ذاتی سیاسی ایجنڈوں کو مسترد کرنا ناگزیر،بھارتی پراکسیزکو بھرپور جواب دینگے،فیلڈ مارشل

راولپنڈی:چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے منفی پروپیگنڈے کے تدارک میں سول سوسائٹی کی کاوشوں کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ذاتی و مفاداتی سیاسی ایجنڈوں کو مسترد کرنا ناگزیر ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ سے جاری بیان کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرزمیں بلوچستان پر 18ویں نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے ملاقات کی اورتبادلہ خیال کیا۔

بیان کے مطابق ورکشاپ میں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی اور پاکستان کے لیے اس کی تزویراتی اہمیت پر غور کیا گیا، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کے عوام کی ثابت قدمی اور حب الوطنی کو سراہا اور کہا کہ صوبہ بلوچستان پاکستان کی خوش حالی اور ترقی میں کلیدی کردار رکھتا ہے۔

فیلڈ مارشل نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے جاری وسیع تر اقدامات کی تعریف کی اور عوامی فلاح پر مبنی پالیسیوں پر زور دیا جن کا مقصد صوبے کے سماجی و معاشی حالات بہتر بنانا اور عوام کے مفاد میں اس کے وسیع معاشی امکانات کو بروئے کار لانا ہے۔

چیف آف ڈیفنس فورسز نے سول سوسائٹی کے تعمیری کردار کو بھی سراہا، خصوصاً منفی پروپیگنڈے کے تدارک میں ان کی کاوشوں کو اہم قرار دیا اور پائیدار ترقی کے لیے ان کے کردار پر زور دیا اور کہا کہ ذاتی و مفاداتی سیاسی ایجنڈوں کو مسترد کرنا ناگزیر ہے۔

فیلڈ مارشل نے کہا کہ بلوچستان کا مستقبل تمام باشندوں کی طویل المدتی خوش حالی سے وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے حمایت یافتہ پراکسی عناصر بلوچستان میں تشدد کو ہوا اور ترقی کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں، ایسے مذموم عزائم کو سیکورٹی فورسز کی بھرپور کارروائیوں کے ذریعے ناکام بنایا جائے گا اور صوبے کو دہشت گردی و بدامنی سے پاک کیا جائے گا۔

فیلڈ مارشل نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی علاقائی سالمیت کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی، چاہے وہ براہ راست ہو یا بالواسطہ کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن ہوا جس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکا کے سوالات کے جواب دیے اور بلوچستان کی ترقی و سیکورٹی سے متعلق جاری اقدامات پر مزید روشنی ڈالی۔