بلوچستان میں بیک وقت کئی شہروں اور مقامات پر ہفتے کے روز بی ایل اے کے حملے پریشان کن اور کسی حد تک سرپرائز کا عنصر بھی لیے ہوئے تھے۔ چند گھنٹوں بعد البتہ صورتحال بدل گئی، جب ہر جگہ فورسز نے کنٹرول سنبھال لیا، کئی جگہوں پر حملہ آور گوریلے مارے گئے اور تمام جگہوں سے بھاگ نکلنے پر مجبور ہو گئے۔ نقصان تو ہوا، صوبائی حکومت کی رٹ پر ڈینٹ بھی پڑا۔ یہ سب تشویش والی باتیں ہیں، یقینی طور پر فورسز اور عسکری منصوبہ ساز ان چیزوں کو دیکھ رہے ہوں گے۔ یہ اندازہ ہوا ہوگا کہ کہاں کہاں پر ان کی قوت ابھی موجود ہے اور حملوں کا پیٹرن کیا نئی چیزیں سامنے لایا؟ جیسے اس بار کم از کم دو جگہوں پر خواتین حملہ آور بھی تھیں، ایک نے تو شاید خودکش حملہ بھی کیا۔ پچھلے دو تین برسوں میں ایک دو بار خودکش خاتون حملہ آور استعمال ہوئی، مگر یہ نیا پیڑن ہے کہ حملہ کرنے والے گوریلوں کے ساتھ خاتون حملہ آور موٹر سائیکل چلا کر آئیں اور ساتھ ویڈیوز بھی بنوائیں۔اس بار ایک نیا کام بھی کیا گیا۔ بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب ہیں۔ اس سے پہلے یہ اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ اس دہشت گرد تنظیم کا سربراہ پاکستان سے باہر رہ کر کنٹرول کر رہا ہے۔
ہفتے کے روز ہونے والی اس پوری کارروائی کو دیکھنے کے دو زاویے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ ایک عام شخص کی نظر سے دیکھیں۔ آپ کے اندر کسی بھی سیاسی، لسانی یا دیگر وجوہ کی بنا پر ناراضی یا شکایات موجود ہیں، اندر غصہ اور تلخی ہے۔ اس کڑواہٹ اور برہمی کی وجہ سے آپ حکومت کی ہر بات مسترد کر دیں اور مکمل طور پر بی ایل اے کا تشہیر کردہ بیانیہ اپنا لیں۔ آپ وہ سمجھیں جو بی ایل اے کے منصوبہ ساز اور ان کے پیچھے اصل اسکرپٹ لکھنے والے آپ کو سمجھانا چاہتے ہیں۔ یہ ملی ٹنٹ گروپ جس انداز کی برین واشنگ کرنا چاہتے ہیں، آپ اسی رو میں بہہ نکلیں۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اب جبکہ حملہ ختم ہو گیا، دو دن گزر چکے۔ آپ ٹھنڈے دل سے، غیرجذباتی انداز میں پوری صورتحال کا تجزیہ کریں۔ چیزوں کو گہرائی سے دیکھیں اور وہ نتائج اخذ کریں جو حقیقی ہیں۔ آپ سیاسی مخالفت میں نہ بہہ جائیں، غصے اور ردعمل کی نفسیات سے باہر آ جائیں اور غیرجانبدارانہ تجزیہ کریں۔
اگر آپ بے لاگ اور نیوٹرل تجزیہ کریں گے تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ بلوچستان میں جو ہوا، وہ کسی مزاحمتی تحریک کی کارروائی نہیں تھی بلکہ ایک دہشت گرد نیٹ ورک کی گھبراہٹ زدہ یلغار تھی۔ یہ سب اس بات کا اعلان تھا کہ بی ایل اے اب لڑ نہیں رہی، چیخ رہی ہے۔ گوریلا جنگ حکمت سے لڑی جاتی ہے، خوف سے نہیں اور جو تنظیم خوف کو ہتھیار بنا لے وہ اپنی سیاسی موت خود لکھتی ہے۔بی ایل اے والے خود کو (نام نہاد) حریت پسند کہتے ہیں مگر جو ہوا وہ آزادی کی جنگ نہیں تھی، یہ عوام کے خلاف اعلانِ جنگ تھا۔ ہفتہ کے روز بلوچستان میں جو مناظر دیکھے گئے، وہ گوریلا وارفیئر نہیں بلکہ دہشت گردی کے کلاسیکی نمونے تھے، سرکاری افسران کے اغوا کی کوشش، انفرااسٹرکچر پر حملے، آگ اور دھماکے۔ بی ایل اے نے خود ثابت کر دیا کہ وہ ریاست سے نہیں، معاشرے سے لڑ رہی ہے۔ یاد رکھیں کہ ایسی لڑائیاں کبھی جیتی نہیں جاتیں۔ گوریلا تحریکیں تب ہی اس طرح بکھر کر وار کرتی ہیں جب ان کے پاس عوامی حمایت بچتی ہے نہ سیاسی راستہ۔ بلوچستان میں بی ایل اے کی حالیہ کارروائیاں اسی مرحلے کی نشاندہی کرتی ہیں، زیادہ شور، کم کنٹرول اور تقریباً صفر اینڈ گیم۔
