المنائے ایسوسی ایشن کے فوائد

آج سے ڈیڑھ صدی پہلے 1866ء میں دارالعلوم دیوبند نامی ایک مدرسہ قائم ہوا۔ مدرسے کے قیام کے صرف 12سال بعد 1878ء میں اس دینی ادارے کے فضلا نے ”ثمرة التربیت” کے نام سے ایک المنائے قائم کی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ جو حضرات دارالعلوم سے فارغ التحصیل ہو چکے ہیں، ان پر اپنی مادر علمی کا بہت بڑا حق ہے۔ طے پایا کہ یہ فضلا سال میں کم از کم ایک مرتبہ اپنی ماہانہ آمدنی کا چوتھائی حصہ دارالعلوم کو پیش کریں گے۔ اس میں ابتدائی طور پر 19فضلا شامل تھے اور ایک سال میں 96روپے کی ڈونیشن دارالعلوم میں جمع کروائی۔ (تاریخ دارالعلوم دیوبند: 187)

”کینتھ گریفن” پیشے کے اعتبار سے اس وقت امریکا کے ماہر انویسٹر، فنڈ منیجر اور مخیر شخصیت ہیں۔ انہوں نے ہارورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ وہی ہارورڈ جسے دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی قرار دیا جاتا ہے۔ سترہویں صدی میں بننے والی یہ یونیورسٹی اب تک 158نوبل انعام جیت چکی ہے۔ اس کے فضلا کی تعداد 3لاکھ 71ہزار سے زائد ہے، مگر Kenneth C. Griffin اپنی یونیورسٹی کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتا تھا۔ یہ یونیورسٹی ایسی تھی جس نے اسے فیس لے کر تعلیم دی۔ امریکا و یورپ میں یونیورسٹی کی تعلیم اتنی مہنگی ہے کہ زندگی کے کئی سال تعلیمی قرض اتارتے گزرتی ہے۔ مگر کینتھ نے اس کے باوجود اپنی یونیورسٹی کو 15کروڑ ڈالر ڈونیشن دی۔ یہ رقم پاکستان کے حساب سے 21ارب روپے بنتی ہے جبکہ اسی پر بس نہیں مزید 17ارب روپے کے گفٹ بھی یونیورسٹی کے نام کر دیے۔ یہ ایک طالب علم کی طرف سے اپنی مادر علمی کے لیے عقیدت، محبت اور تعلق کا اظہار تھا۔ طلبہ کی اسی محبت کا نتیجہ ہے کہ آج ہارورڈ یونیورسٹی کے پاس 39ارب ڈالر کا وقف فنڈ موجود ہے۔ معاشرے کی تعمیر میں تعلیم ہی بنیاد کا پتھر ہوتی ہے۔ جس قوم سے علم اور تعلیم رخصت ہوجائے وہ تاریخ کے صفحات میں وحشی تاتاریوں اور سنگ دل رومیوں کی صف میں کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ تعلیم استاد اور شاگرد کے تعلق کا نام ہے۔ کسی بھی تعلیمی ادارے کے فضلا اور پاس آئوٹس ہی اس کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں۔ فضلا اور پاس آئوٹس کو اپنی مادر علمی اور تعلیمی ادارے سے منسلک رکھنے کے لیے المنائے ایسوسی ایشن اور فضلا ڈیسک سے بہتر کوئی ذریعہ نہیں۔

المنائے ایسوسی ایشن کا کوئی ایک فائدہ نہیں۔ گنتے جائیے اور حیران ہوتے جائیے۔ سب سے بڑی چیز تو عملی زندگی میں قدم قدم رہنمائی ہے۔ ایک طالب علم جب فارغ التحصیل ہوتا ہے تو اسے زمانے کی بوقلمونیوں کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ ہر روز ایک نیا چیلنج، ہر اور مشکلات اور طوفان۔ اسے ایک ہمدردانہ مشورے کی تلاش ہوتی ہے۔ تسلی کے ایک بول کی اور زندگی کے سفر میں کسی سہارے کی۔ اپنے اساتذہ، اپنے ساتھی اور اپنے ہم جولی سے بڑھ کر کون ساتھ دے سکتا ہے؟ پرانے فضلا، نئے گریجویٹس کا ہاتھ تھامتے ہیں، ضروریات بڑھتی ہیں تو فضلا ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں۔ المنائے کے ذریعے ایک ہی سوچ رکھنے والے اور بااعتماد ملازمت کے مواقع سب سے زیادہ پیدا ہوتے ہیں۔ کئی المنائے ایسوسی ایشنز ایسی ہیں جہاں پر 80فیصد فضلا کو جاب مل جاتی ہے۔ نئے فضلا کے پاس موقع ہوتا ہے کہ پرانوں کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکیں۔ پرانے فضلاء میں سے بہت سے مینٹور، رہنما اور لیڈر ہوتے ہیں جو نئے فضلا کی بہترین رہنمائی کرسکتے ہیں۔ اس کے بجائے اگر آپ اپنے فضلا سے کوئی رابطہ نہیں رکھیں گے، انہیں زمانے کے سرد و گرم کے حوالے کر دیں گے، تو اس کا امکان زیادہ ہے کہ کارزار حیات میں الجھنوں کا شکار ہوں، مگر کوئی سلجھن ان کی منتظر نہ ہو، مشکلوں کا شکار ہوں مگر کوئی حل دستیاب نہ ہو اور گرداب و بھنور میں پھنسیں، مگر امید اور دلاسے کی کوئی کشتی ہاتھ نہ لگے۔ ڈونیشن کے مواقع، اسکالرشپ، مینٹوشپ، کیریر میں رہنمائی، نیٹ ورکنگ، بزنس کمیونٹی تک رسائی کا آسان ذریعہ المنائے ہے، سب سے وفادار سپاہی و ساتھی، مارکیٹنگ کا سب سے بڑا ذریع، تفریح، تبدیلی سے آگاہ، عالمی سوچ۔

