کچے کے ڈاکو اور ریاست کی آزمائش

کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کا پنجاب پولیس کے سامنے ہتھیار ڈالنا بلاشبہ ایک بڑی پیش رفت ہے۔ اگر وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور پولیس کی حالیہ کامیابی پر نازاں ہیں تو یہ ان کا حق ہے۔ برسوں سے دریا کے کنارے قائم وہ علاقے جہاں ریاست کی عملداری ایک سوالیہ نشان بنی رہی، اب پہلی بار قانون کی گرفت میں آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ صرف ایک پولیس آپریشن نہیں بلکہ ریاستی رِٹ کی بحالی کی جانب اہم قدم ہے۔ کچے کے علاقے میں برسوں سے ریاست کی عملداری ایک خواب بنی رہی۔ اغوا برائے تاوان، بھتا خوری، مسلح جتھے اور دریا کے کناروں پر قائم نو گو ایریاز ریاستی کمزوری کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ اب جب کچے کے ڈاکو ہتھیار ڈال کر پولیس کے سامنے آ رہے ہیں اور اپنے اعمال کی وجوہات بھی بیان کر رہے ہیں تو یہ وقت صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کامیابی نہیں بلکہ ریاست اور سماج دونوں کے لیے غوروفکر کا موقع بھی ہے۔

سرنڈر کرنے والے ڈاکو اپنے جرائم کے جواز میں غربت، بے روزگاری، محرومی اور ریاستی عدم توجہی کے دلائل دے رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا معاشی مسائل بندوق اٹھانے کا لائسنس بن سکتے ہیں؟ اگر ایسا ہو تو ملک کے کروڑوں غریب شہری بھی قانون توڑنے پر مجبور سمجھے جائیں۔ جرم، جرم ہی رہتا ہے چاہے اس کے پیچھے کتنی ہی کہانیاں کیوں نہ ہوں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ جب ریاست کسی خطے میں تعلیم، روزگار، انصاف اور تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو جائے تو وہاں بندوق خودبخود بولنے لگتی ہے۔

یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ کچے کے علاقے دہائیوں تک انتظامی غفلت کا شکار رہے۔ نہ تعلیم میسر آئی، نہ علاج، نہ روزگار۔ نتیجہ یہ نکلا کہ طاقتور مسلح گروہ ہی انصاف اور روزگار کا متبادل بن گئے۔ نوجوانوں کے سامنے دو ہی راستے بچے۔ یا تو حالات پر صبر و شکر کر کے غربت کے ریوڑ میں گھس جائیں یا بندوق اٹھا کر طاقت حاصل کر لیں۔ ریاست نے برسوں تک اس خلا کو پُر کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی مگر اس غفلت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اغوا برائے تاوان، قتل اور ریاست کو چیلنج کرنا قابلِ قبول ہو جائے۔ ریاست اگر کمزور تھی تو اس کی قیمت معصوم شہریوں نے کیوں ادا کی؟

سرنڈر کرنے والے ڈاکوؤں کے مطالبات میں تحفظ، رعایت اور نئی زندگی کی ضمانت شامل ہے۔ ریاست کو یہاں جذبات نہیں، قانون کی زبان بولنی ہوگی۔ جو ہاتھ بے گناہوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، ان کے لیے کوئی رعایت نہیں ہونی چاہیے، البتہ جو کم عمر یا کم شدت کے جرائم میں ملوث رہے، ان کے لیے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اصلاح کا راستہ نکالا جا سکتا ہے۔ سرنڈر کرنے والے ڈاکو تحفظ، منصفانہ قانونی عمل اور روزگار کے مواقع چاہتے ہیں۔ یہاں ایک نازک توازن قائم رکھنا ہو گا۔ ریاست کو رحم اور رعایت میں فرق واضح کرنا ہو گا۔ جو لوگ قتل، اغوا اور دہشت پھیلانے میں ملوث رہے انہیں قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔ البتہ وہ نوجوان جو حالات کے جبر سے اس دلدل میں اترے ان کے لیے ہنرمندی اور نگرانی کے ساتھ سماج میں باعزت واپسی کا راستا کھلا ہونا چاہیے۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا ڈاکوؤں کا حالیہ سرنڈر پائیدار ہے؟ یہ سرنڈر اس وقت تک پائیدار نہیں ہو سکتا جب تک کچے کے علاقے میں مستقل پولیس چوکیوں کا قیام نہ ہو گا۔ وہاں اسکولز، بنیادی مراکزِ صحت اور سڑکیں نہیں بنیں گی۔ وہاں نوجوانوں کے لیے روزگار اور فنی تربیت کا بندوبست نہ ہو جائے گا۔ وہاں اس وقت امن قائم نہیں ہو سکے گا جب تک مقامی سرداروں اور بااثر افراد کی ریاستی اجارہ داری ختم نہ کی جائے گی۔ صرف آپریشن وقتی امن تو دے سکتا ہے مگر دیرپا امن صرف ریاستی موجودگی سے آتا ہے۔ اس لیے یہ امر پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ صرف آپریشن دیرپا امن کی ضمانت نہیں۔ اگر پولیس کی موجودگی عارضی رہی، اگر کچے کے علاقوں میں اسکول، اسپتال اور روزگار کے مواقع نہ پہنچے تو بندوق دوبارہ بول سکتی ہے۔ ریاست کو اب نصف دل سے نہیں بلکہ مکمل اختیار کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔

میڈیا اور سماج کو بھی محتاط رہنا ہوگا۔ ڈاکوؤں کو مظلوم بنا کر پیش کرنا نہ صرف شہداء کی قربانیوں کی توہین ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے خطرناک پیغام بھی۔ محرومی کا علاج ریاستی اصلاح ہے، جرم کی توجیہ نہیں۔ کچے کے ڈاکوؤں کا سرنڈر دراصل ریاست کے لیے ایک امتحان ہے۔ اگر اس موقع کو سنجیدہ حکمرانی، مستقل سکیورٹی اور سماجی ترقی میں نہ بدلا گیا تو یہ کامیابی وقتی ثابت ہوگی اور اگر ریاست نے اپنی رِٹ قائم رکھتے ہوئے انصاف، ترقی اور قانون کو یکجا کر دیا تو یہی سرنڈر تاریخ کا اہم موڑ بن سکتا ہے۔ اب ریاست کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا کچے کے کنارے ہمیشہ بندوق کی بازگشت سنائی دیتی رہے گی یا اب وہاں قانون کی آواز بلند ہوگی؟