وینزویلا کے بعد، دنیا کا نقشہ کیا بنے گا؟

ڈاکٹر سائمن گوڈیک ایک ممتاز مغربی سائنسدان، دانشور اور کانسپیرنسی تھیورسٹ ہیں۔ ان کی کئی تھیوریز سوشل میڈیا پر بڑی وائرل ہوئیں۔ آج کل ڈاکٹر سائمن کی ٹریڈ آف تھیوری ڈسکس ہو رہی ہے، یہ امریکا کے وینزویلا پر حملے کے حوالے سے ہے۔ اس ٹریڈ آف تھیوری پر بات کرنے سے پہلے ڈاکٹر سائمن گوڈیک کی آراء پر نظر ڈالتے ہیں جسے ان کے ناقدین سازشی تھیوریز قرار دیتے ہیں۔ ڈاکٹر سائمن کا فکر کے بنیادی اجزا یہ ہیں: دنیا اصل میں عوام نہیں، ایلیٹ یعنی اشرافیہ چلا رہی ہے۔ ریاستیں ڈمی ہیں، اصل فیصلے بند دروازوں کے پیچھے بین الاقوامی پاور سرکلز میں ہوتے ہیں۔ جنگیں، وبائیں، معاشی بحران وغیرہ یہ سب مصنوعی اور کنٹرول کرنے کے ٹولز ہیں۔

ڈاکٹر سائمن کے مطابق اصل طاقت امریکی ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس (اسلحہ ساز انڈسٹری) ٹیک سنسر شپ نیٹ ورکس (فیس بک، واٹس ایپ، ایکس، ٹیلی گرام، یوٹیوب وغیرہ وغیرہ) بڑی فارماسیوٹیکل کمپنیاں اور دنیا کے چند امیر ترین افراد کے ہاتھ میں ہے۔ سائمن گوڈیک مغربی میڈیا کے بھی شدید نقاد ہیں۔ ان کے مطابق ویسٹرن میڈیا جھوٹا اور کمپرومائزڈ ہے۔ یہ کرائسز کے وقت ایک ہی زبان بولتا ہے، صرف مخصوص سرکاری بیانیہ۔ جو ان سے اختلاف کرے، اس کی بات کو ڈس انفارمیشن اور کانسپرنسی تھیوری کہہ کر تمسخر اڑاتے ہیں۔ صدام کے تباہ کن ہتھیاروں کا جھوٹ ہو، لبیا میں قذافی کی حکومت بدلنا، افغانستان پر حملے کا جواز بنانا اور پھر پچھلے برسوں میں کووڈ، تائیوان، یوکرین وار اور غزہ ہر جگہ اس میڈیا نے ایک ہی کردار ادا کیا۔ مسلسل جھوٹ بولا۔

ڈاکٹر سائمن گوڈیل کی ٹریڈ آف تھیوری بھی دلچسپ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اشرافیہ اگر کووڈ جیسی وبا مینج کر سکتی ہے تو پھر ممالک کے جغرافیہ بھی یہ مینج کر سکتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ دنیا تیسری ورلڈ وار کی متحمل نہیں ہوسکتی، اس لیے اشرافیہ اور دنیا کے کرتا دھرتا براہ راست ٹکر سے گریز کریں گے۔ اس کی بجائے خاموش مفاہمت، مخصوص مواقع پر اشتعال اور احتجاج جبکہ زور پراکسی وارز پر لگایا جائے گا۔ یوکرین وار کے دوران ڈاکٹر سائمن نے اندازہ لگایا کہ امریکا اب گلوبل پولیس مین کے کردار سے تھک گیا ہے، روس براہ راست ٹکراؤ نہیں چاہتا جبکہ چین صرف وقت لے رہا ہے۔ اس لیے کوئی بعید نہیں کہ ان معاملات میں یہ سپرپاورز آپس میں اندرکھاتے کوئی ڈیل کر چکی ہوں۔ یہ ڈیل یوکرین، تائیوان اور لاطینی امریکا میں ہو سکتی ہے۔ دنیا نقشے پر نہیں، طاقت کے دائرے میں تقسیم ہے۔ شور عوام کے لئے ہے، حساب کتاب بند کمروں میں۔

