ڈاکٹر سید امجد علی
اِس عنوان کو روزے کے رواج اور روزے کے مذہبی و دنیاوی اہمیت اور فوائد کے بیان کے ذکر سے پہلے بیان کیا جانا اور سمجھنا ذرا مشکل ہے، اسی لیے ان باتوں کا ذکر اجمالی طور پر کیا جارہا ہے۔
اوّل تو اب پاکستان میں روزہ رکھنے کا رواج بہت نہیں تو قدرے کم ہوتا جارہا ہے۔ البتہ سڑکوں اور گھروں یا پارٹیوں میں افطار کی ”رسم“ کا اہتمام خاص بندوبست کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ جو لوگ روزہ رکھتے ہیں اُن میں زیادہ تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو یہ سوچتے ہوئے یہ عمل کرتے ہیں اگر روزہ نہ رکھا تو والدین ڈانٹیں گے، دوست واحباب اور اڑوس پڑوس کے لوگ کیا کہیں گے۔ ایسے ہی افراد رمضان شریف کے بعد بدپرہیزی سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ جو افراد خالصتاً ﷲ تبارک و تعالیٰ کی رضا کے لیے روزہ رکھتے ہیں، وہ ان بیماریوں میں بالکل نہیں یا کم ہی مبتلا ہوتے ہیں، کیونکہ ان کو علم ہوتا ہے کہ اوّل تو یہ حکم الٰہی ہے، دوسرا غور وفکر کرنے والوں کے لیے اس میں اُخروی اجر کے علاوہ دنیاوی فائدے بھی ہیں۔ قرآنی تعلیمات پر غور وفکر اور تدبر کرنے والوں نے جدید تحقیق کی روشنی میں نے روزے کی اہمیت اور روزے کے بعد کھائی جانے والی غذا کے استعمال کو مزید وضاحت سے بتادیا ہے، تاکہ عوام الناس ماہِ صیام کے ثمرات سے بھرپور طور پر استفادہ کرسکیں۔ اس سلسلے میں مسلمان اور غیرمسلم ماہرین طب نے مزید غور و فکر کیا ا ور سائنسی انداز میں اس عمل کے فوائد پہچانے۔
ان ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جو افراد اسلامی شعار کے مطابق ماہ صیام گزارتے ہیں انہیں بہترین انداز میں تزکیہ نفس کرنا آجاتا ہے۔ وہ کھانے پینے سمیت متوازن زندگی گزارنے کا شعار سیکھ جاتے ہیں۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ متقی مسلمان چاہے وہ آٹے میں نمک کے برابر رہ گئے ہیں، رمضان میں حاصل کی گئی تربیت کے سہارے اپنی تمام زندگی دنیاوی کاموں میں پابندی کے اُصول پر عمل، ربُّ العالمین کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کرتے ہیں اوراس سے اپنی ذہنی، جسمانی اور روحانی صحت کو بہتر بنا کر اپنے گرد وپیش کے ماحول میں رہنے والوں کے لیے اس دار فانی کو پرُامن اورپُرسکو ن بنالیتے ہیں۔ اُنہیں روزہ کئی احسن امور کی انجام دہی کا موقع اور تربیت فراہم کرتا ہے۔ ماہ صیام تربیت کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اگراب تک ہم یہ موقع گنواتے رہے ہیں تو اگلے سال کے لیے ہم تہیہ کرلیں کہ صحیح خطوط پر ہم اپنی تربیت کریں گے، تاکہ نتائج بھی مثبت نکلنے کی توقع کی جا سکے۔ اس سے دنیا اور آخرت میں ربِ کائنات کی بارگاہ میں ہم سرخرو ہوں۔ روزے کو اِسلامی روح کے مطابق رکھنے سے درج ذیل فائدے اب مسلمہ سائنسی حقیقت ہیں۔
