ہم تعلیم میں کیوں پیچھے ہیں؟

ستر کی دہائی بھی کیا دَور تھا، سادہ، سچا اور کھرا زمانہ تھا۔ تب پروفیشنل ازم کا زیادہ چرچا نہیں تھا۔ لوگوں کی اکثریت ”نیم ہر فن مولا” ہوا کرتی تھی۔ ریڈیو مکینک ریڈیو کے علاوہ ٹارچ اور سائیکل بھی ٹھیک کر لیا کرتے تھے بلکہ سائیکلوں کو پنکچر بھی لگا دیتے تھے۔ کریانے والا پھل اور سبزی کے علاوہ پنسار کی چیزیں بھی فروخت کیا کرتا تھا۔ یہی سلسلہ تعلیمی اداروں میں بھی تھا۔ پرائمری اساتذہ کی تعلیمی قابلیت مڈل جے وی ہوا کرتی تھی۔ دیہات میں واقع اکثر پرائمری اسکولوں میں صرف ایک دو معلم ہوا کرتے تھے جو کچی جماعت سے لے کر پانچویں تک تمام بچوں کو تمام مضامین پڑھایا کرتے تھے۔ وہ مڈل پاس اساتذہ اتنے قابل ہوتے تھے کہ آٹھوں مضامین پر ان کی مکمل گرفت ہوتی تھی۔ صبح سے لے کر چھٹی ہونے تک اساتذہ تمام جماعتوں کو مسلسل مصروف رکھتے تھے۔ ایک استاد، چھ چھ کلاسز، چھ گھنٹے تک مسلسل پڑھائی، درمیان میں صرف چند منٹ تفریح کا وقفہ مگر استاد نے کبھی تھکاوٹ کی شکایت نہ کی تھی۔ نہ ہی استاد کبھی بیمار ہوتے تھے۔ بہت ہی کم دیکھنے میں آتا کہ استاد نے کبھی اسکول سے چھٹی کی ہو۔ بچے بھی روزانہ اسکول جاتے تھے۔

تب اسکول میں معائنہ کیلئے ایک ہی افسر آیا کرتا تھا جسے اے ڈی آئی (اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ انسپکٹر) کہا جاتا تھا۔ عرفِ عام میں اس افسر کو ”صاحب” کہا جاتا تھا۔ وہ کبھی با اطلاع اور کبھی بلا اطلاع ا سکول میں معائنہ کے لئے آیا کرتا تھا۔ سالانہ معائنہ بااطلاع ہوا کرتا تھا۔ صاحب سارا دن اسکول میں گزارتا تھا۔ ایک ایک طالب علم کی ذاتی صفائی، اس کے ناخنوں کی تراش خراش، کلاس روم کی صفائی، کتابوں اور کاپیوں کی حالت، طالب علموں کی خوش خطی سے لے کر تمام مضامین کی تعلیمی حالت چیک کی جاتی تھی۔ فنونِ عملی کے طور پر بچے اپنے گھروں سے مٹی سے مختلف سبزیوں، پھلوں اور دوسری چیزوں کے ماڈل بنا کر اور ان پر رنگ کر کے اسکول لے جاتے تھے۔ معائنہ والے دن ان ماڈلز کا معائنہ بھی کیا جاتا تھا اور اچھی کارکردگی والے طلبہ کو شاباش دی جاتی تھی۔ صاحب سے شاباش لینے والا طالب علم ہفتوں تک پھولے نہ سماتا تھا۔ شاباش کا لفظ اس دَور میں بہت بڑا انعام ہوتا تھا۔ اس سے آگے کا طالب علموں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ معائنہ چھٹی تک چلتا تھا۔ اس کے بعد صاحب لاگ بُک (اسکول کا معائنہ رجسٹر) منگواتا اور اسکول کی حالت، استاد اور طلبہ کی حاضری کی تعداد کے ساتھ ساتھ طالب علموں کی نصابی و غیر نصابی کارکردگی کی تفصیل درج کرتا۔ اچھے کاموں کی شاباش اور کمی و کوتاہی کی نشاندہی کرنے کے ساتھ بہتری کی تجاویز بھی درج کرتا تھا۔ اسکول میں یہ ایک یادگار دن ہوا کرتا تھا۔

پھر آہستہ آہستہ ا سپیشلائزیشن کا دور آنے لگا۔ ریڈیو، ٹی وی، ٹارچ اور استری کی مرمت کے الگ الگ مکینک معرضِ وجود میں آ گے۔ پہلے حکیم ہر بیماری کی تشخیص محض نبض دیکھ کر کیا کرتے تھے اور اس بیماری کا علاج بھی کر لیتے تھے۔ مریض تندرست بھی ہو جایا کرتے تھے۔ اب ہر مرض کے اسپیشلسٹ ڈاکٹر بن گئے، تھوڑا مزید آگے بڑھ کر دائیں کان کا الگ سپیشلسٹ اور بائیں کان کا الگ سپیشلسٹ ڈاکٹر آ گیا۔ پہلے حکیم نبض دیکھ کر مرض بتا دیا کرتے تھے۔ اب مرض کی تشخیص کے لئے سینکڑوں قسم کی مشینیں آ گئی ہیں۔ مگر ہزاروں روپے کے ٹیسٹ کروانے اور مہنگی ادویات استعمال کرنے کے باوجود مریض تندرست نہیں ہوتے۔

