پشاور/کوئٹہ: خیبر پختونخوا میں ممتازعالم دین مولانا محمد ادریس کے قتل کے خلاف ملک کے کئی علاقوں میں احتجاج اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی شناخت کرنے کے بعد سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ان کی تلاش جاری ہے۔
مولانا ادریس کے قتل کی ذمہ داری کالعدم تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ (داعش) نے قبول کی ہے جبکہ القاعدہ برصغیر اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اس پر اظہار افسوس کیا ہے۔
چارسدہ کے پولیس افسر وقاص خان نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس، سی ٹی ڈی اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں پر مشتمل ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو مختلف مقامات سے حاصل کیے گئے ڈی وی آرز سمیت دیگر شواہد سے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کی تعداد واضح نہیں کیونکہ کسی ایک جگہ ایک حملہ آور نظر آیا ہے تو دوسری جگہ پر دو حملہ آور ہیں۔ ان کے بقول اس بارے میں مزید تفتیش جاری ہے۔
دریں اثناء بدھ کو چارسدہ، ٹانک، پشاور اور کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ چارسدہ میں بدھ کی صبح احتجاجی مظاہرے میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔ یہ احتجاج چارسدہ میں فاروق اعظم چوک پر کیا گیا جس میں مولانا گوہر شاہ سمیت دیگر قائدین نے خطاب کرتے ہوئے مولانا ادریس کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔پشاور میں بھی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔
ادھر بلوچستان کے مختلف شہروں میں جے یو آئی ایف کی کال پر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔مرکزی انجمن تاجران بلوچستان سمیت بعض دیگر تاجر تنظیموں نے ہڑتال کی حمایت کی ۔ ہڑتال کی وجہ سے کوئٹہ شہر میں تمام اہم تجارتی مراکز بند رہے جبکہ اس کی وجہ سے عام شاہراہوں پر ٹریفک معمول سے انتہائی کم رہی۔
بلوچستان کے متعدد دیگر بڑے شہروں میں بھی کاروباری مراکز بند رہے جبکہ جے یو آئی ایف کی جانب سے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں بھی نکالی گئیں۔
علاوہ ازیںجمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پارٹی کے سابق ایم پی اے اور معروف عالم دین مولانا محمد ادریس کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے 8 مئی کو نماز جمعہ کے بعد پورے ملک میں مظاہروں کا اعلان کردیا۔
چارسدہ میں مولانا فضل الرحمان نے مولانا محمد ادریس کے گھر جا کر تعزیت کی اور مولانا محمد ادریس کو خراج عقیدت پیش کیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اختلاف رائے پرکسی مسلمان کا قتل جہالت ہے، مولانا ادریس کی جدائی امت مسلمہ کے لیے صدمہ ہے، اللہ اپنی قدرت سے ظالموں سے مولانا ادریس کا انتقام لے گا، وہ امن کی تلاش میں بے امنی کا شکار ہوگئے۔
مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ علماء کرام پاکستان کے آئین کے ساتھ کھڑے ہیں، ہمارا متفقہ فیصلہ ہے کہ پاکستان کے اندر اسلحہ اٹھانا جائز نہیں، ہمارا حکمرانوں اور اداروں سے مطالبہ ہے کہ شہید کے قاتلوں کو گرفتار کریں۔ آئندہ کا لائحہ عمل کراچی کے جلسے میں دوں گا۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم نے ملک کو بچایا ہے ہم نے اپنے قائدین کے جنازے اٹھائے ہیں، میں نے باجوڑ میں اسی جنازے اٹھائے ہیں، کراچی سے لے کر باجوڑ تک کتنے علمائے کرام شہید ہوئے ہمارے علماء اللہ کے دین اور امن کے لیے کھڑے تھے، ہم اپنا ہاتھ کسی مسلمان کے خون سے نہیں رنگیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ فسادی خون ریزی کر رہے ہیں، اسرائیل دنیا میں مسلمانوں کا خون بہا رہا ہے، انہیں جرات کیسی ہوتی ہے کہ ہمارے جید علما کو مرتد کہتے ہیں، علماء کو مرتد کہنا اپنے آپ کو مرتد کہنا ہے، جماعت علمائے اسلام کو مرتد کہنا دلیل ہے کہ تم خود مرتد اور قاتل ہو۔
وفاقی وزیر برائے امور کشمیر،گلگت بلتستان و سیفران انجینئر امیر مقام وفد کے ہمراہ شہید شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کی رہائش گاہ چارسدہ گئے۔
وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے قائد پاکستان مسلم لیگ (ن) میاں محمد نوازشریف، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور وفاقی حکومت کی جانب سے شہید کے بھائیوں، بیٹوں اور شہید کے شاگردوں کے ساتھ تعزیت کی اور شہید کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کیلئے صبر جمیل کی دعا کی۔
وفاقی وزیر نے شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کے فرزند شیخ الحدیث مولانا انیس احمد کی بطور جانشین نامزدگی اور دستار بندی کی تقریب میں بھی شرکت کی۔ وفاقی وزیر نے تعزیت کے موقع پر موجود مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کی شہادت نہ صرف چارسدہ کیلئے بلکہ پورے صوبے اور ملک کیلئے ناقابل تلافی نقصان ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس واقعے اور شیخ الحدیث محمد ادریس کی شہادت پرپوری پارٹی اور وفاقی حکومت کی طرف سے مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مولانا بحیثیت عالم ،سیاستدان، سوشل ورکر ایک عظیم انسان اور رہنما تھے، شہید نے ہمیشہ امن کیلئے جہدوجہد اور دہشت گردی کی مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس ایک محب وطن جید عالم تھے، انہوں نے ہمیشہ ملکی سلامتی اور خوشحالی و ترقی کی بات کی اور ہمیشہ حق وسچ کی بات کی۔ہم سب ان کیلئے دعاگوں ہیں کہ اللہ تعالی انیس احمد کو والد کے نقش قدم پر چلنے کی ہمت دیں۔