وینزویلا پر امریکی حملے کے بعد ڈاکٹر سائمن گوڈیل نے اپنی ٹریڈ آف تھیوری پھر سے بیان کی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کے علاوہ دوسری دونوں بڑی قوتوں نے وینزویلا کا اس طرح ساتھ کیوں نہیں دیا جیسا دینا چاہیے تھا؟ وہ مذمت تو کر رہی ہیں، مگر اس مذمت سے کیا وینزویلین صدر واپس اقتدار میں آجائے گا؟ ظاہر ہے نہیں۔ ڈاکٹر سائمن گوڈیل کو خدشہ ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ امریکا نے یوکرین میں روس کو اس کا من پسند بڑا حصہ دینے کا فیصلہ کر لیا ہو جبکہ عین ممکن ہے ایسا تائیوان میں چین کو کرنے دیا جائے جبکہ جواب میں امریکا نے وینزویلا میں اپنی ناپسندیدہ حکومت تبدیل کرکے ایک طرح سے پورا ملک ہی اپنے کنٹرول میں کرلیا ہے، یہ بھی ممکن ہے کہ کولمبیا میں یہی سب کچھ ری پلے ہو جائے اور یہ سب دیگر بڑی قوتوں کی خاموش رضامندی سے ہو؟

ڈاکٹر سائمن گوڈیل کی باتیں تو چلو کانسپرنسی تھیوریز میں آتی ہیں۔ کانسپرنسی یا سازشی تھیوری کا یہی مسئلہ ہے کہ وہ سچ بھی ثابت ہو جاتی ہے اور بے بنیاد بھی نکلتی ہیں۔ اس لئے ہم اسے سردست چھوڑ دیں، تب بھی یہ تو بہرحال حقیقت ہے کہ امریکا نے اپنے اس اقدام سے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے مگر اس طرح کا شدید ردعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ امریکی ڈیلٹا فورس ایک ملک میں گھس جائیں اور جھپٹ کر اس کے صدر کو بیوی سمیت اغوا کرکے اپنے ملک لے آئیں اور پھر کمال ڈھٹائی کے ساتھ اس پر مقدمہ بھی چلانا شروع کر دیں۔ پچھلے پچیس تیس برسوں میں ایسا ہوا نہ کسی کو ایسا کرنے کی توقع تھی۔ بعض لوگ 2مئی 2011کے ایبٹ آباد آپریشن کا تذکرہ کریں گے۔ وہ آپریشن بھی نہایت افسوسناک تھا، ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے تھا، مگر یہ بہرحال یاد رکھیں کہ وہ کسی پاکستانی شہری کے خلاف نہیں تھا۔ دنیا کے سب سے مطلوب فرد کیخلاف آپریشن تھا اور پاکستانی حکومت بھی اس کے خلاف تھی۔ پاکستانی اور امریکی اہلکار القاعدہ اور طالبان کے خلاف بعض مشترکہ آپریشن بھی کر رہے تھے۔ ایبٹ آباد آپریشن میں بھی پاکستان یہ اعتراض نہیں کر سکتا تھا کہ اس بندے کو کیوں مارا؟ اعتراض یہ تھا کہ بغیر اجازت پاکستانی سرزمین میں کیوں گھس کر کارروائی کی۔ ہمیں پہلے سے بتاتے تو ہم مشترکہ آپریشن کرتے۔ یہ ہرگز نہیں کہہ رہا کہ ایبٹ آباد آپریشن درست تھا۔ نہیں وہ ہر اعتبار سے غلط اور غیر قانونی، غیر اخلاقی تھا۔ تاہم وینزویلا کے صدر کو ان کے اپنے ملک، شہر میں گھس کو اٹھا لانا تو بالکل ہی مختلف نوعیت کا معاملہ ہے۔

اب ہوگا کیا؟ بظاہر تو یہ لگ رہا ہے کہ امریکا اور ٹرمپ عالمی ردعمل کی سرے سے کوئی پروا نہیں کر رہے۔ وہ صرف امریکا کو طاقتور ترین ملک بنانا چاہتے ہیں جس کے ہاتھ میں دنیا کی نادر ترین معدنیات، تیل اور گولڈ کے ذخائر ہوں۔ ماہرین اندازے لگا رہے، تجزیے کر رہے ہیں کہ اگلا ہدف کون ہو سکتا ہے۔ کولمبیا ایک آسان ہدف نظر آرہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز ہی اپنے انٹرویو میں کولمبین صدر پر سخت تنقید کی اور انہیں اپنے مخصوص انداز میں بیمار شخص قرار دیا۔ کوئی بعید نہیں کہ اگلے چند دنوں میں وہاں بھی رجیم چینج ہو جائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وینزویلا کے آپریشن سے کولمبین حکومت سہم کر وہ سب مان لے جو صدر ٹرمپ چاہتے ہیں۔

