گوگل اور ایمازون کا پروجیکٹ نمبس 1.2بلین ڈالر کاایک کاروباری معاہدہ تھا جو 2021میں کیا گیا تھا۔ یہ ٹیکنالوجی کی دنیا کا وہ تاریک دن تھا جس نے ”کلاؤڈ کمپیوٹنگ” کو ایک مہلک ہتھیار میں بدل دیا تھا۔ گوگل سرچ انجن اور ایمیزون کی کلاؤڈ سروسز جنہیں ہم زندگی آسان بنانے کا ذریعہ سمجھتے تھے، وہ غزہ کی گلیوں میں موت کا سراغ لگانے کے لیے استعمال ہو نے جا رہی تھی۔ یہ ٹیکنالوجی کا وہ خوفناک چہرہ تھا جہاں سیلیکون ویلی میں لکھے گئے ”کوڈز” غزہ کے معصوم گھروں پر گرنے والے بموں کا راستہ متعین کر رہے تھے۔
یہ محض ایک پروجیکٹ نہیں تھا، یہ ایک ایسا ”ڈیجیٹل جال” تھا جس نے جنگ کے پورے انداز کو ایک نئی اور لرزہ خیز واردات میں بدل دیا تھا۔ آئیے ہم اس پروجیکٹ کی گہرائی میں اترتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ پورا کھیل اصل میں تھا کیا؟ پروجیکٹ نمبس ایک ارب بیس کروڑ ڈالر یعنی تقریباً تین سو تینتیس ارب روپے کا ایک بہت بڑا معاہدہ تھا جو 2021میں اسرائیل، گوگل اور ایمیزون کے درمیان طے پایا تھا۔ بظاہر دنیا کو بتایا گیا تھا کہ یہ معاہدہ اسرائیل کے سرکاری اداروں کو ڈیٹا اسٹوریج کی سہولیات دے گا لیکن اس کی اصل حقیقت یہ تھی کہ اس کلاؤڈ سسٹم کا سب سے بڑا استعمال کنندہ اسرائیل کی ملٹری اور اس کی وزارتِ دفاع تھی۔
حالیہ غزہ جنگ کے میں اسرائیل نے اس جدید ٹیکنالوجی کو بے رحمی سے استعمال کرتے ہوئے فلسطینیوں کو چن چن کر شہید کیا تو اس ”ڈیجیٹل قید خانے” کی دیواریں معصوموں کے خون سے رنگین ہونے لگیں۔ جیسے ہی یہ انکشافات سامنے آئے کہ گوگل اور ایمیزون کا فراہم کردہ ڈیٹا براہِ راست میزائل حملوں اور ”ٹارگٹ کلنگ” کے لئے استعمال ہو رہا ہے تو خود گوگل کے اندر سے ایک غیر متوقع بغاوت نے جنم لیا۔ گوگل کے ملازمین، جنہیں یہ بتایا گیا تھا کہ ان کا کام دنیا کو جوڑنا ہے، جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ ان کے لکھے ہوئے ”الگورتھمز” اور ”کوڈز” غزہ میں معصوم بچوں اور خاندانوں کے قتلِ عام میں معاون ثابت ہو رہے ہیں تو ان میں سے کچھ کے ضمیر جاگ اٹھے۔ No Tech for Apartheid کے بینر تلے ایک بڑی احتجاجی تحریک شروع ہو ئی جس میں گوگل کے ملازمین نے اپنی شاندار ملازمتوں اور مراعات کی پروا کیے بغیرگوگل کے دفاتر میں دھرنے دے دیے اور دنیا کو بتایا کہ اس ٹیکنالوجی کو ”نسل کشی” کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ گوگل انتظامیہ نے اس آواز کو دبانے کے لیے ان تمام ملازمین کو ملازمت سے برطرف کر دیا تھا۔
یہ احتجاج کرنے والے کوئی عام لوگ نہیں تھے، یہ گوگل کے وہ سینئر سافٹ ویئر انجینئرز، ڈیٹا سائنٹسٹ اور پروجیکٹ منیجرز تھے جن کے دماغ سے یہ کمپنیاں چلتی تھیں۔ ان میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ عیسائی اور وہ باضمیر یہودی بھی تھے جو سمجھتے تھے کہ ان کی دن رات کی محنت اب معصوم بچوں کا خون بہانے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ ان کا مطالبہ بہت سادہ مگر دوٹوک تھا کہ پروجیکٹ نمبس کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور گوگل اسرائیلی فوج کے ساتھ کیے گئے تمام عسکری معاہدے منسوخ کرے لیکن افسوس کارپوریٹ دنیا کے بے رحم مالکان کو، انسانی جانوں سے زیادہ ڈالر عزیز تھے۔ یہ محض ایک کمپنی اور اس کے ملازمین کا جھگڑا نہیں تھا بلکہ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ ٹیکنالوجی کے اس خونی کھیل میں اب ایک ایسی نظریاتی جنگ چھڑ چکی ہے، جہاں ایک طرف اربوں ڈالر کا منافع ہے اور دوسری طرف انسانیت کا سسکتا ہوا ضمیر۔ ان ملازمین کی قربانی نے یہ واضح کر دیا تھا کہ پروجیکٹ نمبس کے پیچھے چھپا ”ڈیجیٹل بادل” درحقیقت ایک ایسا سیاہ دھبا تھا جو انسانی زندگیوں کے پرخچے اڑا رہا تھا۔
آپ کے ذہن میں یہ سوال ضرور آئے گا کہ گوگل اپنے قابل ملازمین کو نکالنے پر کیوں بضد تھا؟ اس کی وجہ وہ خطرناک چالاکی تھی جو اسرائیل نے اس معاہدے میں چھپا رکھی تھی۔ پروجیکٹ نمبس کے معاہدے میں ایک ”نو ایگزٹ” کلاز شامل کیا گیا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر کل کو پوری دنیا میں اسرائیل کا بائیکاٹ کرتی ہے یا خود گوگل کے اندر کوئی بڑی بغاوت جنم لیتی ہے تب بھی گوگل یہ معاہدہ کسی صورت ختم نہیں کر سکتا۔ اسرائیل نے قانونی طور پر گوگل اور ایمیزون کے ہاتھ اس طرح باندھ دیے تھے کہ اب وہ ٹیکنالوجی فراہم کرنے سے انکار نہیں کر سکتے تھے۔
پروجیکٹ نمبس کی یہ داستان ہمیں بتاتی ہے کہ پوری دنیا اس وقت ”ڈیجیٹل قید خانے” میں محصور ہے۔ ہماری پوری ڈیجیٹل زندگی، ہمارا ڈیٹا، ہماری ای میلز، ہمارا کاروبار اور یہاں تک کہ تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی انہی کی ملکیت ہیں۔ ہم ایک ایسے ”ڈیجیٹل قید خانے” میں محصور ہو چکے ہیں جس کی چابیاں ہمارے دشمنوں کے پاس ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ جب تک ہم ٹیکنالوجی کے میدان میں خودکفیل نہیں ہوتے اور اپنے نظام خود وضع نہیں کرتے تب تک ہم اسی طرح بے بس رہیں گے۔
ہمیں یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ اب یہ وقت صرف جذباتی نعروں کا نہیں بلکہ ہوش مندی کے ساتھ اپنی ٹیکنالوجی اور معاشی بنیادیں استوار کرنے کا ہے۔ یہ وقت خوابِ غفلت سے جاگنے کا ہے۔ جب تک ہم صرف ”صارف” اور کنزیومر بنے رہیں گے، ہم اسی طرح محکوم اور رسوا ہوتے رہیں گے۔ ہمیں اب پروڈیوسر بننا ہوگا، ہمیں اپنا ”ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر” کھڑا کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنی ”مصنوعی ذہانت” بنانا ہوگی اور اپنے کلاؤڈ سسٹمز تیار کرنے ہوں گے۔ اگر مٹھی بھر یہودی اپنی معیشت اور دماغ کے زور پر پوری دنیا کو نچا سکتے ہیں تو دو ارب مسلمان ٹیکنالوجی کے میدان میں پیچھے کیوں ہیں؟ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم جذباتی تقریروں کے سحر اور کھوکھلے نعروں کی گونج سے نکلیں۔ ہم کمپیوٹر لیبز اور سائنس کے میدانوں میں اپنے شب وروز بتائیں۔ یہ لمحہ رونے دھونے کا نہیں بلکہ کچھ کر گزرنے کا ہے۔ یہ وقت بیدار ہونے اور اپنی پہچان اور اپنا دفاع خود بنانے کا ہے۔ اٹھئے! اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
اگر آج ہم نے اپنی ٹیکنالوجی خود ایجاد نہ کی توہماری آنے والی نسلیں ان ڈیجیٹل سسٹمز کی غلام ہوں گی۔ ان کی زندگی اور موت کا فیصلہ دشمن کے ایک ”کلک” اور ”الگورتھم” کا محتاج ہوگا۔ ان کی سانسوں کی ڈور دشمن کے ہاتھ میں ہوگی اور وہ اپنے ہی گھروں میں بے بس تماشائی بن کر رہ جائیں گے۔

