دہشت گردی کے خلاف یکسو ہونے کی ضرورت

وفاقی دارالحکومت پھردہشت گردوں کے نشانے پر آگیا، ترلائی کے علاقے میں واقع امام بارگاہ کے گیٹ پر خودکش دھماکے میں 32افراد جاں بحق اور 169زخمی ہوگئے جبکہ20زخمیوں کی حالت انتہائی نازک ہونے کے باعث اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق اسلام آباد میں امام بارگاہ کے گیٹ پر ایک بج کر چالیس منٹ پر دھماکا ہوا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی، پولیس ذرائع کے مطابق خود کش حملہ آور کو امام بارگاہ کے گیٹ پر روکا گیا تو اس نے خود کو دھماکے سے ا ڑالیا۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری اوروزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے امام بارگاہ میں دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا جبکہ اہل خانہ کے ساتھ اظہار ہمدردی کی۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات ہوئی، انہوں نے واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داران کے فوری تعین کی ہدایت کی۔

قوم ابھی بلوچستان میںدشمن قوتوں کی جانب سے کئی شہروں پر یکبارگی حملہ کرکے درجنوں بے گناہ افراد اور سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کو شہید کرنے اور شہریوں میں خوف وہراس پھیلانے کی مذموم واردات کے صدمے سے نہیں نکلی تھی کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دہشت گردی و تخریب کاری کی ایک اور ہولناک اور سنگین واردات کرکے درندگی و بہیمیت کا ایک اور خونی کھیل کھیلا گیا ہے اور پاکستان میں کسی باشعور شخص کو اس امر میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان دونوں وارداتوں کے پیچھے ایک ہی مکروہ کردار چھپا ہوا ہے، وہ کردار جس کو پاکستان کا وجود اور بقاء ہی قبول نہیں ہے اور جو شروع دن سے اس مملکت خداداد کی سا لمیت اور داخلی سلامتی کے درپے ہے۔ گزشتہ برس مئی میں آپریشن سندور کے نام سے پاکستان پرجو براہ راست جارحیت مسلط کی گئی تھی، اس میں پاکستان کے ازلی دشمن کو منہ کی کھانی پڑی تھی اور وہ ابھی تک اس شکست کے زخم چاٹ رہا ہے مگر وہ اس کے بعد چین سے نہیں بیٹھا بلکہ اس نے پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ شروع کر رکھی ہے اور اس جنگ میں ایک طرف خیبر پختونخوا میں جہاد اور شریعت کے عنوان سے کچھ سادہ لوح نوجوانوں کو گمراہ کرکے انہیں ٹی ٹی پی جیسے ناموں سے پاکستان کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے اور دوسری جانب بلوچستان میں قومیت اور صوبائیت کے نام پر چند لوگوں کے ذہن میں وفاق پاکستان کے خلاف زہر بھر کر انہیں مسلح بغاوت پر آمادہ کیا گیا ہے۔ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ پاکستان کے خلاف بھارت کا آپریشن سندور ختم نہیں ہوا بلکہ بانداز دگر جاری ہے۔ المیہ یہ ہے کہ دونوں محاذوں پر پاکستان کے خلاف سازشوں کے لیے سرحد کے اس پار افغانستان کی زمین استعمال کی جارہی ہے اورحکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود مختلف دہشت گرد گروہ طالبان رجیم کی سرپرستی میں خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں، پاکستان میں ہونے والی ہر بڑی دہشت گرد کارروائی کے پسِ پشت افغانستان اور بھارت کے گٹھ جوڑ کے شواہد موجود ہیں، جن کا مقصد ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا اور امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنا ہے۔ ترلائی کے سانحے کے مبینہ خود کش حملہ آور کا بھی افغانستان سے ربط سامنے آیا ہے اوروزیرمملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے تصدیق کی ہے کہ سانحہ ترلائی کے حملہ آور کی تمام معلومات مل گئی ہیں اور افغانستان کا کتنی دفعہ سفر کیا اس کی تفصیلات بھی آگئی ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ خودکش حملہ آور گزشتہ سال افغانستان سے واپس آیا تھا اور یہاں آکر مختلف مقامات پر رکا تھا ۔ توقع رکھی جانی چاہیے کہ ہمارے تفتیشی ادارے اس خود کش حملہ آور کی جملہ تفصیلات حاصل کرنے کے بعد اس پورے نیٹ ورک کو قوم کے سامنے بے نقاب کریں گے جو دشمن قوتوں نے پاکستان میں دہشت گردی و تخریب کاری پھیلانے کے لیے یہاں قائم کر رکھا ہے۔

