اہلِ بیت اور اہلِ سنت

تیسری قسط:
یہ تو اہل بیت کے چند خاص افراد سے متعلق آپ کی دعائیں تھیں لیکن عمومی طور پر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بیت کی فضیلت بیان فرمائی ہے اور ان سے محبت کو اپنی محبت کا اور ان سے بغض کو آپ سے بغض رکھنے کا معیار قرار دیا ہے۔ حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر فرمایا: جو شخص ہمارے اہل بیت سے بغض رکھے گا اللہ تعالیٰ ضرور ہی اس کو دوزخ میں داخل کریں گے۔ (ابن حبان) حضرات صحابہ کرام کو اہل بیت کی فضیلت کا اس درجہ خیال تھا کہ وہ ہمیشہ ان کو سر آنکھوں پر رکھتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا جو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح ہوا تو اس بارے میں خود شیعہ علماء نے لکھا ہے کہ یہ حضرت ابوبکر کا حضرت علی پر احسان تھا، کیونکہ وہی اس میں واسطہ بنے تھے اور وہ نکاح میں گواہ تھے۔

کان للصدیق منّ علیٰ علیٍ رضی اللہ تعالیٰ عنہما حیث توسط لہ فی زواجہ من فاطمة رضی اللہ عنہا وساعدہ فیہ، کما کان ھو احد الشھود علیٰ نکاحہ بطلب من رسول اللہ۔ (الامالی للطوسی)

اس مبارک نکاح کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر جن صحابہ کو مدعو فرمایا، ان میں حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت سعد بن معاذ شامل تھے۔ حضرت علی چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مصروف ہونے اور کوئی ذریعہ معاش اختیار نہ کرنے کی وجہ سے فقر و تنگ دستی کی حالت میں تھے، اس لیے ان تینوں حضرات نے ارادہ کیا کہ ہم لوگ حضرت علی کا تعاون کریں گے۔ (جلاء العیون للملاء مجلسی) پھر مشہور شیعہ عالم علامہ طوسی کی روایت کے مطابق حضرت فاطمہ کے لیے ضروری اسباب کی خریداری کی ذمہ داری بھی آپ نے حضرت ابوبکرصدیق ہی کو سونپی تھی۔ (جلاء العیون) صحابہ کے اہل بیت کے ساتھ حسنِ سلوک اور محبت و احترام کا حال یہ تھا کہ حضرت ابوبکرصدیق حضرت فاطمہ کے مرض وفات میں برابر آپ کی خبرگیری کیا کرتے تھے اورحضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی زوجہ اسماء بنت عمیس نے اپنے آپ کو ان کی تیمارداری کے لیے وقف کر رکھا تھا اور وہ آخری سانس تک ان کے پاس رہیں۔ (الامالی للطوسی) جب حضرت فاطمہ کی وفات ہوئی تو پورا مدینہ مردوں اور عورتوں کے رونے سے گونج اٹھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر جس طرح لوگ بے قرار تھے، اسی طرح آج بھی لوگ بے چین ہوگئے۔ (کتاب سلیم ابن قیس )

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ایک صاحب زادی اُم کلثوم تھیں، حضرت عمر نے ان سے نکاح کا پیغام دیا، حضرت علی نے کم عمری کی وجہ سے اس کو قبول کرنے سے معذرت کی۔ حضرت عمر نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر رشتہ قیامت کے دن ختم ہو جائے گا، سوائے میرے سلسلۂ خاندان کے، اسی لیے میں چاہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری یہ نسبت قائم ہوجائے۔ چنانچہ حضرت علی نے ان کے پیغام کو قبول کرلیا۔ حضرت عمر سے ان کا نکاح کر دیا اور انھوں نے دس ہزار دینار اُن کا مہر مقرر کیا۔ (تاریخ الیعقوبی) یہ خود ایک شیعہ عالم کا بیان ہے۔ حضرت عمر کی قدر دانی دیکھئے کہ ایک تو انھوں نے صرف خانوادۂ نبوی سے نسبت کے لیے نکاح کیا، دوسرے: دس ہزار دینار کی خطیر رقم مہر مقرر کی جو میرے حقیر علم کے مطابق غالباً عہد نبویۖ اور عہد صحابہ میں کسی اور خاتون کے حصہ میں نہیں آیا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے اہل بیت کے اعزاز واکرام کا حال یہ تھا کہ جب حضرت عمر کے پاس بیس ہجری میں ڈھیر سارا مال آیا تو آپ نے اس کی تقسیم اس طرح فرمائی کہ سب سے بڑی رقم پانچ ہزار حضرت علی کے لئے رکھی۔ چار ہزار اپنے لیے رکھی، حضرت حسن وحسین رضی اللہ عنہما کے کم عمر ہونے کے باوجود ان کے لیے تین تین ہزار رکھی۔ یہ بات خود شیعہ مورخ علامہ یعقوبی نے لکھی ہے۔ (تاریخ الیعقوبی) تقسیم اموال کے وقت لوگوں نے حضرت عمر سے ان کے امیر المومنین ہونے کے لحاظ سے کہا کہ آپ اپنے آپ سے شروع کیجئے تو آپ نے فرمایا: نہیں! بلکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے شروع کروں گا۔ (نہج البلاغہ)

جب کسریٰ شاہ ایران کی بیٹی قید ہو کر آئیں تو لوگوں کا خیال تھا کہ حضرت عمر اُن کو اپنے صاحبزادے کے حوالہ کریں گے کیونکہ وہ مسلمانوں کے سربراہ کے بیٹے ہی کے لیے کفو ہوسکتی ہیں، لیکن حضرت عمر نے ان کو حضرت حسین کو دیا، ان ہی سے امام زین العابدین علی بن حسین پیدا ہوئے۔ کربلا کے حادثہ میں تنہا وہی بچے اور ان ہی سے حضرت حسین کا خاندان چلا۔ یہ بات خود شیعہ محدثین نے نقل کی ہے۔ (الاصول) غرض کہ تمام ہی صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت اور آپ کے مبارک خاندان کا احترام ملحوظ رکھتے تھے۔ (جاری ہے)