غزہ،خان یونس میں اسرائیلی گولہ باری،کئی عمارتیں تباہ،چھاپہ مار مہم،متعدد گرفتار

غزہ/قاہرہ/واشنگٹن/نیویارک/بیروت:قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں اور ہفتے کومسلسل119ویں روز بھی غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں پر فائرنگ، گولہ باری اور مشرقی غزہ و خان یونس میں عمارتوں کو دھماکوں سے مسمار کرنے کی کارروائیاں کی گئیں۔

مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ قابض اسرائیلی توپ خانے نے خان یونس شہر کے مشرقی علاقوں پر شدید گولہ باری کی جس کے ساتھ ہی ان علاقوں میں مکمل رہائشی بلاکس کو دھماکوں سے تباہ کر دیا گیا۔اسرائیلی ہیلی کاپٹروں نے بھی شہر کے مختلف محلوں، بالخصوص جنوبی علاقوں پر مشین گنوں سے شدید فائرنگ کی۔

سمندر میں تعینات قابض اسرائیلی جنگی کشتیوں نے خان یونس کے ساحلی علاقے کی جانب بھاری ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کی۔اسی طرح قابض اسرائیلی توپ خانے نے غزہ شہر کے مشرقی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا۔

ادھرقابض اسرائیلی افواج نے ہفتے کی صبح مقبوضہ مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر وحشیانہ چھاپہ مار کارروائیوں کا سلسلہ شروع کیا جس کے دوران گھروں کی حرمت پامال کی گئی، تلاشی لی گئی اور متعدد نہتے فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا گیا۔

الخلیل میں قابض اسرائیلی فوج نے دورا اور حلحول کے قصبوں پر دھاوا بولا اور شہر کے داخلی راستوں پر اچانک فوجی چوکیاں قائم کردیں۔ قابض فوج نے فلسطینیوں کے گھروں پر چھاپے مارے اور تلاشی کے نام پر گھروں کے سامان کی شدید توڑ پھوڑ اور غارت گری کے بعد دو شہریوں کو گرفتار کر لیا۔

نابلس میں قابض اسرائیلی فوجی گاڑیاں نابلس شہر کے مشرقی علاقے اور بیت امرین کے قصبے میں داخل ہوئیں، جہاں قابض فوج کی سفاکیت کے خلاف شدید جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ اس دوران قابض فوج نے متعدد نوجوانوں کو حراست میں لے کر فیلڈ انویسٹی گیشن کے نام پر اذیت کا نشانہ بنایاجن میں سے چار نوجوانوں کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

طولکرم میں قابض اسرائیلی افواج نے علی الصبح عنبتا اور عتیل کے قصبوں میں جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے گھروں میں گھس کر تلاشی لی اور تین شہریوں کو اغوا نما گرفتاری کا نشانہ بنایا۔رام اللہ میں بھی قابض اسرائیلی فوج نے بیت لقیا اور قبیا گاؤں میں فوجی آپریشن کیا، جہاں صوتی بموں اور آنسو گیس کی شیلنگ کے ذریعے خوف و ہراس پھیلاتے ہوئے ایک شہری کو اس کے گھر سے گرفتار کر لیا گیا۔

مقبوضہ بیت المقدس میں قابض افواج نے شہر کے گرد و نواح میں واقع متعدد قصبوں بشمول عناتا، کفر عقب اور قلندیا کیمپ پر دھاوا بولا۔ عینی شاہدین کے مطابق قابض فوج نے گھروں میں داخل ہو کر مکینوں کے شناختی کارڈز کی جانچ پڑتال کی اور تذلیل کی۔

صبح کے ابتدائی اوقات میں قلندیا کیمپ سے کم از کم ایک نوجوان کو گرفتار کر لیا گیا۔دریں اثناء دنیا بھر میں غزہ کے حق میں جاری عالمی عوامی تحریک ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں تین مسلسل دنوں پر مشتمل سرگرمیوں کا آغاز کیا گیا۔

اس تحریک کا مقصد عالمی خاموشی کو توڑنا اور جاری حملوں و خلاف ورزیوں کے تناظر میں غزہ کی آواز دنیا تک پہنچانا ہے۔یہ عالمی تحریک قابض اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں اور غزہ کی پٹی میں شہریوں کے خلاف فوجی کارروائیوں میں اضافے پر بڑھتے عوامی غصے کے ساتھ ہم آہنگ کوشش ہے۔

