سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک تاریخی فیصلہ دیا ہے، جس کے تحت تھانے کے SHOکو بخدمت جناب لکھنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایس ایچ او عوام کا خادم ہے، عوام اس کے نوکر نہیں ہیں۔ اب SHOکو صرف ”جناب ایس ایچ او” لکھا جائے گا۔ سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ محض چند الفاظ کی تبدیلی نہیں بلکہ ریاست اور شہری کے تعلق کی ازسرِنو تشکیل ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے پولیس کو درخواستوں میں ”بخدمتِ جناب ایس ایچ او” لکھنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ پولیس افسر عوام کا خادم ہے، عوام اس کے نوکر نہیں۔ بظاہر یہ ایک معمولی لسانی تبدیلی دکھائی دیتی ہے مگر درحقیقت یہ نوآبادیاتی ذہنیت کے خاتمے اور شہری وقار کی بحالی کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ اگر فیصلے کی روح کے مطابق اس پر عمل درآمد ہو جائے تو یہ ایک ایسی مثبت تبدیلی ہوگی جس کے تحت ملک کے شہری بجا طور پر خود کو معزز سمجھنے لگ جائیں گے۔
برصغیر میں پولیس کا ادارہ انگریز راج کی پیداوار ہے۔ اس نظام کی بنیاد ہی رعایا کو محکوم اور حاکم کو مطلق العنان سمجھنے پر رکھی گئی تھی۔ بخدمتِ جناب جیسے الفاظ اسی ذہنیت کے عکاس ہیں جن میں درخواست گزار خود کو کم تر اور مخاطب کو برتر تسلیم کرتا ہے۔ یوں جیسے کوئی غلام اپنے آقا سے انصاف اور دادرسی کا طلبگار ہو۔ سپریم کورٹ نے اس غلامانہ زبان کو مسترد کر کے ایک واضح پیغام دیا ہے کہ آئین کے تحت تمام شہری برابر ہیں اور ریاستی ادارے عوام کی خدمت کے لیے وجود میں آئے ہیں، نہ کہ ان پر حکم چلانے کے لیے۔
عدالت نے ایف آئی آر کے اندراج سے متعلق بھی نہایت دوٹوک موقف اختیار کیا ہے۔ ایف آئی آر میں تاخیر کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ اس تاخیر سے شواہد ضائع ہونے اور انصاف کے تقاضے پامال ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ مزید برآں ایف آئی آر میں بلاجواز تاخیر پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 201کے تحت مقدمہ بنائے جانے کی وارننگ پولیس افسران کے لیے ایک سخت مگر ضروری تنبیہ ہے۔ یہ وہی مسئلہ ہے جس پر عوام دہائیوں سے شاکی ہیں کہ تھانے کا دروازہ انصاف کی بجائے سفارش، دباؤ اور اثر و رسوخ سے کھلتا ہے۔ سادہ الفاظ میں دفعہ 201کی وضاحت اس طرح کی جا سکتی ہے کہ اگر کوئی شخص یہ جانتے ہوئے کہ جرم ہو چکا ہے، جان بوجھ کر اس کے ثبوت مٹا دے، چھپا دے یا یا ملزم کو بچانے کی کوشش کرے تو اس پر دفعہ 201کے تحت مقدمہ بنتا ہے۔ دفعہ 201 کی سزا جرم کی سنگینی کے مطابق ہوتی ہے، مثلاً سزائے موت یا عمر قید والے جرم پر دفعہ 201کی سزا سات سال قید اور جرمانہ، دس سال قید والے جرم کی سزا تین سال تک قید اور جرمانہ جبکہ دیگر جرائم میں سزا کے 1/4تک قید اور جرمانہ ہو سکتی ہے۔
ایف آئی آر کے فوری اندراج کے لیے یقینا یہ ایک اہم فیصلہ ہے۔ فیصلے میںفریادی اورشکایت کنندہ جیسے الفاظ پر بھی غور کیا گیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ فریادی کا لفظ رحم مانگنے کا تاثر دیتا ہے، حالانکہ شہری کوئی احسان نہیں بلکہ اپنا آئینی حق مانگتا ہے۔ اسی لیے ایف آئی آر درج کروانے والے شہری کو ”اطلاع دہندہ” قرار دیا گیا ہے۔ یہ محض لفظی تبدیلی نہیں بلکہ سوچ کی تبدیلی ہے، ایک ایسی سوچ جو شہری کو کمزور اور ریاست کو طاقتور نہیں بلکہ شہری کو بااختیار اور ریاست کو جواب دہ بناتی ہے۔
یہ فیصلہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا جبکہ جوڈیشل لا کلرک محمد سبحان ملک کے نکتے پر عدالت نے واضح ہدایات جاری کیں۔ یہ امر بھی قابلِ تحسین ہے کہ اعلیٰ عدلیہ نے نہ صرف قانون کی تشریح کی بلکہ ریاستی رویے کی اصلاح کی سمت بھی متعین کی۔ دراصل مسئلہ صرف پولیس کا نہیں، بلکہ مجموعی ریاستی مزاج کا ہے جس میں عوام کو سائل اور اداروں کو حاکم سمجھا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ اسی سوچ کو جڑ سے ہلانے کی کوشش ہے۔
یہ سوال بہت اہم ہے کہ کیا یہ تاریخی فیصلہ عملی صورت اختیار کر پائے گا؟ ہمارے ہاں بہترین عدالتی فیصلے بھی اکثر فائلوں میں دب کر رہ جاتے ہیں۔ پولیس اصلاحات کی تاریخ گواہ ہے کہ ہدایات تو بہت جاری ہوئیں مگر تھانے کی دہلیز پر کھڑے عام شہری کی حالت کم ہی بدلی۔ اصل امتحان اس فیصلے پر عمل درآمد ہے۔ اگر پولیس افسران واقعی خود کو عوام کا خادم سمجھنے لگیں، ایف آئی آر کے اندراج میں ٹال مٹول ختم ہو جائے اور زبان کے ساتھ رویہ بھی بدل جائے تو یہ فیصلہ پاکستان میں قانون کی بالادستی کی جانب ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے ریاست اور شہری کے تعلق کی نئی تشریح پیش کر دی ہے۔ اب ذمہ داری حکومت، پولیس قیادت اور خود معاشرے پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس فیصلے کو کاغذی کارروائی بننے سے بچائیں۔ اگر ہم واقعی ایک مہذب، باوقار اور منصفانہ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں بخدمتِ جناب کے ساتھ ساتھ اس کے پیچھے چھپی غلامانہ سوچ کو بھی دفن کرنا ہوگا۔ یہی اس تاریخی فیصلے کا اصل پیغام ہے۔