گرین لینڈ اپنی رئیر ارتھ منرلز کی وجہ سے صدر ٹرمپ کو بہت مرغوب ہے۔ وہ کئی بار پہلے بھی اشارہ دے چکے ہیں کہ یہ علاقہ روسی اور چینی جہازوں میں گھرا ہے اور امریکا کو اپنے دفاع کے لئے گرین لینڈ چاہیے۔ اس وقت ڈنمارک کا اس پر کنٹرول ہے، مگر ڈنمارک امریکی کی مدافعت کرنے کی قطعی پوزیشن میں نہیں۔ ڈنمارک کی وزیراعظم نے البتہ یہ دھمکی دی ہے کہ اگرگرین لینڈ پر امریکا نے قبضہ کیا تو پھر نیٹو ٹوٹ جائے گا کیونکہ نیٹو کے قانون کے مطابق ایک نیٹو ممبر پر کسی ملک کا حملہ پورے نیٹو پر حملہ سمجھا جائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی نظروں میں نیٹو کی کس قدر اہمیت ہے؟ کیا خبر وہ چاہتے ہوں کہ یہ پرانا بوسیدہ، ازکار رفتہ اتحاد نیٹو اب ٹوٹ ہی جائے۔ ایران پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ صدر ٹرمپ ایران کو باقاعدہ دھمکی دے چکے ہیں۔ دوسری طرف ایران میں عوامی مظاہرے اس قدر شدید ہو چکے ہیں کہ حکومت عملاً مفلوج ہوچکی۔ ان مظاہروں میں امریکا کا کوئی لینا دینا نہیں۔ ایران کی تباہ حال معیشت، خوفناک حد تک نیچے گر جانے والی ایرانی کرنسی اور کئی عوامی حلقوں کی موجودہ ایرانی رجیم سے ناخوشی اور اختلاف شامل ہے، البتہ ایران میں صورتحال اس حد تک مختلف ہے کہ وہاں پر امریکا حملہ یا اسرائیل کی جانب سے عوامی مظاہروں کی حمایت سے بھی عوامی احتجاج کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ ایرانی اپوزیشن یہ ہرگز نہیں چاہتی کہ امریکا حملہ کرے کیونکہ ایسی صورت میں عوام حکومت کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔

گزشتہ 2دنوں سے کئی مغربی جرائد ایرانی رہبر انقلاب کے حوالے سے منفی خبریں بھی پھیلا رہے ہیں کہ انہوں نے حالات زیادہ بگڑنے کی صورت میں روس جانے کی پلاننگ کر رکھی ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب سائیکالوجیکل وارفیئر کا حصہ لگ رہا ہے۔ ایران میں تبدیلی جب بھی آئے گی اندر سے آئے گی، حالات وہاں اس وقت خاصے مشکل اور پریشان کن ہوچکے ہیں، تاہم امریکی حملہ ایران میں حکومت نہیں تبدیل کر سکتا۔ ویسے دنیا بھر میں ہونے کو تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ سے کسی بھی قسم کے انتہائی قدم کی توقع کی جانی چاہیے۔ وینزویلا پر حملے نے ایک بڑا بیرئر توڑ ڈالا ہے۔ اب یہ طوفان کس کس کو بہا کر لے جائے، کوئی نہیں جانتا۔ ہر کوئی اپنی جگہ سہما بیٹھا ہے، وہ کوئی ایسی غلطی نہیں کرنا چاہتے جس سے ان کا نمبر جلدی لگ جائے۔ روس اور چین جیسی سپر پاور ز بھی نجانے کیا سوچ رہی ہیں؟ شاید وہ اپنے انداز اور اپنے حساب سے اگلی جنگیں لڑنا چاہتے ہیں، معیشت کے میدان میں یا پھر اپنی ٹیکنالوجی اور عسکری مہارت کو مزید بڑھانا چاہتے ہیں تاکہ امریکا کو پیچھے چھوڑ سکیں۔ ویسے تو کون جانے اس سب کے پیچھے اصل اور حقیقی کھیل کیا کھیلا جا رہا ہے؟