علاوہ ازیںغزہ کی پٹی سے متعلق عرب و اسلامی رابطہ گروپ کے وزارتی اجلاس میں غزہ میں سیز فائر کو مستحکم بنانے کے طریقہ کار پر تفصیلی غور کیا گیا جب کہ اس کے تمام نکات پر مکمل عملدرآمد کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

یہ موقف ایک مشترکہ اعلامیے میں سامنے آیا جو سلووینیا کے دارالحکومت لیوبلیانا میں ہونے والے مذاکرات کے بعد مصری وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیا گیا۔ مذاکرات میں مصر، سعودی عرب، اردن اور بحرین کے وزرائے خارجہ نے سلووینیا کی وزیر خارجہ تانیا فایون سے ملاقات کی۔

مذاکرات میں مصری وزیر خارجہ بدر عبد العاطی، سعودی ہم منصب فیصل بن فرحان، اردنی وزیر خارجہ ایمن الصفدی، بحرینی وزیر خارجہ عبداللطیف الزیانی اور سلووینیا کی وزیر خارجہ کے ساتھ قطر کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ سلطان المریخی نے بھی شرکت کی۔

وزرا نے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر امن و استحکام کے فروغ کے ذرائع کا جائزہ لیا، جس میں سرفہرست غزہ پٹی کی تازہ صورت حال رہی۔ شرکا نے سیز فائر معاہدے کی مکمل پاسداری، اس کی تمام شقوں کے نفاذ اور محصور غزہ میں وافر اور پائیدار انسانی امداد کی بلا رکاوٹ ترسیل کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ امن منصوبے کو کامیاب بنانے کی کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور ایک واضح سیاسی افق کی جانب پیش رفت پر زور دیا گیا جو چار جون 1967ء کی سرحدوں پر ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام اور مشرقی القدس کو اس کا دارالحکومت بنانے پر منتج ہو جو دو ریاستی حل پر مبنی ہو۔

مباحثوں میں مقبوضہ مغربی کنارے کی صورت حال بھی زیر بحث آئی، جہاں وزرا نے قابض اسرائیل کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات روکنے اور مقبوضہ بیت المقدس میں اسلامی و مسیحی مقدسات کے خلاف جاری مسلسل جارحیت و بے حرمتی بند کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

شرکا نے خبردار کیا کہ ان خلاف ورزیوں کا تسلسل حالات کو مزید سنگین بناتا اور ہر اس کوشش کو نقصان پہنچاتا ہے جو کشیدگی کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔

ادھرحماس نے تمام بین الاقوامی اور علاقائی فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قابض اسرائیل پر اس بات کے لیے دباؤ ڈالیں کہ غزہ کی انتظامیہ کے لیے آزاد قومی کمیٹی کو غزہ میں داخل ہونے اور اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں شروع کرنے کی اجازت دی جائے۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے ہفتے کے روز ایک پریس بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ تمام شعبوں میں اختیارات اور حکومتی امور اس کمیٹی کو منتقل کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

انہوں نے ذکر کیا کہ اختیارات کی منتقلی کا یہ عمل ایک ایسی ماہر اتھارٹی کی نگرانی میں مکمل ہوگا جس میں فلسطینی دھڑے، سول سوسائٹی کے ادارے، قبائلی عمائدین اور بین الاقوامی فریقین شامل ہوں گے۔ اس کا مقصد انتقالِ اقتدار کے عمل کو مکمل طور پر شفاف، منظم اور مربوط بنانا ہے تاکہ مقامی آبادی کے لیے فوری امدادی کارروائیوں کا آغاز یقینی بنایا جا سکے جو قابض دشمن کی سفاکیت کا شکار ہیں۔

غزہ میں فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ سات اکتوبر 2023ء سے جاری قابض اسرائیل کی مسلسل جارحیت کے نتیجے میں شہدا کی مجموعی تعداد 72,027 ہو گئی ہے جبکہ 171,651 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

