانہ جنگی کے جو دروازے کھول دیے ہیں، وہ خطے ہی نہیں پوری دنیا کے لیے ایک سنگین تصادم کی راہ ہموار کرنے کے مترادف ہے۔ دینِ اسلام نے سرکشی، عدوان، فتنہ و فساد اور تخریب کی شدید الفاظ میں نہ صرف مذمت کی ہے بلکہ اس راہ پر چلنے والوں کے لیے کڑی سزا کا اعلان بھی کیا ہے۔ ریاست کے ساتھ تصادم، بے گناہوں کا قتل، معصوم شہریوں کے امن کو خطرے سے دوچار کرنا اور مجہتد فیہ مسائل میں تکفیری موقف اختیار کرنا خوارج کی نمایاں علامات ہیں اور بی ایل اے یا ٹی ٹی پی جیسی تنظیمیں یہ تمام جرائم افغان طالبان کی سہولت کاری اور بھارت و اسرائیل کی پشت پناہی سے انجام دے رہی ہیں۔ لہذا ریاست پاکستان کا موقف یہ ہے کہ اس قسم کی دشمنی پر مشتمل رویہ اختیار کرنے والوں کے ساتھ انہی کی زبان اور انہی کے رویے کے انداز میں برتاؤ کیا جائے گا۔ آپریشن ردالفتنہ اول میں پاکستان نے اسی رویے کا اظہار کیا ہے اور یوں لگتاہے کہ بہت جلد پاکستان فتنہ و فساد کے مراکز کے خلاف ایک اور بھرپور اقدام کرنے والا ہے جیسا کہ فیلڈمارشل کے الفاظ سے اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