ماہ ِصیام گزرنے کے بعد بدپرہیزی کے نتیجے میں افراد کئی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ ماہ صیام کے فوراً بعد کمزور قوتِ ارادی والے افراد جو کہ روزے کی روح سے پورے طور پر فیضیاب نہ ہوسکے تھے، وہ عید کے مہینے میں چٹخارے دار غذائیں اور بے تحاشہ مصالحے دار تیکھی چٹ پٹی غذا کھانا شروع کردیتے ہیں، جس کے نتیجے میں انسانی خلیے روزے میں حاصل کی گئی توانائی تیزی سے کھو بیٹھتے ہیں۔ نتیجتاً یہ Gastritis یعنی معدے کے ورم اور دیگر بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ مزیدبرآں ایسے افراد کو بدہضمی، معدے اور آنتوں کے دیگر امراض، سینے اور سانس پھولنے کی بیماریوں اور ذیابیطس کی پیچیدگیوں میں مبتلا ہوتے دیکھا گیا ہے۔ روزہ رکھنا دماغی اور نفسیاتی امراض کے علاج میں ممد و معاون ثابت ہوتا ہے۔ روزہ رکھنا تزکیہ نفس کے لیے اکسیر ہے۔ یہ معاشرتی برائیوں سے بچنے، خاموش رہنے اور دوسروں کی باتیں نہ کرنے یعنی غیبت سے بچنے کا گُر سکھاتا ہے اور کردار کی اصلاح کے لیے مواقع فراہم کرتا ہے۔ روزہ رکھنے کے ثمرات کے بطور بہت سے افراد سگریٹ نوشی اور نشہ ترک کردیتے ہیں۔ عید آتے ہی دنیاوی رواج کے طور پر روزہ رکھنے والوں کو اُن تمام برائیوں میں مبتلا ہوتے دیکھا گیا ہیں، جن میں وہ پہلے سرگرم تھے۔ نتیجتاً ان کی صحت پہلے سے زیادہ خراب بھی ہوجاتی ہے اور وہ روزے رکھنے کو اس کاسبب سمجھتے ہیں۔
روزے کے بعد بدپرہیزی کرنے والے بلغمی جھیلوں کے امراض میں مبتلا ہوجاتے ہیں، پرانے مرض پھر اُبھر آتے ہیں، جن میں بلند فشار خون، شریانوں کی سختی اور کولسٹرول کا بڑھ جانا شامل ہیں۔ لعاب بنانے والے غدود، غدود تیموسیہ، لبلبہ وغیرہ کے فعل کا توزان برقرار نہیں رہتا ہے۔ روزہ رکھنے کے دوران درج ذیل ہارمون پہلے سے زیادہ بنتے ہیں اور ان کے اخراج میں کئی گنا زیادہ توازن آجاتا ہے، ان کے نام یہ ہیں :
1.Cortisol adrenaline.
2.A.c.T.H.B.Endrotrophine
3.B-Liportorphine
4-Adrenaline Endothelium
مزید برآں روزہ آنتوں کے غلاف کے نیچے میں قوت مدافعت کو محفوظ رکھنے والے Immune system کو نئی توانائی اور نئی تازگی بخشتا ہے، جو افراد عادتاً یا روایتاً نہیں بلکہ روزہ کی روح کو سمجھ کر اسے احکام الٰہی کی تعمیل میں رکھتے ہیں، ان کے دماغ میں گردش خون بے مثل طور توازن پر رہتا ہے۔ ان میں چڑچڑاپن کم ہوتا ہے، وہ مکمل طور پر آرام اور سکون کی کیفیت میں رہتے ہیں۔ روزہ جگر پر محیرالعقل طور پر اثرانداز ہوتا ہے۔ خون میں گلوبیولن کو محفوظ کرکے قوت مدافعت کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ ماہ عیدالفطر میں بدپرہیزی کرنے والے ان تمام ثمرات کو کھو بیٹھتے ہیں اور پھر مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ڈاکٹر عبداﷲ محسن نے اپنی تحقیقات سے ثابت کیا ہے کہ روزے کے بعد کینسر کے مریضوں کی کیفیت بدپرہیزی کے باعث ابتر ہوجاتی ہے، کیونکہ روزہ رکھنے کے دوران کینسر کے مریضوں میں کیٹون نامی مادہ بڑھ جاتا ہے، یہ مادہ پروٹین کو چھوٹے چھوٹے ذرات میں توڑنے کے عمل کو روکتا ہے۔ روزے کے عمل میں پروٹین کے یہ ذرات کینسر کے ہیئت کے بدلے خلیوں کو بطور غذا نہیں ملتے، نتیجتاً کینسر کے مرض میں کمی ہوتی جاتی ہے۔ کئی آنتوں کے گلنے کے مرض میں مبتلا افراد نے روزہ رکھ کر اپنے اس مہلک مرض پر فتح پائی، جس کے باعث آنتوں کا کاٹا جانا ناگزیر ہوچکا تھا، لیکن اسی مرض میں سے چند کو بدپرہیزی کے بعد سرجن تک پہنچا دیا۔
