اسلام آباد:ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات و سہولتوں کی فہرستوں کا تبادلہ ہوا جبکہ پاکستان میں قید 257 بھارتی قیدیوں کی فہرست بھی ہائی کمیشن حکام کے حوالے کی گئی ہے۔
پاکستان نے ایک بار پھر بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں تناو میں اضافہ کرنے والی کسی بھی کوشش سے باز رہے اور سندھ طاس معاہدے کے تحت اہم سوالات کے جواب فراہم کرے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان یمن کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی بھرپور حمایت اور ملک میں پائیدار امن و استحکام کے قیام کی کوششوں کے ساتھ کھڑا ہے، مسئلے کے حل کیلئے بات چیت اور سفارت کاری واحد موثر راستہ ہے۔
سعودی ولی عہد نے پاکستان کے ساتھ ڈیجیٹل سمیت مختلف شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا اور 2026 ء میں پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی ہے۔
اماراتی صدر کا دورہ دونوں ممالک کے گہرے تعلقات اور اہم شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد نہ صرف دوطرفہ شراکت داری کو فروغ دینا بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مل کر کام کرنا بھی ہے ۔
پاکستان صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کی شدید مذمت کرتا ہے، اسرائیل کی جانب سے صومالیہ کے وفاقی جمہوریہ کے ایک نام نہاد خطے کو تسلیم کرنے کا اقدام ناقابلِ قبول ہے، فلسطینیوں کی جائز جدوجہد کی حمایت جاری رکھیںگے،جس کا مقصد القدس شریف کو دارالحکومت بنا کر ایک خودمختار اور آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔
ان خیالات کااظہار ترجمان دفترخارجہ طاہر حسین اندرابی نے جمعرات کو ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران کیا ۔انہوں نے بتایا کہ آج پاکستان اور بھارت نے 31 دسمبر 1988 کو طے پانے والے معاہدے کے تحت ایک دوسرے کو اپنی اپنی جوہری تنصیبات اور سہولیات کی فہرستیں فراہم کیں۔
معاہدے کے مطابق دونوں ممالک ہر سال یکم جنوری کو اپنی جوہری تنصیبات سے متعلق معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں، اس سلسلے میں پاکستان کی فہرست وزارت خارجہ میں بھارتی ہائی کمیشن کے نمائندے کے حوالے کی گئی جبکہ بھارتی حکومت بھی نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کو بھارتی جوہری تنصیبات کی فہرست فراہم کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان میں قید 257 بھارتی قیدیوں کی فہرست ہائی کمیشن حکام کے حوالے کردی ہے، یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات کا حصہ ہے اور خطے میں اسٹریٹجک استحکام کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے یمن میں کشیدگی کم کرنے کے لیے علاقائی سطح پر کی جانے والی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے اور سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی کے لئے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔
ترجمان کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی نے بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور پاکستان کی قیادت اور عوام کی جانب سے تعزیت پیش کی۔ترجمان نے افغانستان میں موجود پاکستانی شہریوں کی بحفاظت واپسی سے متعلق بتایا کہ اب تک 15 طلبہ اور 291 پاکستانی شہری واپس آ چکے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 1199 افراد نے واپسی کے لیے مدد طلب کی تھی۔
باقی شہریوں کی واپسی کے لیے سفارتی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ بھارت کے دولہتی اسٹیٹ پراجیکٹ کی رپورٹس کا جائزہ لیا گیا اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان کے مطابق پاکستانی انڈس واٹر کمشنر نے بھارتی ہم منصب کو باضابطہ سوالات بھیجے ہیں تاکہ پانی کی تقسیم اور پراجیکٹ کی عملداری کے بارے میں وضاحت حاصل کی جا سکے۔ پاکستان نے کہا کہ بروقت جوابات تنازعات سے بچنے اور خطے میں استحکام قائم رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔
سیکورٹی معاملات پر ترجمان نے کلبھوشن جادیو کے جرائم کی مذمت کی اور پاکستانی عوام کے خلاف اس کی کارروائیوں پر بھارت سے جواب طلب کیا۔ اس کے علاوہ پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری رہنماؤں کو رہا کرے اور انسانی حقوق اور تنازعات کے پرامن حل کو یقینی بنائے۔
ترجمان نے بھارت پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے خدشات کا فوری جواب دے، کیونکہ کسی بھی تاخیر سے دوطرفہ تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔چین کے ساتھ تعاون کے معاملے پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ متبادل میکانزم کے تحت دوطرفہ تعاون کے تمام پہلوؤں کا جامع جائزہ لے رہا ہے۔
پاکستان اور چین کا اسٹریٹیجک ڈائیلاگ 4 جنوری کو بیجنگ میں ہوگا۔ نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار چینی وزیر خارجہ کی دعوت پر بیجنگ کا دورہ کر رہے ہیں۔

