طالبان کہانی: افغان طالبان سے پاکستانی طالبان تک

گزشتہ سے پیوستہ:
اسی طرح ان سب کے گھر بار کہاں تھے؟ ملا عمر کی حکومت ختم ہوئی تو ان کا بیٹا ملا یعقوب تب دس گیارہ برس کا ہوگا، آخر اس نے امریکا کے خلاف مزاحمت والا عرصہ کہاں گزارا؟ کہاں سے پڑھا؟ دیگر لیڈروں ملا برادر، ملا ہبت اللہ، ملا حسن اخوندزادہ، عبدالسلام حنفی، امیر خان متقی اور دیگر کے بچے آخر کہاں پڑھے؟ یہ سوال آپ کو، مجھے اور سب کو پوچھنا چاہیے۔ یہ کوئی پیچیدہ سوال نہیں، ایک بالکل سادہ اور فطری سوال ہے۔

یہاں عموماً یہ اعتراض اٹھایا جاتا ہے کہ ملا ضعیف کو پاکستان نے گرفتار کر کے امریکا کے حوالے کیا تھا، مگر یہ ایک الگ اور متنازع معاملہ ہے، جسے بنیاد بنا کر پورے تناظر کو رد کرنا علمی دیانت کے خلاف ہے۔ وہ ایک الگ کہانی ہے اور شاید اس طرح درست بھی نہیں جیسا کہ ملا ضعیف نے بیان کیا، لیکن اگر اسے سچ مان لیں تب بھی ملا ضعیف کے بعد کسی اور کو پکڑ کر کیوں نہیں دیا گیا؟ پھر یہ بھی سوچیے کہ ہزاروں طالبان جنگوں میں زخمی ہوئے، شدید زخمی بھی، بعض کے ہاتھ اور ٹانگ وغیرہ بھی بارودی سرنگ یا بم، گولے وغیرہ سے ضائع ہو جاتی۔ امریکی فوجی ہزاروں لاکھوں ٹن گولہ باردو برساتے رہے، بمباری کرتے رہے، ان کے پاس ڈرون بھی تھے، سب کچھ تھا۔ کچھ نہ کچھ تو اس کا بھی اثر ہوا ہوگا؟ آخر لڑنے والے طالبان جنگجو بھی انسان ہی تھے۔ وہ کوئی جن یا خلائی مخلوق تو نہیں تھے کہ گولہ، بم یا گولی ان پر اثر ہی نہ کرے۔ یہ زخمی تو ہوئے ہوں گے؟ پھر آخر ان کا علاج کہاں ہوتا رہا؟ افغانستان میں تو ڈھنگ کے اسپتال ابھی تک نہیں۔ دو چار اسپتال وہ بھی بڑے شہروں کابل، قندھار، جلال آباد، مزار شریف وغیرہ میں ہیں۔ وہاں تو امریکیوں کا کنٹرول تھا، کرزئی حکومت کے جاسوس، مخبر قدم قدم پر موجود تھے۔ پھر آخر ان طالبان جنگجوؤں نے اپنا علاج کہاں کرایا؟ کئی کئی ماہ تک کہاں زیر علاج رہے؟ شدید ترین برفانی موسم سرما یہ کہاں گزارتے اور تازہ دم ہوکر پھر سے اپریل میں لڑنے آجاتے تھے؟ ان تمام سوالات کا سادہ سا جواب ہے۔ پاکستان۔ پاکستان ہی وہ محفوظ پناہ گاہ تھا جہاں طالبان کو نہ صرف عارضی تحفظ ملا بلکہ تنظیمی بقا کے لئے ضروری سہولتیں بھی دستیاب رہیں۔ ان کے بچے پاکستانی مدارس میں پڑھتے رہے۔ بعض محتاط اندازوں کے مطابق ہزاروں بلکہ دسیوں ہزار طالبان جنگجو اس طویل جنگ کے دوران زخمی ہوئے، جن میں بڑی تعداد شدید زخمیوں کی تھی جنہیں طویل علاج کی ضرورت پڑی۔ یہ سب پاکستان کے بہترین اسپتالوں سے مفت اپنا علاج کراتے رہے۔

