سوال بہت ہیں، مگر ان کے جواب شاید گنے چنے ہی ہوں، یا پھر جان بوجھ کر انہیں دھند میں چھپا دیا گیا ہے۔ کورونا وبا سے لے کر روس یوکرین جنگ، شام کی طویل خانہ جنگی، ایران پر مسلسل دباؤ اور حملے، یمن کا نہ ختم ہونے والا تنازع، سوڈان اور افریقہ میں عدم استحکام اور حالیہ پاک افغان سرحدی بندش تک اگر ان سب واقعات کو الگ الگ دیکھنے کی بجائے ایک ہی فریم میں رکھ کر دیکھا جائے تو ایک واضح ربط سامنے آتا ہے۔ یہ سب محض اتفاقی واقعات نہیں بلکہ ایک منظم عالمی حکمتِ عملی کا حصہ محسوس ہوتے ہیں۔
کورونا کے بعد عالمی سیاست میں ایک نیا بیانیہ پوری قوت کے ساتھ سامنے آیا۔ کہا گیا کہ دنیا کو ایک نئی ترتیب درکار ہے، پرانے ڈھانچے ناکام ہو چکے ہیں اور اب طاقت کے نئے مراکز کو ابھرنا چاہیے۔ اسی دور میں گریٹر اسرائیل کا تصور بھی زیادہ جرات کے ساتھ زیرِ بحث آیا۔ اس تصور کے تحت مشرق وسطی میں جغرافیائی تبدیلی، مستقل جنگی کیفیت اور مسلم دنیا کو مسلسل عدم استحکام میں رکھنا ایک ناگزیر ضرورت بنا دیا گیا۔ روس کو یوکرین کے ساتھ ایک ایسی جنگ میں الجھا دیا گیا جس نے نہ صرف یورپ کو توانائی بحران میں مبتلا کر دیا بلکہ عالمی معیشت کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ شام، جو کچھ عرصہ نسبتاً خاموش ہو چکا تھا، ایک بار پھر پراکسی جنگوں کا میدان بنا۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی گئی، جو جنوبی ایشیا میں ایک بڑے تنازعے کو جنم دے سکتی تھی، مگر پاکستان کی جانب سے عملی سطح پر کوئی فیصلہ کن ردعمل سامنے نہ آیا۔ یمن، جو پہلے ہی انسانی المیے کی علامت بن چکا تھا، مسلسل جنگ اور قحط کی لپیٹ میں رہا۔ افریقہ سے لے کر مشرق وسطی تک، ہر خطے میں آگ سلگتی رہی تاکہ عالمی توجہ کہیں یکجا نہ ہو سکے۔ اسی دوران عالم اسلام کو داخلی تقسیم، فرقہ واریت، معاشی دباؤ اور سیاسی کمزوریوں میں الجھا دیا گیا۔ یہ سب اس انداز میں کیا گیا کہ ہر ملک اپنے اندرونی مسائل میں اس حد تک الجھ جائے کہ اجتماعی سطح پر کسی بڑے ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ممکن ہی نہ رہے۔
جب حماس نے اس پوری عالمی بساط کو سمجھتے ہوئے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا تو اسرائیلی منصوبہ سازوں کے لیے یہ ایک غیر متوقع جھٹکا ثابت ہوا۔ ردعمل اس قدر شدید تھا کہ غزہ کو عملاً مٹا دینے کی کوشش کی گئی۔ اسپتال، اسکول، یونیورسٹیاں، میڈیا دفاتر، عبادت گاہیں اور رہائشی عمارتیں سب نشانے پر رہیں۔ ہزاروں بچے، عورتیں اور بزرگ شہید ہوئے، مگر عالمی طاقتوں نے اسے دفاع کا نام دے کر جائز ٹھہرانے کی کوشش کی۔ مسلم دنیا کے حکمرانوں کی خاموشی اس سارے منظرنامے کا سب سے تکلیف دہ پہلو رہی۔ چند بیانات، چند رسمی مذمتی جملے، اور کچھ سفارتی سرگرمیوں کے سوا کوئی ٹھوس، اجتماعی اور عملی قدم سامنے نہ آ سکا۔ یہ خاموشی محض کمزوری نہیں بلکہ ایک گہری اخلاقی ناکامی کا اظہار بھی تھی۔ عوام کو فلسطین اور کشمیر جیسے بنیادی مسائل سے ذہنی طور پر دور رکھنے کے لیے ہر ملک میں مقامی بحرانوں کو مزید شدت دی گئی۔ ایران کو بیرونی حملوں اور اندرونی انتشار میں الجھایا گیا۔ لبنان معاشی دیوالیہ پن اور سیاسی افراتفری میں دھنستا چلا گیا۔ شام کو وقتی سکون دے کر اس انداز میں خاموش کرایا گیا کہ وہ کسی بڑے کردار کے قابل نہ رہے۔ ترکی نے محتاط خاموشی اختیار کی اور اپنے مفادات کو ترجیح دی۔ سعودی عرب میں تفریح، میوزک کنسرٹس اور سماجی تبدیلیوں کو نمایاں کیا گیا تاکہ نوجوان نسل سنجیدہ عالمی سوالات سے دور رہے۔ پاکستان اور افغانستان، جہاں عوامی سطح پر مذہبی حساسیت اور ردعمل کا امکان زیادہ تھا، وہاں سرحدی بندشوں، سفارتی کشیدگی اور دہشت گردی کے ذریعے دونوں اطراف کے عوام کو خوف، بے یقینی اور معاشی دباؤ میں مبتلا رکھا گیا۔ اس سے نہ صرف عوامی توجہ بٹی بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان بھی گہرا ہوتا چلا گیا۔
