اجتہاد کا مسیحی دنیا سے مستعار تصور

پانچویں قسط:
آج سے کئی دہائیاں پہلے کی بات ہے۔ پاکستان کی اسمبلی میں ”شریعت بل” پیش تھا۔ سینیٹ میں اور قومی اسمبلی میں۔ جس کی بنیادی دفعہ یہ تھی کہ قرآن و سنت کا ملک کا سپریم لا ہوں گے، بالاتر قانون۔ اور اس قانون کے بننے کے بعد ملک میں کوئی قانون، کوئی رواج، کوئی بھی ضابطہ اگر قرآن و سنت کے منافی ہے، تو وہ ختم ہو جائے گا۔ 87کے شریعت بل کی بنیادی دفعہ یہ تھی۔ سینیٹ میں بھی زیر بحث رہا، منظور بھی ہوا۔ قومی اسمبلی میں بھی ہوا۔ بنیادی دفعہ یہ تھی کہ قرآن و سنت ملک کا سپریم لا ہوں گے، بالاتر قانون ہوں گے، اور اس کی منظوری کے بعد ملک میں جو قانون، جو رواج، جو ضابطہ، قرآن و سنت کے منافی ہو گا، وہ ختم ہو جائے گا۔

اس پر مظاہرے بھی ہوئے، ہنگامے بھی ہوئے، ہم نے بھی پارلیمنٹ کا گھیراؤ کیا تھا۔ حضرت مولانا عبد الحق صاحب رحمہ اللہ کی قیادت میں تمام مکاتبِ فکر کے لوگ، بڑی لمبی مہم چلی تھی۔ اس پر مذاکرات بھی ہوئے تھے۔ مذاکرات کا میں بھی حصہ تھا۔ اس وقت کے وزیر قانون اور وزیر مذہبی امور اور وزیر داخلہ، ان کے ساتھ ہمارے میز پہ مذاکرات ہوئے۔ بھئی، قرآن و سنت کو کیوں نہیں مانتے تم؟ انہوں نے کہا مان لیتے ہیں، ایک شرط تم مان لو۔ قرآن و سنت کی تعبیر اور تشریح میں پارلیمنٹ کو اتھارٹی مان لو، ہم قرآن و سنت کو سپریم لا مان لیتے ہیں۔ یعنی قرآن و سنت کی تعبیر اور تشریح میں مولوی نہیں، پارلیمنٹ کواتھارٹی تم مان لو کہ قرآن و سنت کی جو تعبیر پارلیمنٹ کر دے جو تشریح پارلیمنٹ کر دے، اکثریت کے ساتھ، وہ تم بھی مان لو گے، تو ہم قرآن و سنت کو سپریم لا مان لیتے ہیں۔ جھگڑا سمجھ میں آ رہا ہے؟ جھگڑا شریعت کا نہیں ہے، تعبیر کا ہے۔ قرآن و سنت کا نہیں، قرآن و سنت کی تعبیر کی اتھارٹی کا ہے۔

لاہور میں ایوانِ وقت میں بڑا مذاکرہ تھا۔ جسٹس نسیم حسن شاہ مرحوم، جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال، حامد میر صاحب کے والد محترم وارث میر مرحوم، اس لیول کے دانشور وہاں جمع تھے۔ نوائے وقت کا مذاکرہ تھا، میں بھی تھا اس میں۔ موضوعِ بحث یہ تھا کہ کیا پارلیمنٹ کو قرآن و سنت کی تعبیر اور تشریح کا اور اجتہاد کا حق دیا جا سکتا ہے؟ قرآن و سنت کی تعبیر اور تشریح اور اجتہادِ مطلق۔ مجتہدِ مطلق کا مطلب سمجھتے ہیں نا کہ ہم کسے کہتے ہیں؟ میں نے کہا بات یہ ہے کہ مجتہدینِ مطلق بیسیوں ہوئے ہیں لیکن امت نے چار پہ اتفاق کر لیا ہے، باقی فہرست سے خارج ہو گئے ہیں۔ تابعین کے دور میں مجتہدینِ مطلق بیسیوں تھے۔ اور آہستہ آہستہ امت کا چار پر اتفاق ہوگیا۔ اب بہت سے دوستوں کا جی چاہتا ہے پانچویں نمبر پہ نام لکھوانے کا، ہو نہیں رہا۔ میرے نزدیک متجددین کا سارا جھگڑا یہی ہے۔ ایک صاحب سے میں نے کہا، یار پانچویں نمبر پہ نام نہیں آئے گا، نہ وقت ضائع کرو اپنا، نہ ہمارا۔ وہ چار ہی رہیں گے۔ مجتہدینِ مطلق تابعین کے دور میں، اتباعِ تابعین کے دور میں بیسیوں تھے۔ حسن بصری بھی تھے، امام بخاری بھی تھے، مجتہدینِ مطلق تھے، طبری بھی تھے، قاسم بن سلّامہ بھی تھے، آہستہ آہستہ امت کا اتفاق کس پر ہو گیا؟ چار پر۔ اب وہ اتفاق چار پہ ہو گیا، وہ چار ہی رہنے ہیں قیامت تک۔ پانچویں نمبر پہ نام لکھوانے کی بڑے لوگوں نے کوششیں کی ہیں، ہر زمانے میں کی ہیں، نہیں ہوئی بات، میں کیا کر سکتا ہوں۔

