اسلام آباد حملہ، جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ، تحقیقات کہاں تک پہنچیں؟

اسلام آباد:وفاقی دارالحکومت پھردہشتگردوں کے نشانے پر آگیا، ترلائی کے علاقے میں واقع امام بارگاہ کے گیٹ پر خودکش دھماکے میں 31 افراد جاں بحق اور 169 زخمی ہوگئے جبکہ20زخمیوں کی حالت انتہائی نازک ہونے کے باعث اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔تحقیقات کا آغاز کردیا گیا، واقعے کے تانے بانے افغانستان سے ملنے لگے، صدر، وزیر اعظم اور سیاسی قیادت کا شدید اظہار مذمت، اقوام متحدہ، امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا اور ایران کی جانب سے پاکستان سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق اسلام آباد میں امام بارگاہ کے گیٹ پر ایک بج کر چالیس منٹ پر دھماکا ہوا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی،پولیس ذرائع کے مطابق خود کش حملہ آور کو امام بارگاہ کے گیٹ پر روکا گیا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑالیا۔ملحقہ گھروں اور قریب کھڑی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔
پولیس اور ریسکیو کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں جبکہ آئی جی اسلام آباد کی جانب سے اسلام آباد میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ دھماکے کی جگہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا۔وفاقی دارالحکومت کے پولی کلینک، پمز اور سی ڈی اے اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ اسپتالوں کے عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق بم ڈسپوزل اسکواڈ دھماکے کی نوعیت سے متعلق تحقیقات کر رہا ہے۔ رینجرز اور پاک فوج کے جوان بھی موقع پر پہنچ گئے۔زخمیوں کو پمز اور پولی کلینک اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ مین ایمرجنسی، آرتھو پیڈک، برن سینٹر اور نیورو ڈیپارٹمنٹ فعال ہیں۔
ای ڈی پمز عمران سکندر کے مطابق پمز اسپتال میں 28 ڈیڈ باڈیز منتقل کی گئیں، 105 زخمی پمز اسپتال لائے گئے۔ نوجوانوں کی کثیر تعداد خون کے عطیات دینے پمز پہنچ گئی۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی دارالحکومت میں دھماکے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ سے تعزیت اور صبرِ جمیل کی دعا کی۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داران کے فوری تعین کی ہدایت کی۔ وزیرِ اعظم ے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی اور وزیر صحت کو خود نگرانی کرنے کا حکم دیا۔وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ دھماکے کے ذمہ داران کو تعین کرکے انہیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے، ملک میں شر پسندی اور بدامنی پھیلانے کی ہر گز کسی کو اجازت نہیں دیں گے۔
پاکستان میں اقوام متحدہ کے نمائندہ محمد یحییٰ نے بھی حملے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے متاثرین سے تعزیت کا اظہار کیا ۔
پاکستان میں تعینات امریکی سفیر نیٹلی بیکرنے کہا کہ امریکا اس واقعے سمیت ہر قسم کی دہشت گردی اور تشدد کی مذمت کرتا ہے۔ شہریوں اور عبادت گاہوں کے خلاف دہشت گردی اور انہیں نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔
برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کہا کہ نمازِ جمعہ میں ہونے والے خوفناک حملے پر شدید غم و غصہ ہے۔ دہشت گرد حملے سے دل ٹوٹ گیا ہے اور ان کی دعائیں جاں بحق اور زخمی افراد کے ساتھ ہیں۔
پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے حکومتِ پاکستان، عوامِ پاکستان اور بالخصوص سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔
آسٹریلوی ہائی کمشنر نے کہا کہ حملے پر شدید صدمہ اور افسوس ہوا، میری ہمدردیاں تمام متاثرین اوران کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہیں، اس مشکل گھڑی میں آسٹریلیا پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اور سوگ میں برابر کا شریک ہے۔
دریں اثناء خودکش دھماکے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔ذرائع کے مطابق پولیس نے ابتدائی طور پر تحقیقات کیلئے تین ٹیمیں تشکیل دے دیں۔ راستوں پر لگے کیمروں کی فوٹیجز بھی حاصل کر لی گئیں۔
حملہ آور کی شناخت ہو گئی ہے، خودکش بمبار نے افغانستان میں دہشت گرد کارروائیوں کی باقاعدہ تربیت حاصل کی تھی اور وہ متعدد مرتبہ افغانستان کا سفر بھی کر چکا تھا۔