پاکستان نے بظاہر امریکا کے ساتھ اتحاد برقرار رکھا، مگر زمینی حقائق میں افغان طالبان کے معاملے پر ایک مختلف حکمتِ عملی اختیار کیے رکھی، جسے بعد میں خود امریکی حکام نے ڈبل گیم قرار دیا۔ خود امریکی ماہرین کے مطابق پاکستان نے بے شک امریکا کو لاجسٹک سپورٹ کے نام پر اڈے دیے، ان کا اتحادی بنا، مگر درپردہ پاکستانی اداروں نے افغان طالبان کو سپورٹ کیا۔ انہیں پناہ دی، فنڈز دیے، اسلحہ اور لڑائی کے لیے مدد بھی دی، ان کے بچوں کو بخیر وعافیت بہترین مدارس اور پاکستانی گورنمنٹ اسکولوں میں پڑھنے دیا۔ یاد رہے کہ یہ سب ایسی صورت میں ہوا کہ سی آئی اے کے ایجنٹ بھوکے بھیڑیوں کی طرح پاکستان میں طالبان لیڈروں کی بو سونگھتے پھر رہے تھے۔ آپ نے بلیک واٹر کا نام تو سنا ہی ہوگا؟ یہ بلیک واٹر کیا تھی، پاکستان کیا کرنے آئی تھی؟ بلیک واٹر جیسے نجی امریکی نیٹ ورکس کی پاکستان میں موجودی کا بنیادی مقصد افغان طالبان سے وابستہ افراد کی نشاندہی اور گرفتاری تھا اور ریمنڈ ڈیوس کا کیس بھی اسی بڑے پس منظر سے جڑا ہوا تھا۔ یہ ریمنڈ ڈیوس یہاں پر اسی چکر میں آیا تھا، اس نے پاکستان میں کوئی چوری، ڈاکا یا فراڈ نہیں کرنا تھا۔ اسے جانے کی اجازت بھی اسی لیے دی گئی تھی کہ اس بہانے پاکستان نے ان سینکڑوں، ہزاروں بلیک واٹر ایجنٹوں سے نجات پا لی تھی۔ ریمنڈ ڈیوس کے ساتھ ہی بلیک ایجنٹس بھی پاکستان سے نکال باہر کیے گئے۔ ہمارے ہاں ریمنڈ ڈیوس کو چھوڑے جانے پر بہت کچھ لکھا، کہا جاتا رہا، مگر کوئی یہ نہیں سوچتا کہ آخر ایسا کیوں کیا گیا؟ اس سے کیا فائدہ اٹھایا گیا؟

آپ میں سے جو اخبار پڑھتے، عالمی اخبار دیکھتے ہیں، انہیں یاد ہوگا کہ مسلسل امریکی جرنیل علانیہ پاکستان پر تنقید کرتے اور ڈبل گیم کا الزام لگاتے تھے۔ انٹرنیٹ پر آج بھی بے شمار بیانات مل جائیں گے، جنرل میکرسٹل، ایڈمرل ملن اور دیگر امریکی کمانڈروں کے جنہیں پاکستان سے شکوے شکایات تھیں۔ آخر امریکی ایسا کیوں کرتے تھے؟ وہ لاڈ پیار میں تو پاکستان سے شکوے نہیں کرتے تھے، کوئی وجہ تھی تو یہ چیختے چلاتے تھے، الزام لگاتے تھے۔ حتی کہ طیش میں آ کر پاکستانی چیک پوسٹوں کو بھی نشانہ بنا ڈالتے، سلالہ جیسے سانحے تب ہوئے۔ پاکستان نے یہ سب افغان طالبان کی سپورٹ میں سہا، برداشت کیا۔ سی آئی اے سے قریبی تعلق رکھنے والے امریکی مصنفین نے کئی سو صفحات پر مبنی کتابیں لکھ ماریں۔ سٹیو کول کی کتاب ڈائریکٹریٹ ایس ہی پڑھ کر دیکھ لیں۔ سٹیو کول ایوارڈ یافتہ مصنف ہے۔ اس نے کتاب میں لکھا ہے کہ ڈائریکٹوریٹ ایس پاکستانی پریمیئر ایجنسی کا وہ شعبہ ہے جو افغان طالبان سے ڈیل کرتا تھا۔ اس کتاب اور دیگر بے شمار آرٹیکلز، کتابوں اور تجزیوں میں یہی لکھا جاتا رہا کہ پاکستان افغان طالبان کی سپورٹ کر رہا ہے، وہ امریکیوں کے ساتھ حقیقی تعاون نہیں کر رہا، سچ نہیں بولتا۔ ورنہ یہ افغان طالبان کی مزاحمت چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گی۔