تحقیقات سے یہ بات مسلم ہوگئی ہے کہ روزہ بدن میں زہریلے مادوں کو جسم پر اثرانداز ہونے سے روکے رکھتا ہے۔ رمضان کریم کے بعد کی بدپرہیزی سے خصونت داخل ہونے سے ESR بڑھ جاتا ہے اور جو زائد پوٹاشیم جوڑوں میں کم ہوا تھا وہ بڑھ جاتا ہے، جس کے باعث جنسی خواہش اور موٹاپا بڑھ جاتا ہے اور معاشرے میں خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ حیدرآباد، سندھ کے ایک سرجن ڈاکٹر محمد ولی الدین نے اپنے ایک مقالہ ’روزہ سرجن کی نظر میں‘ لکھا ہے کہ روزہ دار کے بدن کے اندر چربی کم بنتی ہے اور ڈاکٹر ایف عزیزی کے مطابق اس سے لیپ چربی گھلتی ہے۔ اس کے برعکس روزہ کے بعد کی بدپرہیزی سے بسیارخور افراد کے جسم پر جو زیادہ چربی بنتی ہے وہ مریض اور سرجن دونوں کے لیے تکلیف دہ ہوتی ہے۔ روزہ دار ذیابیطس کے مریضوں میں دماغی سوجن، اندھاپن، جگر اور گردوں کی خرابیوں کے خدشات بڑی حد تک معدوم ہوجاتے ہیں لیکن ان کی بدپرہیزی انہیں ان پیچیدگیوں کے قریب ترکر دیتی ہے۔
روزے کے بعد کی بدپرہیزی کی وجہ سے ماحول بھی پراگندہ ہوتا ہے اور سگریٹ کے دھوئیں سے لوگوں میں الرجی زیادہ پھیلتی ہے۔ افطار کی لوازمات میں کھجور کی اہمیت ہے۔ یہ خون کے ترسیل کے نظام کو فعال بناتی ہے۔ افطار میں پانی کا استعمال خون کے گاڑھاپن کو توازن میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ گردوں سے پتھری کے اخراج میں ممد ومعاون ہوتا ہے۔ رمضان کے بعد کی بدپرہیزی ان ثمرات سے بھی محروم کردیتی ہے۔ روزہ داروں کو رمضان کریم کے بعد غذا میں پرہیز کرنا اِس لیے ضروری ہوتا ہے کہ روزہ کے ثمرات کے بطور بدن انسانی کے تمام نظام توازن پر آجاتے ہیں، اس میں پیدا ہونے والے محلول کی تیزابیت اور الکلی کا تناسب غیرمعمولی طور پر توازن میں آجاتا ہے۔ یعنی انسان کی روحانی ونفسیاتی منفی اور مثبت قوتیں توازن میں آجاتی ہیں۔ روزے کے ثمرات میں سے ایک معاشرتی ثمرہ بھی ہے۔ بعض روزہ دار رمضان کے بعد صرف دو وقت کا کھانا ہی کھاتے ہیں اور اپنے ایک وقت کھانے سے بچی رقم کسی نہ کسی فلاحی ادارے کو دیتے رہتے ہیں۔ اس طرح ان کی صحت بھی ٹھیک رہتی ہے اور اِن شا اﷲ تعالیٰ ان کی آ خرت بھی سنورجائے گی۔رمضان کے بعد ایک دو ماہ تک درج ذیل اشیاءکی مقدار آہستہ آہستہ بڑھانی چاہیے تاکہ انہیں اوپر بیان کئے گئے پیراگراف کی بیماریاں نہ آدبوچیں۔
