بھاری جرمانوں کے خلاف ٹرانسپور ٹرز کا پیر کوملک بھر میں ہڑتال کا اعلان

ملک بھر میں ٹرانسپور ٹرز نے پیر کو ٹرانسپورٹ آرڈیننس اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانوں کے خلاف پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کردیا۔ ٹرانسپورٹ ہڑتال کا دائرہ مزید وسیع ہوگیا اورلوکل ٹرانسپورٹرز اور آئل ٹینکرز بھی ہڑتال میں شامل ہوگئے،جس کے بعد ٹرانسپورٹ سیکٹر میں شدید بے چینی پیدا ہوگئی ہے۔لوکل ٹرانسپورٹرز کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ وہ بھی آج کے دمادم مست قلندر ہڑتال میں ملک بھر کے ٹرانسپورٹروں کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

ٹرانسپورٹ آف گڈز ایسوسی ایشن نے بھی ہڑتال کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے حالات اس حد تک خراب کردیے ہیں کہ احتجاج کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔طارق گجر نے مختلف ٹرانسپورٹ تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران ہڑتال میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں ڈرائیوروں پر بلاجواز ایف آئی آر درج کی جارہی ہیں اور گاڑیوں کو بند کیا جارہا ہے، جس کے باعث ٹرانسپورٹرز شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کہ پیر کی شام سے کراچی کی تمام بندرگاہوں پر ٹرانسپورٹ کا کام مکمل بند کر دیا جائے گا۔

شہزاد اعوان نے دعوی کیا کہ موٹر وہیکل آرڈیننس میں کی گئی ترمیم کی آڑ میں ہزاروں ڈرائیورز کیخلاف مقدمات قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ پنجاب کے ہر تھانے میں ٹرانسپورٹرز کی درجنوں گاڑیاں بند کھڑی ہیں، یہ تمام کارروائیاں وزیراعلی پنجاب مریم نواز کے حکم پر کی جارہی ہیں۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ یہ ظالمانہ اقدامات فوری واپس لیے جائیں۔ حکومتی فیصلوں میں عوامی مفاد کو نظر انداز کرنا ناقابل قبول ہے۔یونائیٹڈ ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ حکومت کو ٹرانسپورٹرز کی مشکلات کو سمجھنا چاہیے، کیونکہ 25ہزار روپے ماہانہ کمانے والے موٹر سائیکل سوار پر 2ہزار روپے جرمانہ لگانا ناانصافی ہے۔

آئل ٹینکرز کے سینئر وائس چیئرمین نے کہا کہ پنجاب حکومت ٹرانسپورٹرز پر ظلم فوری بند کرے، جبکہ خانزادہ خان محسود نے مطالبہ کیا کہ حکومت ٹرانسپورٹ سیکٹر کو تباہی اور دیوالیہ پن سے بچانے کیلئے فوری اقدامات کرے۔