بلوچستان حملے، امریکا اور چین کیا سوچ رہے ہیں؟ الجزیرہ کی تہلکہ خیز رپورٹ

اسلام آباد:بلوچستان میں حالیہ شدت پسند حملوں نے پاکستان کی جانب سے امریکا اور چین کو دیے گئے اہم معاشی وعدوں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ستمبر میں وائٹ ہائوس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وزیر اعظم شہباز شریف کی موجودگی میں معدنی وسائل کے نمونے پیش کیے تھے، جس کا مقصد امریکا کو پاکستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری پر آمادہ کرنا تھا تاہم پانچ ماہ بعد بلوچستان میں بڑھتا ہوا تشدد ان وعدوں پر سوالیہ نشان بن چکا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چونکہ بلوچستان چین کی پاکستان میں سرمایہ کاری، خصوصا سی پیک منصوبوں، کا مرکز بھی ہے، اس لیے یہ حملے اسلام آباد کے لیے غیر معمولی طور پر حساس ثابت ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق 2023 کی مردم شماری میں بلوچستان کی آبادی تقریبا ڈیڑھ کروڑ بتائی گئی، جو پاکستان کی کل آبادی کا ایک چھوٹا حصہ ہے، مگر قدرتی وسائل کے اعتبار سے یہ صوبہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
تیل، گیس، کوئلہ، سونا اور تانبا جیسے وسائل وفاقی حکومت کے لیے بڑے ریونیو کا ذریعہ ہیں، مگر اس کے باوجود صوبہ بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔
1948 میں پاکستان میں شمولیت کے بعد سے بلوچستان کم از کم پانچ بڑی بغاوتوں کا سامنا کر چکا ہے۔ موجودہ شورش 2000 کی دہائی کے آغاز میں اس وقت شدت اختیار کر گئی جب وسائل پر مقامی اختیار کے مطالبات علیحدگی کی تحریک میں تبدیل ہونے لگے۔
حالیہ تشدد ایسے وقت سامنے آیا جب پاکستان نے معدنیات کے شعبے میں چینی سرمایہ کاری کے لیے ایک اہم سمٹ کا انعقاد کیا تھا۔ چین پہلے ہی گوادر بندرگاہ اور دیگر منصوبوں میں بھاری سرمایہ کاری کر چکا ہے، جو 60 ارب ڈالر کے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ ایک امریکی کان کنی کمپنی نے بھی گزشتہ سال پاکستان میں 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا معاہدہ کیا تھا۔
برلن میں مقیم محقق ساحر بلوچ نے الجزیرہ کو بتایا کہ پاکستان وسائل کو فروغ دے رہا ہے، مگر بلوچستان کے سیاسی اور سماجی تحفظات کو حل نہیں کیا جا رہا، جو ایک بنیادی تضاد ہے۔ ان کے مطابق مسلسل بدامنی کے باعث بڑے منصوبے زیادہ تر ریاستی سرپرستی میں ہی چل سکتے ہیں۔
ماہرِ امورِ سلامتی عبدالباسط کا کہنا ہے کہ چین اور امریکا دونوں خطرات سے آگاہ ہیں اور ان کی سرمایہ کاری حکومتی سطح کے اسٹریٹجک فیصلوں کا حصہ ہے، اس لیے فوری طور پر کسی بڑے انخلا کا امکان کم ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معیشت پہلے ہی شدید دبا میں ہے۔ 2023 میں ڈیفالٹ کے خطرے سے نکلنے کے بعد ملک نے آئی ایم ایف سے 7 ارب ڈالر کا بیل آئوٹ حاصل کیا، مگر اس کے باوجود غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ نہیں ہو سکا۔ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 808 ملین ڈالر رہی، جو گزشتہ سال اسی مدت کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر بلوچستان میں بدامنی کا سلسلہ جاری رہا تو نہ صرف پاکستان کے چین اور امریکا سے کیے گئے معاشی وعدے متاثر ہوں گے بلکہ ملک کی نازک معاشی بحالی بھی شدید خطرے میں پڑ سکتی ہے۔