یہ بات درست ہے۔ پاکستان اگر سپورٹ نہ کرتا، ان کی پشت پناہی نہ کرتا تو پھر آخر حقانی نیٹ ورک اور اس کے جنگجو آخر کیسے شمالی وزیرستان میں کئی سال تک سروائیو کرتے؟ پورے 10سال تک پاکستان نے یہ دباؤ برداشت کیا، آخر مجبور ہوکر وہاں آپریشن کیا تو پہلے مناسب وقت اور موقع دیا کہ یہ آرام سے جگہ چھوڑ کر کسی محفوظ جگہ چلے جائیں۔ پاکستان کی سپورٹ اور مدد کے باعث ہی کوئٹہ شوری دو عشرے محفوظ بیٹھی رہی۔ ملا ہبت اللہ کچلاک کی ایک چھوٹی سی مسجد میں سکون سے 20سال کیسے بیٹھے رہتے؟ملا برادر ایک جوائنٹ آپریشن میں پکڑے گئے، مگر پاکستان نے ملا برادر کو امریکیوں کے حوالے نہیں کیا۔ 10سال تک وہ بظاہر حراست میں مگر ایک سیف ہاؤس میں مقیم رہے۔ ان کے بچے کراچی کے ایک دینی مدرسہ میں زیر تعلیم تھے، (نام بتانے کی ضرورت ہی نہیں، بس اتنا کہ وہ وطن عزیز سے محبت کرنے والے مخلص پاکستانیوں کا مدرسہ ہے۔) ملا برادر کے بچے چھٹیوں میں کئی کئی دن تک اپنے والد محترم سے ملنے اس سیف ہاؤس میں جاکر مقیم رہتے۔ یہی باقی لیڈروں کے ساتھ ہوا۔ حتی کہ قطر نے 2014میں مذاکرات کے لیے دوحہ میں جگہ دی اور چند ایک طالبان لیڈر وہاں چلے گئے مگر جنگجو کمانڈر اور فیلڈ میں لڑنے والے بہرحال پاکستان ہی مقیم رہے۔

جامعة الرشید کے مہتمم مفتی عبدالرحیم جو ایک طرح سے افغان طالبان کے محسن ہیں، جنہوں نے اپنے شیخ حضرت مفتی رشید احمد کی زیرسرپرستی ملا عمر کے دور میں افغانستان رہ کر بے پناہ کام کیا، کئی عیدیں وہاں گزاریں تاکہ عید کے موقع پر طالبان کو مفت روٹی فراہم کرنے والے تنوروں کی نگرانی کی جا سکے۔ انہی مفتی عبدالرحیم صاحب کے 2بھائی اور بعض دیگر قریبی عزیز افغان طالبان کے ہمراہ لڑتے ہوئے شہید ہوئے، مفتی عبدالرحیم خود بھی کئی طبی عوارض کا شکار افغانستان میں بے تحاشا سفر کے باعث ہوئے۔ آج افغان طالبان اسی مفتی عبدالرحیم کا نام سننا گوارا نہیں کرتے۔ پاکستانی قوم کو ایسے شخص کو تو سیلوٹ کرنا چاہیے جس نے پاکستان کو ترجیح دی اور اپنے وطن، اپنے دیس کی خاطر طنز، طعنے برداشت کیے۔ خیر تو بتانا یہ تھا کہ انہی افغان طالبان لیڈروں ملا برادر، ملا جلیل اور دیگر لیڈروں کو مفتی عبدالرحیم صاحب نے کراچی کے 2دیگر ممتاز علماء دین کے ساتھ مل کر، کوشش کر کے اہم حلقوں تک رسائی دلائی۔ افغان طالبان لیڈروں نے تب مقتدر حلقوں اور اداروں کو یقین دہانی دلائی کہ ہم پاکستان میں مسلح جدوجہد کو غیر شرعی اور ناجائز سمجھتے ہیں اور اس کے شدید مخالف ہیں۔ اس دور میں افغان طالبان کے یہی رہنما پاکستانی اداروں سے مسلسل تعاون، تحفظ اور سہولتوں کے خواہاں تھے اور واضح یقین دہانیاں کراتے تھے کہ وہ پاکستان میں کسی بھی مسلح سرگرمی کے مخالف رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں تحفظ اور سپورٹ دیں، امریکی ایجنٹوں سے پناہ دلائیں اور ہمیں گوریلا تحریک چلانے دیں۔ جب ہم برسراقتدار آ جائیں گے تو انتہائی پرامن اور بہترین ہمسایہ کے طور پر رہیں گے۔ آج ان کا طرزعمل جو ہے، وہ بتانے کی ضرورت ہی نہیں۔ نوٹ: (یہ کہانی طویل بھی ہے اور اس کے کئی پہلو اور پرتیں ہیں۔ اس بار اللہ نے چاہا تو کھل کر بات ہوگی۔ ایک نشست میں یہ نمٹائی نہیں جا سکتی۔ اس لیے اس کا اگلا حصہ بھی قارئین کے سامنے پیش کیا جائے گا۔