یہی حال محکمہ تعلیم میں بھی ہو گیا۔ پہلے استاد آل راؤنڈر تھے بلکہ ”ماسٹر آف آل ٹریڈز تھے”۔ تمام مضامین پر انہیں یکساں مہارت حاصل تھی۔ وہ محنتی تھے۔ ان کا مطالعہ بھی وسیع ہوتا تھا۔ ایک استاد چھ کلاسز کے تمام مضامین پڑھا کر سب مضامین میں بہترین نتائج دیتا تھا۔ پھر ”ماہرین تعلیم” نے ا سپیشلسٹ اساتذہ کی ضرورت پر زور دیا۔ اب کچی جماعت کو پڑھانے کے لئے بھی استاد کی قابلیت ایم اے پاس ہے۔ پرائمری کلاسز کو انگریزی، اردو، ریاضی اور سائنس کے مضامین پڑھانے کے لئے ان مضامین کے ماہر اساتذہ کا تقرر کیا جاتا ہے۔ مڈل اور ہائی کلاسز کے لئے ہر مضمون کے ماہر اساتذہ کو بھرتی کیا گیا ہے۔ پہلے ایک استاد چھ کلاسز کو دن بھر تمام مضامین پڑھاتا تھا، اب استاد دن میں پانچ یا چھ پریڈز صرف اس مضمون کے پڑھاتا ہے جس مضمون کا وہ ماہر ہے۔ مگر کوشش کے باوجود استاد تسلی بخش نتائج نہیں دے پا رہا۔ گزشتہ سال نہم کلاس کے بورڈ کے امتحان میں ساٹھ فیصد سے زائد طلبہ فیل ہو گئے اور امسال چند دن بعد آنے والے رزلٹ سے بھی یہی توقع ہے۔ کیا وجہ ہے کہ اتنی سہولیات اور پروفیشنل ازم کے اطلاق کے باوجود خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہو پا رہے؟

اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے اور وہ وجہ ہے ہر آنے والی حکومت کی تعلیم سے بے توجہی۔ تعلیم کسی بھی حکومت کی ترجیحات میں کبھی شامل ہی نہیں رہی۔ گزشتہ دو دہائیوں سے ایک عجیب رواج چلا ہوا ہے کہ اسکول کی عمارت، فرنیچر، رنگ و روغن اور اسکول میں ہریالی کی طرف بھرپور توجہ دی گئی ہے۔ مگر تعلیمی عمل کے مرکز یعنی طالب علم کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ استاد کو کبھی ڈینگی اور کبھی کورونا کے پیچھے لگا دیا جاتا ہے، وہ بیک وقت فوٹو گرافر، کمپیوٹر آپریٹر، مالی، چپڑاسی، خاکروب، کلرک اور چوکیدار تو ہے مگر اسے استاد نہیں بننے دیا جارہا۔ اسے اتنا وقت ہی نہیں دیا جاتا کہ وہ کلاس میں یکسوئی کے ساتھ طلبہ کو پڑھا سکے۔ اوپر ستّر اور اسّی کی دہائی کے اے ڈی آئی کے ا سکول معائنے کا ذکر آپ پڑھ چکے ہیں کہ کس طرح پورا دن لگا کر وہ ایک اسکول کا معائنہ کیا کرتا تھا۔

اب صورتِ حال یہ ہے کہ محکمہ تعلیم کا ضلعی سربراہ معائنہ کے لئے نکلتا ہے۔ دو تین گھنٹوں میں پانچ اسکول وزٹ کرتا ہے۔ وزٹ کے دوران اسکول کی صفائی، گھاس کی کٹائی، چار دیواری اور کمروں کی سفیدی، واش رومز کی صفائی، پینے کے پانی کا انتظام، محکمانہ ہدایات پر مشتمل فریم شدہ پینا فلیکسز کی تنصیب، روشنی کا مناسب انتظام، کھڑکیوں کے شیشے اور جالیوں کی حالت کو چیک کرتا ہے اور دفتر پہنچ کر وزٹ رپورٹ تیار کر کے حکامِ بالا کو بھیج دیتا ہے۔ یعنی صاحب بہادر صرف سہولیات کی دستیابی اور عدم دستیابی کو چیک کرتا ہے اور بس۔ جن طالب علموں کے لئے یہ تمام سہولیات مہیا کی جاتی ہیں ان کی طرف کبھی کسی افسر نے دیکھا تک نہیں۔ ان کی تعلیمی حالت کا جائزہ لینے کی ضرورت ہی کبھی محسوس نہیں کی گئی، اس لئے کہ محکمے کی طرف سے انہیں اس کی ہدایت ہی نہیں دی جاتی۔ (کچھ دردِ دل رکھنے والے ڈی ای اوز اس سے مستثنٰی ہیں جن کی تعداد بہت کم ہے اور درحقیقت وہی محکمہ تعلیم کے ماتھے کا جھومر ہیں) اس سے آپ حکومت کی تعلیم کے معاملے میں سنجیدگی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت نہم کا بورڈ کا رزلٹ چالیس فیصد سے بھی کم آنے کے باوجود بھونچال آنا تو درکنار ہلکی سی جنبش بھی نہیں ہوئی۔ ناقص تعلیمی پالیسیوں سے ہمارے اکابرین اپنی آنے والی نسل کو تباہ کرتے چلے جا رہے ہیں مگر افسوس کہ کسی کو اس زیاں کا احساس تک نہیں ہے۔