یہ حقیقت تو قوم پر الم نشرح ہوچکی ہے کہ پاکستان کا ازلی دشمن بھارت افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے اندر اپنے آلہ کار عناصرکو داخل کر رہا ہے اور اس میں اسے افغانستان کی طالبان حکومت یا اس کے کچھ عناصر کی معاونت بھی میسر ہے ، اب دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ہم اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا کچھ کر رہے ہیں۔ اس امر میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہمارے سیکیورٹی اداروں کے جوان روزانہ کی بنیاد پر اپنی قربانیاں دے رہے ہیں اور مادر وطن کی حفاظت پر اپنی جانیں نچھاور کر رہے ہیں تاہم ان قربانیوں کو بار آور بنانے اور دشمن قوتوں کی سازشوں کے مقابلے میں ملک کے دفاع اور داخلی سلامتی کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے قومی سطح پر جس یکسوئی،اتحاد اور متفقہ حکمت عملی کی ضرورت ہے، اس کو یقینی بنانے کے لیے تمام قومی حلقوں اور ریاستی اداروں کو اپنے اپنے کردار کا جائزہ لینا چاہیے۔ کیا یہ المیہ نہیں ہے کہ ایک جانب ملک کی داخلی سلامتی پر مسلسل حملے ہورہے ہیں اوردشمن کسی تفریق وتمیز کے بغیر ہر طبقے کو نشانہ بنارہا ہے تو دوسری جانب ہماری وفاقی حکومت اور سب سے زیادہ متاثر ہونے والے خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کے درمیان دہشت گردی سے نمٹنے کے اہم ترین ایشو پر اتفاق رائے ہی موجود نہیں ہے۔ کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ دونوں اکائیاں کم از کم اس اہم ایشو پر ایک ہوجائیں اور وفاقی و صوبائی حکومتیں مل کر سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کو پیغام دیں کہ پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت ان کی پشت پر ہے۔

علاوہ ازیں یہ بھی ایک افسوس ناک منظرنامہ ہے کہ پاکستان کی داخلی سلامتی کے خلاف ایک بڑا فتنہ مذہب اور جہاد کے نام پر اٹھادیا گیا ہے اور بدقسمتی سے ہمارے مذہبی طبقے اور علماء کرام میں اس فتنے کے خلاف آگاہی اور احساس ذمہ داری کی وہ سطح نظر نہیں آرہی جوکہ وقت کا تقاضا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ علمائے کرام کا فرض بنتا ہے کہ وہ دین ،شریعت اور جہاد کے مقدس عنوانات کو ملک میں خونریزی اور فتنہ و فساد پھیلانے کے لیے استعمال کرنے کی روش کے خلاف آواز بلند کریں۔ ہمیں اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ عالمی وعلاقائی اسلام دشمن قوتیں پاکستان کو عالم اسلام کا ایک بڑا دفاعی مورچہ سمجھتی ہیں اور اس مورچے کو کمزور کرنے کے لیے وہ یہاںفتنہ و فساد اور خانہ جنگی کی فضا قائم کرنے کے لیے کوشاں ہیں، جو عناصر پاکستان میں کسی بھی قسم کی شورش یا فساد پھیلارہے ہیں، وہ دانستہ یا نادانستہ طور پر اسلام دشمن قوتوں کے ایجنڈے کو ہی آگے بڑھا رہے ہیں۔ ایسے عناصر کو راہ راست پر لانے کے لیے علماء کرام ہی موثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ان کو یہ کردار اپنا فرض سمجھ کر ادا کرنا چاہیے۔