کسی بھی تعلیمی ادارے کے فضلاء اور پاس آئوٹس اس کا نہایت قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں۔ یہ اس ادارے کا چہرہ بھی ہوتے ہیں، پیغام بھی اور کارکردگی بھی۔ فضلاء کی کامیابی ہی، دراصل تعلیمی ادارے کی کامیابی ہوتی ہے۔ جبکہ کسی بھی تعلیمی ادارے سے بے لوث تعلق، اٹوٹ محبت اور پرخلوص رشتہ بھی اس کے فضلاء کا ہی ہوتا ہے۔ اس ادارے کو پھلتا پھولتا دیکھ کر ہر فاضل کا سینہ فخر سے چوڑا ہوتا ہے۔ اب مسئلہ ہوتا ہے کہ فضلاء تو چند سال پڑھنے کے بعد مادر علمی کو چھوڑ جاتے ہیں، عملی فیلڈ سے وابستہ ہوتے ہیں اور کیریئر کی بھول بھلیوں میں رفتہ رفتہ اپنی راہ تکتی مادر علمی کا رستہ تک فراموش کر بیٹھتے ہیں۔ اس کا دوسرا پہلو اس سے بھی زیادہ اہم ہے کہ مادر علمی، تعلیمی ادارے نے تو ہر ہر طالب علم کو ایک جیسا نظریہ دیا، زندگی گزارنے کے گر یکساں طور پر سکھائے اور سب کو زندگی گزارنے کی تعلیم بھی ایک طرح ہی دی، مگر عملی زندگی میں ہر شخص کو ایک الگ چیلنج کا سامنا ہوتا ہے۔ ہر طالب علم کو کیریئر کے دوران ملنے والا ماحول، دوسروں سے یکسر جدا ہوتا ہے۔ ہر شخص کو زندگی کے ہر موڑ پر پیش آنے والی مشکلات ایک نئی اور انوکھی نوعیت کی ہوتی ہیں، اس لیے بہت ضرورت پڑتی ہے کہ اپنے اساتذہ سے ملا جائے، کچھ رہنمائی لی جائے، پرانے عزم کو پھر سے جواں کیا جائے اور تجربوں کی کٹھالی سے گزر کر کندن بننے والے لوگوں کی رہنمائی میں زندگی کا سفر طے کیا جائے۔

دینی مدارس کے لیے اس کی اہمیت دوچند ہے۔ دینی مدارس کے فضلاء جب سند فراغت حاصل کر کے اپنے اپنے علاقوں کو سدھارتے ہیں تو انہیں گونا گوں مشکلات گھیرتی ہیں۔ سب سے پہلے معاشی مشکلات کی اود بلائو گھیرا تنگ کرتی ہے، اس سے نکلتے ہیں تو ”معاشرے میں کام کی حکمت عملی” عشق پیچان کی بیل کی مانند دل و دماغ کا گھیرائو کرتی ہے۔ نت نئے تجربات ہوتے ہیں اور ٹرائل اینڈ ایرر کے اس سفر میں پتہ بھی نہیں چلتا کہ کب جوانی کی دہلیز پار ہوئی اور کس لمحے بوڑھاپے کے ہجرے میں داخل بھی ہوگئے۔ زندگی کی شاہراہ پر کتنے ہی موڑ آتے ہیں، جہاں مشورے کی ضرورت پڑتی ہے، دل کی بات کہنا ہوتی ہے، ہمدردی کے چند بول ضرورت پڑتے ہیں اور کسی کی تسلی، دلداری اور حوصلہ افزائی درکار ہوتی ہے، مگر اس کی کوئی باضابطہ شکل نہیں ہوتی۔ اس لیے بہت ضروری ہوتا ہے کہ فضلاء کو ادارے کے ساتھ جوڑا جائے۔ مادر علمی سے جوڑنے کے لیے دنیا بھر میں المنائی ایسوسی ایشنز یا فضلاء ڈیسک قائم کی جاتی ہیں۔ المنائی ایسوسی ایشنز کے واسطے سے طلبہ متحد اور منظم رہتے ہیں۔ کسی بھی ادارے کے فضلاء کی ٹیم یا المنائے ایسوسی ایشن قائم کرنے کے لیے سب سے اہم چیز وہ جذبہ ہے جو اسے قائم کرنے پر ابھارتا ہے۔ چند ایسے افراد جو اپنے فضلاء کو مجتمع، یکسو اور متحد دیکھنا چاہتے ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ فضلاء کا اس پر آمادہ ہونا کہ ہمیں اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے، ہمیں فارغ التحصیل اور پاس آئوٹ ہونے کے بعد بھی ایک ساتھ رہنے کی ضرورت ہے۔