آتشزدگی کے بڑھتے واقعات، اسباب و حل

پاکستان میں آئے دن آگ لگنے کے واقعات ایک معمول بنتے جا رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں کراچی کے گل پلازہ میں لگنے والی خوفناک آگ ہو یا اسلام آباد کے کورال، شریف آباد روڈ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے واقعات، ہر حادثہ ہمیں جھنجھوڑتا ضرور ہے مگر ہم سبق سیکھنے کو تیار نظر نہیں آتے۔ چند دن شور مچتا ہے، میڈیا پر خبریں چلتی ہیں، حکمرانوں کی جانب سے مگر مچھ کے آنسو بہادیے جاتے ہیں،آیندہ کے لیے سب کچھ ٹھیک کرنے کے باتیں کی جاتی ہیں، پھر سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ اگلا سانحہ رونما ہو جائے۔

یہ واقعات کسی ایک شہر یا علاقے تک محدود نہیں۔ ماضی میں کراچی کی فیکٹریوں، مارکیٹوں، شادی ہالز اور رہائشی عمارتوں میں لگنے والی آگ نے درجنوں قیمتی جانیں لیں۔ لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی اور پشاور میں بھی ایسے سانحات پیش آتے رہے ہیں۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ہر بار وجوہات تقریباً ایک جیسی ہوتی ہیں مگر اصلاح کی سنجیدہ کوشش کہیں نظر نہیں آتی۔الٹا وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان الزام تراشی کی ایک جنگ شروع ہوجاتی ہے جس کی دھول میں بہت سے حقائق اور حقیقی مسائل چھپ جاتے ہیں۔

ان آتشزدگی کے واقعات کی بنیادی وجوہات میں ناقص الیکٹرک وائرنگ، اوور لوڈنگ، غیر معیاری سامان، گیس لیکیج، فائر سیفٹی آلات کی عدم موجودگی اور عمارتوں میں حفاظتی قوانین کی کھلی خلاف ورزی شامل ہیں۔ بیشتر پلازوں اور مارکیٹوں میں نہ فائر ایگزٹ ہوتے ہیں، نہ ایمرجنسی سیڑھیاں، نہ آگ بجھانے والے آلات فعال حالت میں موجود ہوتے ہیں۔ نقشے کچھ اور ہوتے ہیں اور تعمیر کچھ اور، مگر متعلقہ ادارے آنکھیں بند کیے بیٹھے رہتے ہیں۔

حکومت اور بلدیاتی اداروں کی نااہلی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔ عمارتیں بغیر مکمل منظوری کے بن جاتی ہیں، فائر سیفٹی سرٹیفکیٹ کاغذی کارروائی تک محدود رہتا ہے اور چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کے برابر ہے۔ حادثے کے بعد انکوائری کمیٹیاں تو بن جاتی ہیں مگر نہ ذمہ داروں کا تعین ہوتا ہے اور نہ ہی کسی کو مثال بنایا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہی غلطیاں بار بار دہرائی جاتی ہیں۔

عوامی شعور کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ فائر سیفٹی کو غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ دکان دار آگ بجھانے والا سلنڈر لگانے کو فضول خرچی سمجھتے ہیں، پلازہ مالکان اضافی راستے بنانے کی بجائے دکانیں نکالنے کو ترجیح دیتے ہیں اور رہائشی گھروں میں بھی حفاظتی تدابیر اختیار نہیں کی جاتیں۔ جب تک حادثہ ہمارے دروازے پر نہیں آتا، ہم اسے کسی اور کا مسئلہ سمجھتے رہتے ہیں۔

ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ہمارے شہروں کی منصوبہ بندی ابتدا ہی سے غیر سائنسی بنیادوں پر کی گئی ہے۔ تنگ گلیاں، بے ہنگم تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کی رسائی کو مشکل بنا دیتی ہیں۔ کئی علاقوں میں آگ لگنے کے بعد امدادی ٹیمیں وقت پر پہنچ ہی نہیں پاتیں اور قیمتی وقت ضائع ہو جاتا ہے۔ اس دوران آگ پھیل کر بڑے سانحے کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔فائر بریگیڈ کے محکمے خود بھی شدید مسائل کا شکار ہیں۔ پرانا اور ناکارہ سازوسامان، عملے کی کمی، ناکافی تربیت اور وسائل کی قلت ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مؤثر کارروائی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ کئی بڑے شہروں میں فائر اسٹیشنز کی تعداد آبادی کے تناسب سے انتہائی کم ہے، جبکہ موجودہ عملہ بھی شدید دباؤ میں کام کر رہا ہوتا ہے۔

اگر ہم ترقی یافتہ ممالک سے موازنہ کریں تو فرق واضح نظر آتا ہے۔ وہاں عمارت بنانے سے پہلے فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عمل کروایا جاتا ہے۔ ہر عمارت میں ایمرجنسی ایگزٹس، فائر الارم سسٹم، اسپرنکلرز اور تربیت یافتہ عملہ موجود ہوتا ہے۔ باقاعدہ فائر ڈرلز کروائی جاتی ہیں اور معمولی خلاف ورزی پر بھی بھاری جرمانے عائد کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں آگ لگنے کے واقعات میں جانی نقصان نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔

پاکستان میں اس مسئلے کا حل ناممکن نہیں، بس نیت اور سنجیدگی درکار ہے۔ سب سے پہلے فائر سیفٹی قوانین پر بلاامتیاز عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا۔ پرانی عمارتوں کا جامع آڈٹ کیا جائے، غیر محفوظ عمارتوں کو مقررہ مدت میں درست کرنے کا پابند بنایا جائے اور دانستہ غفلت پر سخت سزائیں دی جائیں۔ فائر بریگیڈ کے محکمے کو جدید آلات، بہتر تربیت اور اضافی وسائل فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وہ بروقت اور مؤثر کارروائی کر سکیں۔

اس کے ساتھ ساتھ عوامی شعور اجاگر کرنا بھی ناگزیر ہے۔ اسکولوں، دفاتر، فیکٹریوں اور مارکیٹوں میں فائر سیفٹی سے متعلق آگاہی مہمات چلائی جائیں۔ دکان داروں اور عمارت مالکان کو بنیادی حفاظتی اقدامات اپنانے کی عملی تربیت دی جائے۔ میڈیا کو بھی صرف حادثے کے بعد سنسنی پھیلانے کی بجائے مستقل بنیادوں پر احتیاطی تدابیر اور شہری ذمہ داریوں پر روشنی ڈالنی چاہیے۔

آگ لگنے کے یہ واقعات محض قدرتی آفات نہیں بلکہ ہماری اجتماعی غفلت، ادارہ جاتی نااہلی اور سماجی بے حسی کا نتیجہ ہیں۔ جب تک ہم جان کی قیمت کو منافع، سہولت اور وقتی فائدے سے زیادہ اہمیت نہیں دیں گے، یہ سانحات یونہی ہمارے شہروں کو جلاتے اور ہمارے ضمیر کو جھلساتے رہیں گے۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم المیوں پر افسوس کرنے کے بجائے عملی اقدامات کریں، ورنہ ہر نئی آگ ہمیں یہی یاد دلاتی رہے گی کہ قصور شعلوں کا نہیں، ہماری بے توجہی کا ہے۔