لیکن انہوں نے کہا کہ کیا پارلیمنٹ کو اجتہادِ مطلق کا اور قرآن و سنت کی تعبیر اور تشریح کا اختیار دیا جا سکتا ہے؟ اب یہ بحث چل رہی ہے۔ اپنا اپنا نقطہ نظر سارے پیش کر رہے ہیں۔ میری باری آئی۔ مولانا آپ کیا کہتے ہیں؟ میں نے کہا، کیا جا سکتا ہے۔ پارلیمنٹ کو دین کی تعبیر اور تشریح اور اجتہاد کا حق دیا جا سکتا ہے۔ سارے میرے منہ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ یہ بات بالکل ان کی توقع کے خلاف تھی کہ میں یہ بات کہہ رہا ہوں! میں نے کہا، ایک شرط ہے چھوٹی سی۔ اجتہاد کی اہلیت کی شرائط طے کریں۔ سوال یہ تھا کہ کیا پارلیمنٹ کو اجتہاد کا اور دین کی تعبیر اور تشریح کا حق دیا جا سکتا ہے؟ میں نے کہا، دیا جا سکتا ہے۔ آپ کو سمجھ تو آ گئی ہوگی میری بات کی۔ میری کمزوری یہ ہے کہ میرا جواب دینے کا انداز ذرا مختلف ہوتا ہے۔ جن کو سمجھ نہیں آتی وہ غصے میں آجاتے ہیں۔ میرا کسی بھی بات میں جواب دینے کا انداز ذرا مختلف ہوتا ہے، میں ٹھنڈا ٹھنڈا جواب دیتا ہوں، جن کو سمجھ نہیں آتی وہ غصے میں آجاتے ہیں، ہو جاتا ہے، کوئی مسئلہ نہیں۔ میں نے کہا، ہو سکتا ہے، ایک شرط کے ساتھ۔ اجتہاد کی اہلیت کی شرطیں طے کریں، اور پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے وہ شرطیں ضروری قرار دے دیں، پارلیمنٹ کو اجتہاد کا حق دے دیں۔ الیکشن رولز میں ترمیم کر کے، پارلیمنٹ کا رکن بننے کے لیے وہ شرطیں ضروری قرار دے دیں، پارلیمنٹ کو اجتہاد کا حق دے دیں۔میں نے کہا، چلو، اجتہاد کی شرطیں بھی میں نہیں طے کرتا۔ باقاعدہ دستوری پراسس کے مطابق سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کریں کہ جناب اجتہاد کی شرطیں طے کریں، آج کے دور میں اجتہاد کے لیے اور قرآن و سنت کی تعبیر اور تشریح کے لیے اہلیت اور دیانت کی کیا شرائط ہیں، سپریم کورٹ طے کر دے۔ جو شرطیں سپریم کورٹ طے کرے، الیکشن رولز میں ترمیم کریں، ممبر بننے کے لیے وہ شرطیں قرار دے دیں، پارلیمنٹ کو اجتہاد کا حق دے دیں، مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ یہ جھگڑا عرض کر رہا ہوں کہ پارلیمنٹ کو شریعت کی تعبیر کا اختیار تسلیم کریں تو قرآن و سنت منظور ہیں اور اگر تشریح تم نے کرنی ہے، پھر نہیں۔ اس کے پیچھے کیا ہے؟ کہ کامن سینس سے تعبیر ہوگی، اور کامن سینس کی نمائندہ پارلیمنٹ ہے، تم نہیں ہو۔ دوسرے کا موقف بھی سمجھنا چاہیے۔ قرآن و سنت کی تعبیر میں کوئی اجارہ دار نہیں ہے، اُن کے بقول، کامن سینس سے قرآن و سنت کی تعبیر کریں گے۔ اور کامن سینس کی نمائندگی کون کرتا ہے؟ پارلیمنٹ کرتی ہے۔ اس لیے قرآن و سنت کی تعبیر اور تشریح کا اختیار پارلیمنٹ کو دے دیں تو ٹھیک ہے۔ اسی جھگڑے پر ”شریعت بل” فضا میں تحلیل ہو گیا۔ نہ ہم پارلیمنٹ کی اتھارٹی مان رہے ہیں، نہ وہ ہماری اتھارٹی تسلیم کر رہے ہیں۔ آج بھی جھگڑا یہ ہے۔ (جاری ہے)