اِن اشیاء میں سرخ گوشت، چربی والا مرغی کا گوشت، چربی والی مچھلی، مکھن پنیر، ملائی ربٹری، زیادہ نمک والی غذائیں، نمکوقسم کی اشیائ، تلی ہوئی چیزیں، دیسی (یا بددیسی) ولائتی مٹھائیاں اور مرغن غذائیں۔ البتہ روزوں کے بعد بھی کھجور کا استعمال جاری رکھنا صحت کے لیے مفید ہوتا ہے۔ رمضان کے بعد معدے کی مانگ سے زیادہ نفسیاتی ہڑک (ذہنی چٹخارے) کو بہت دخل ہوتا ہے۔ لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ انہوں نے کئی ہفتوں سے یہ بھی نہیں کھایا وہ بھی نہیں چکھا یا پیا، چلو اب ان اشیاء کو اب چکھ ہی لیں۔ ان کی یہ نفسیاتی کمزوری ان کی صحت کے لیے مضر ثابت ہوتی ہے۔ ثابت قدمی سے اپنی قوت ارادی کو کام میں لاتے ہوئے نفس کی مانگ کو رد کرنا چاہیے۔
آج دل نے اس بات کی ترغیب دی ہے اور اسے مان لیا تو کل دل اس سے بڑی بات کے لیے ترغیب دے گا پھر سلسلہ ”کھانے پینے“ اور دوسرے مضر صحت اشیاءکے استعمال کے ساتھ جن کھانے پینے کی اشیاء کے استعمال کو جنت میں داخلے کے لیے منع کیا گیا ہے اُن کے استعمال کا سلسلہ بھی شروع ہوجاتا ہے۔ اس لیے کھانے پینے کی خواہش کے بیدار ہوتے ہی اس کا گلہ گھوٹ دینا چاہیے تاکہ رمضان میں جس بدن کو بیماریوں سے بچائے رکھا تھا اُسے خراب نہ ہونے دیا جائے۔ اگر بعض کمزور قوت ارادی والے افراد اپنی ”بھوک“ کی خواہش پر قابو نہ پاسکیں تو انہیں چاہیے کہ وہ سلاد اور پھلوں سے بنائی گئی چاٹ یا سلاد سے اپنا پیٹ زیادہ بھریں۔ بھنے ہوئے سیاہ چنوں میں سیاہ کشمش کے چند دانے ملاکر کھائیں، اس سے انہیں تقویت بھی ملے گی اور پیٹ بھی بھر جائے گا۔
رمضان کریم کے مہینے میں روزے رکھنے سے خون کی کیمسٹری میں غیرمعمولی طور پر توازن آنا شروع ہوجاتا ہے۔ اگر عیدالفطر کے بعد سے ہم نفسیاتی بھوک پر قابو پالیں تو ہم ہر روز یا ہر پیر اور ہر جمعرات کو روزے رکھنے کے قابل ہوجاتے ہیں اور صحت مند بھی رہتے ہیں۔ مشاہدے میں یہ آیا ہے کہ جن افراد نے رمضان کے بعد بازاری فاسٹ کھانوں سے پرہیز کیا اُن کے جوڑوں میں جمع مضر صحت مواد جلد ختم ہوا ہے۔ رمضان کے بعد جلد معمول کی غذا کھانے کے بعد عموماً سانس پھولتا ہے، پیٹ بھرابھرا محسوس ہوتا ہے یا اس میں کوئی ٹھوس شئے پڑی محسوس ہوتی ہے۔ مختلف افراد مختلف انداز میں اس کیفیت کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ بدہضمی پیدا ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے کیونکہ روزوں میں ہم نے معدے کو ایک صحت مند قاعدے کا پابند بنادیا تھا اور دفعتاً ہم اسے توڑ دیتے ہیں۔ نتیجتاً صحت میں خرابیاں پیدا ہونے کی صورت میں نمایاں ہوجاتا ہے۔ رمضان کے بعد یاد رکھنے کی ایک اہم بات یہ بھی ہوتی ہے جس طرح والدین بچے کو دودھ چھڑانے کے مرحلے کے دوران پہلے اسے مشروب، پھر نیم ٹھوس اور پھر زودہضم غذائیں کھلاتے ہیں، اسی طرح عید کے ماہ کے بعد سے معدے کو آہستہ آہستہ ایسے کھانے دینے چاہییں جنہیں یہ آسانی سے ہضم کر پائے اور صحت بھی خراب نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمارا پوار سال رمضان کی طرح کردے اور ہمیں ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین! (بشکریہ ایکسپریس)
