مولانا جمیل الرحمن عباسی
یہ دوسری صدی ہجری کا واقعہ ہے۔ اِسلامی حکومت کے اُس وقت فرماں روا ہارون الرشید عباسی تھے۔ خلیفہ ہارون الرشید کی حکومت کا سکہ کاشغر سے مراکش تک اور افغانستان سے افریقہ تک چل رہا تھا۔ زمین کے اتنے وسیع خطے کا گویا وہ تنہا مالک تھا۔
انہی دنوں ایک بوڑھے کسان نے سیدنا امام ابویوسف رحمة اللہ علیہ کی عدالت میں ایک شکایت درج کرا دی۔ امام ابویوسف خلیفہ ہارون الرشید عباسی کے دور میں قاضی القضاة (چیف جسٹس) تھے۔ اِمام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ کے نامور اور قابلِ فخر شاگرد اور انہی کے تربیت یافتہ تھے۔ ان کا انصاف اور تقویٰ مثالی تھا اور انہی امام ابو یوسف کی عدالت میں بوڑھے کسان کی درخواست ان کے سامنے تھی اور یہ مقدمہ کسی اور کے خلاف نہیں بلکہ وقت کے بادشاہ ہارون الرشید عباسی کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔ اِس موقع پر اگر کسی اور جج کے سامنے یہ معاملہ آتا تو شاید وہ خلیفہ ہارون کی شوکت اور دبدبہ کے سامنے دب جاتا اور انصاف کا قتلِ عام کرکے بادشاہ کے دربار میں سرخرو ہونے کی کوشش کرتا اور اس طرح کے خوشامدی، چاپلوس اور بکاو ججوں کے حالات سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ کسی بھی زمانے میں ایسے ضمیر فروشوں کی کمی نہیں رہی، مگر وہ امام ابویوسف تھے جن کی نظروں میں انصاف کے آگے دنیوی بادشاہت کچھ بھی وقعت نہیں رکھتی تھی۔
چنانچہ اس موقع پر بھی وقت نے ایک حیرت انگیز منظر کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھا اور امام ابویوسفؒ نے لاکھوں مربع میل پر حکومت کرنے والے حاکم کو جواب دینے کا پابند بنا دیا۔ عدالت لگتی ہے، امام ابویوسف اپنی کرسی پر جلوہ افروز تھے، خلیفہ ہارون ایک کرسی پر اور اس کے پہلو میں ان کا وزیر یحییٰ بن خالد بھی ایک کرسی پر ہے۔ امام ابویوسفؒ نے بوڑھے کسان کو بلوایا تو اس نے بادشاہ کے سامنے کھڑے کھڑے اپنا دعویٰ دُہرا دیا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ خلیفہ نے میرے ایک باغ پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ امام ابویوسفؒ نے اس بوڑھے سے گواہ طلب کیے تو اس نے کہا: میرے پاس گواہ نہیں ہیں۔ آپ خلیفہ سے قسم لے لیجئے۔ شریعت کی روشنی میں اس کی بات درست تھی۔ جب دعوے دار کے پاس گواہ نہ ہوں تو دوسرا فریق قسم اٹھانے کا پابند ہے، مگر اس وقت کوئی معمولی کیس درپیش نہیں تھا۔ مشرق سے مغرب تک پھیلی سلطنت کے ایک خودمختار بادشاہ سے قسم لینے کا مرحلہ تھا، مگر ایسے پُرخطر اور نازک موقع پر بھی امام ابویوسفؒ کے قدم لحظہ بھر کے لیے بھی نہیں ڈگمگائے اور انہوں نے نتائج کی پروا کیے بغیر بادشاہِ وقت کو قسم کھانے کا فرما دیا اور آگے بادشاہ بھی وہ تھا جس نے انصاف کی کھلی کچہریاں لگانے کا آرڈر دے رکھا تھا۔ (اللہ تعالیٰ ان کی قبر پر کروڑہا رحمتیں نازل فرمائیں۔ آمین!) خلیفہ ہارون نے قسم کھاکر کہا: میرے والد یعنی خلیفہ محمد مہدی عباسی (رحمة اللہ علیہ) نے یہ باغ مجھے عطاء کیا تھا اور میں اسی بنیاد پر اس باغ کا مالک ہوں اور اس پر قابض ہوں۔‘ بوڑھا کسان توہین آمیز باتیں کرتا ہوا چلا گیا۔ خلیفہ نے کسان کی اس بدتمیزی کو بھی برداشت کیا اور اس کا کوئی نوٹس نہ لیا۔
اندازہ لگائیے کہ حضرت قاضی ابویوسف رحمہ اللہ کس صفائی اور بے باکی سے انصاف کے تقاضے پورے کر رہے تھے اور خلیفہ نے اور حکومت نے اِسلامی قانون کے سامنے اپنے آپ کو کس حد تک جھکا دیا تھا، مگر بات یہاں تک ختم نہیں ہوتی کہ امام ابویوسف رحمہ اللہ نے روئے زمین کے اتنے بڑے بادشاہ کو بے دھڑک قسم کھانے کا حکم فرما دیا بلکہ اس سے آگے بڑھیے اور امامؒ کے عدل و انصاف، خوف و خشیت اور فکرِ آخرت کی تصویر کا نظارہ کیجئے۔ امام ابویوسف رحمہ اللہ اسی کسان والے واقعے کے سلسلے میں فرمایا کرتے تھے: اس واقعے میں مجھ سے انصاف کا حق ادا کرنے میں جو کوتاہی ہوئی ہے اُس کا خدا کو کیا جواب دوں گا؟ لوگ پوچھتے ہیں کہ حضرت! آپ نے انصاف کا حق ادا کرنے میں کیا کمی چھوڑی ہے؟ اتنے بڑے بادشاہ کو ایک معمولی کسان کے مقابلے میں قسم کھانے پر مجبور کردیا تھا۔ تب امام ابویوسف رحمة اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ ”میں اتنا بھی نہ کرسکا کہ بادشاہ کو کہہ دیتا کہ یا تو آپ خود بھی کھڑے ہوجائیں یا کسان کے لیے بھی کرسی منگوائیں، مجھے افسوس ہے کہ میں ایسا نہ کرسکا۔“ (مختلف کتبِ تاریخ سے اخد)