بات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ بی ایل اے نے ہفتے کو جو کیا انہیں ناکامی ہوئی، انہیں بھاگنا پڑا۔ ان کا خیال ہوگا کہ شاید بعض علاقوں پر وہ 24گھنٹے یا دو دنوں تک کنٹرول رکھ پائیں، ایسا نہیں ہوا۔اب ہفتے والے ناکام ایڈونچر کا نقصان یہ ہوا کہ ان کا جانی نقصان بھی ہوا، حملوں کا پیٹرن بھی ظاہر ہو گیا اور اس طرح کا شدید حملہ وہ ہر دو چار دنوں کے بعد کر نہیں سکتے۔ یعنی وہ اس لڑائی کی شدت بڑھانے کی بجائے کم کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ یہ کلاسیکل گوریلا وارفیئر میں غلطی، خامی بلکہ ناکامی تصور ہوتی ہے۔ شاید بی ایل اے اپنے آپ کو نمایاں اور کچھ ثابت کرنا چاہتی تھی۔ یہ کہنا شاید زیادہ درست ہوگا کہ اس کے ہینڈلرز کچھ ثابت کرنا اور کچھ مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے۔ خوش قسمتی کہیں یا جو بھی، وہ دہشت گرد پلانر یہ مقصد حاصل نہیں کر سکے۔
بی ایل اے کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنی کارروائیوں میں شدت لانا چاہتی ہے، مگر ایسا کر کے وہ عوام کو نشانہ بنا رہی ہے۔ عوام میں خوف پھیلا رہی ہے اور خوف ہمیشہ گوریلا تنظیموں کے خلاف جاتا ہے۔ خوف سے دل نہیں جیتے جاتے۔ گوریلا تنظیمیں عوامی حمایت پر کھڑی ہوتی ہیں۔ اس طرح کے حملے، دھماکے، عوام کو نشانہ بنانے سے حمایت کم بلکہ ختم ہو جاتی ہے۔ یاد رکھیں کہ گوریلا جب دہشت گرد بن جائے تو اس کی قبر وہی عوام کھودتے ہیں جن کے نام پر وہ لڑنے کا دعوی کرتا ہے۔
ادھر ریاست کے پاس ایک ہی آپشن ہے۔ ریاست کا مسئلہ اختلاف نہیں، دہشت گردی ہے اور دہشت گردی کا جواب ہمیشہ طاقت ہی ہوتی ہے۔ جو گروہ اپنے ہی عوام کے تحفظ، روزگار اور نظم ریاست کو نشانہ بنائے وہ مزاحمت نہیں، بغاوت کے نام پر جرم کرتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کی ریاست وقتی دباؤ میں آ سکتی ہے مگر اس کی ساخت، ادارے اور معاشرتی جڑیں کسی گوریلا گروہ سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔
بلوچستان میں کل جو کچھ ہوا، اس پر کسی بحث یا لمبے چوڑے دلائل کی ضرورت نہیں۔ جو گروہ سرکاری افسران کو اغوا کرے، انفرااسٹرکچر جلائے، عام لوگوں کے روزگار اور تحفظ کو نشانہ بنائے، وہ کسی بھی اخلاقی پیمانے پر مزاحمت نہیں کہلا سکتا۔ یہ دہشت گردی ہے، خالص اور سیدھی۔بی ایل اے نے اپنی کارروائیوں سے خود ثابت کر دیا ہے کہ اس کی جنگ ریاست کے خلاف نہیں، معاشرے کے خلاف ہے۔ جو جنگ معاشرے سے ہو، اس کا فیصلہ تاریخ بہت جلد سنا دیتی ہے۔ بلوچستان کے ان دہشت گرد گروہوں کو ہارنا ہی پڑے گا۔ انہیں ختم ہونا ہی ہے۔
یہ تاریخ کا آزمودہ اور جچا تلا اصول ہے۔ بی ایل اے اس سے مستثنیٰ نہیں ہوسکتی۔ باقی سب کہانیاں ہیں بابا۔