ملکی سطح پر بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ پنجاب کا کسان اپنی فصلوں، خصوصاً آلو اور کینو کی تباہ قیمتوں پر پریشان ہے۔ کراچی کے شہری بجلی، گیس، پانی اور مہنگائی کے عذاب میں مبتلا ہیں۔ خیبر پختونخوا ایک اور آپریشن کے خدشات سے دوچار ہے، جبکہ بلوچستان میں بیرونی مداخلت، شورش اور احساسِ محرومی مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ان حالات میں عوام کے لیے یہ ممکن ہی نہیں رہا کہ وہ عالمی سیاست پر سنجیدگی سے غور کر سکیں۔سیاست دان اقتدار کی کشمکش میں مصروف ہیں اور جمہوریت کے نعرے لگاتے نہیں تھکتے۔ علما اور طلبہ کو غیر ضروری مناظروں اور لاحاصل مباحث میں الجھا دیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوان نسل کو فحاشی، لایعنیت اور سطحی بحثوں میں مصروف رکھا جا رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اجتماعی شعور بتدریج مفلوج ہوتا جا رہا ہے۔
اسی پس منظر میں وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف کا بورڈ آف پیس پر دستخط کرنا ایک سنگین فکری اور اخلاقی سوال کو جنم دیتا ہے۔ امت مسلمہ کی مجموعی کیفیت کی طرح پاکستان میں بھی ایک عجیب سناٹا، بے حسی اور انتظار کی فضا غالب ہے۔ سوال یہ نہیں کہ امن برا ہے یا اچھا، سوال یہ ہے کہ یہ امن کس قیمت پر اور کن شرائط کے تحت مسلط کیا جا رہا ہے۔ ڈیل آف دی سنچری کے بعد اب ”نیو غزہ” کے نام سے ایک نیا منصوبہ سامنے لایا جا رہا ہے۔ جیراڈ کشنر کے پیش کردہ ماسٹر پلان میں رہائشی ٹاورز، ڈیٹا سینٹرز، صنعتی پارکس اور ساحلی تفریحی مراکز کی بات کی جا رہی ہے، مگر اس منصوبے میں فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت، ان کی تاریخی شناخت اور ان کی سیاسی آزادی کا کوئی واضح ذکر نہیں۔ یہ ترقی کم اور ایک نئی حقیقت مسلط کرنے کی کوشش زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
کئی یورپی ممالک، خصوصاً فرانس، برطانیہ اور جرمنی کا اس بورڈ سے فاصلہ رکھنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خود مغرب کے اندر بھی اس منصوبے پر شدید شکوک موجود ہیں۔ آئرلینڈ کے نائب وزیر اعظم سائمن ہیرس کے تحفظات واضح کرتے ہیں کہ اصل اقوام متحدہ کے منظور شدہ امن تصور اور موجودہ تجاویز کے درمیان بنیادی فرق پیدا ہو چکا ہے۔ اس کے برعکس بعض ممالک کی خاموشی یا مشروط شمولیت مستقبل کے مزید پیچیدہ تنازعات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ بادی النظر میں یہی محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیلی مفادات کے تحفظ کے لیے غزہ سے مزاحمتی قوت کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا، فلسطینی زمین پر نئے سماجی اور معاشی ڈھانچے کھڑے کیے جائیں گے، اور امن کے نام پر ایک نئی جغرافیائی اور سیاسی حقیقت قائم کی جائے گی۔ تاریخ مگر یہ بتاتی ہے کہ ظلم، جبر اور ناانصافی پر قائم ہونے والے منصوبے دیرپا نہیں ہوتے۔
یہ سب ان کے منصوبے ہیں، مگر ایک میرے رب کے منصوبے بھی ہیں۔ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری، لوڈ شیڈنگ، دہشت گردی اور روزمرہ مسائل میں الجھا کر وقتی کامیابیاں تو حاصل کی جا سکتی ہیں، مگر جب اللہ کی دی ہوئی مہلت ختم ہوتی ہے تو پھر طاقت، سرمایہ اور سفارت کاری سب بے معنی ہو جاتے ہیں۔ غزہ کے ہزاروں شہدا کا خون محض ایک عدد نہیں بلکہ ایک زندہ گواہی ہے۔ اصل سوال یہی ہے کہ امت مسلمہ کے عوام، حکمران اور اہلِ علم کب اس گواہی کو سنجیدگی سے سنیں گے، کب مصلحتوں سے اوپر اٹھ کر حق کا ساتھ دیں گے اور کب تاریخ کے اس نازک موڑ پر اپنا درست کردار ادا کریں گے؟!