یہ انسانی جانوں کا وہ خوف ناک ترین زیاں ہے جو غزہ کی تاریخ میں ابتر انسانی اور طبی حالات کے بیچ درج کیا گیا ہے۔وزارت صحت نے اپنی روزانہ کی شماریاتی رپورٹ میں وضاحت کی ہے کہ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران غزہ کے ہسپتالوں میں2شہدا اور 25 زخمیوں کو لایا گیا ہے۔

یہ جانی نقصان اسرائیلی فضائی حملوں کے تسلسل اور نشانہ بنائے گئے علاقوں تک طبی عملے کی رسائی میں شدید مشکلات کے باوجود سامنے آیا ہے۔رپورٹ میں اس کربناک حقیقت کی تصدیق کی گئی ہے کہ بڑی تعداد میں متاثرین اب بھی ملبے کے نیچے اور سڑکوں پر پڑے ہوئے ہیں، جہاں مسلسل بمباری اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے باعث ایمبولینس اور سول ڈیفنس کا عملہ تاحال ان تک پہنچنے سے قاصر ہے۔

دوسری جانب امریکی وائٹ ہائوس نے بورڈ آف پیس کے تحت عالمی رہنمائوں کا پہلا اجلاس 19 فروری کو کرانے پر غور شروع کر دیا۔امریکی میڈیا کے مطابق بورڈ آف پیس کے اجلاس میں غزہ کی تعمیرِ نو کیلئے فنڈریزنگ کانفرنس بھی متوقع ہے۔میڈیا رپورٹ میں کہا گیاکہ اجلاس کی تیاری ابتدائی مراحل میں ہے تاہم تبدیلی بھی ممکن ہے۔

قبل ازیں غزہ میں جنگ بندی، تعمیرِ نو اور مستقل امن کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بنائے گئے بورڈ آف پیس میں مشرقِ وسطی اور ایشیا کے کئی مملک شامل ہوئے ہیں اور پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، مصر، اردن، کویت اور قطر کے وزرائے خارجہ نے اس بورڈ میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔

ادھراقوامِ متحدہ کے انسانی ہمدردی کے اداروں نے مصر سے متصل غزہ کی رفح سرحدی گزرگاہ کے ذریعے واپس آنے والے فلسطینیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔دوسری جانب اسرائیلی فوج نے لبنان کے جنوبی سرحدی علاقے میں کیمیائی مواد کا مبینہ چھڑکاؤ کیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق واقعے کے بعد لبنانی حکومت نے بین الاقوامی اداروں کے دروازے کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔لبنانی وزیر ماحولیات نے سرحدی علاقوں میں اسرائیلی طیاروں کے مشتبہ کیمیائی مواد اسپرے کی تصدیق کردی ہے۔

کیمیائی مواد کی نوعیت جاننے کے لئے فوج کے سربراہ سے رابطہ کر کے نمونے حاصل کیے جارہے ہیں اگر مواد زہریلا ثابت ہوا تو یہ حیران کن نہیں ہوگا جبکہ قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی قانون ساز کونسل کے اراکین کو نشانہ بنانے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔

قابض اسرائیل کی قید میں اس وقت 10 فلسطینی اراکین پارلیمنٹ موجود ہیں جن میں سب سے پرانے اسیر مروان البرغوثی اور احمد سعدات ہیں جو عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں جبکہ عمر کے لحاظ سے سب سے معمر رکن پارلیمنٹ القدس سے تعلق رکھنے والے محمد ابو طیر ہیں۔

دوسری جانب غزہ میں فلسطینی وزارت صحت نے خبردار کیا ہے کہ محصور پٹی میں باقی رہ جانے والے فعال ہسپتال عملی طور پر ہزاروں مریضوں اور زخمیوں کے لیے جبری انتظار گاہوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

قابض اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں کے نتیجے میں طبی نگہداشت کی فراہمی کی صلاحیت تقریباً ختم ہو چکی ہے جس سے انتہائی کمزور طبقات کی زندگیوں کو ایک نامعلوم اور ہولناک انجام کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

وزارت صحت نے پریس کو جاری کردہ ایک پریس بیان میں کہا کہ جس چیز کو وہ ”طبی نسل کشی” قرار دے رہی ہے، اس کے اثرات نے ایک ایسا تباہ کن نقشہ چھوڑا ہے جہاں طبی خدمات کی فراہمی کا تسلسل روزانہ ایک معجزے کے مترادف بن گیا ہے۔