کچھ ملک ایسے ہوتے ہیں جو بیرونی حملوں سے نہیں بلکہ اندر سے ٹوٹنے لگتے ہیں، ان کی پارلیمنٹ موجود رہتی ہے، عمارت وہی، چھت پر جھنڈا بھی وہی لہراتا ہے، آئین کی کتاب بھی الماری میں پڑی ہے، مگر اندر سے دیمک لگ جاتی ہے۔ ہمارے مشرقی پڑوسی ملک بھارت میں بھی یہی ہو رہا ہے، مگر اس پر پھر کبھی سہی، آج امریکا کی بات کرتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ امریکا اس وقت اسی مرحلے سے گزر رہا ہے۔ جو خود کو جمہوریت کا چیمپیٔن کہتا تھا اور دنیا جسے آزادی، جمہوریت اور اداروں کی طاقت کا سب سے بڑا نمونہ سمجھتی رہی، وہی ملک اب اپنے صدر کی ذات میں سمٹتا جا رہا ہے۔
امریکا کے بارے میں ایک تاثر برسوں سے قائم رہا ہے کہ وہاں کوئی صدر کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، ایک خاص حد سے آگے نہیں جا سکتا، امریکی ادارے اس کے راستے میں دیوار بن جاتے ہیں۔ ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت نے اس تاثر کو پاش پاش کر دیا ہے۔ جو کچھ گزشتہ چند ماہ میں ہوا ہے، اسے دیکھ کر لگتا ہے جیسے امریکا اس راستے پر چل نکلا ہے جہاں جمہوریت نہیں آمریت کا دور دورہ ہوگا، جہاں عوام ایک دوسرے کے جانی دشمن ہوجائیں گے اور تباہی کا پرندہ چھتوں پر رقص کرے گا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس سب کی راہ میں امریکی سپریم کورٹ بھی معاون ثابت ہو رہی ہے۔ پیر کے روز امریکی سپریم کورٹ نے جو فیصلہ سنایا، اسے صاف اور سادہ جملے میں سمجھنا ہو تو یوں کہہ لیں کہ عدالت نے نوے سال پرانی ایک دیوار گرا دی جو صدر کے آمرانہ اختیارات اور من مانی کے راستے میں کھڑی تھی۔ ”ٹرمپ بنام سلاٹر” کیس میں سپریم کورٹ کے نو ججوں نے چھ تین کی اکثریت سے فیصلہ صدر ٹرمپ کے حق میں کر دیا۔ چیف جسٹس رابرٹس نے فیصلہ دیا کہ صدر اب کسی بھی آزاد وفاقی ادارے کے سربراہ کو بغیر کسی وجہ کے، محض اپنی مرضی سے ہٹا سکتا ہے۔
دراصل ربیکا سلاٹر نامی ایک خاتون کو صدر ٹرمپ نے بغیر کسی وجہ کے برخاست کر دیا۔ وہ عدالت میں چلی گئی، یوں مرحلہ وار یہ کیس سپریم کورٹ میں پہنچا۔ اس سے پہلے ایک مشہور عدالتی نظیر قائم تھی کہ صدر آزاد اداروں یا ایجنسیوں کے سربراہان کو بدعنوانی یا اپنی ڈیوٹی سرانجام نہ دینے کے علاوہ کسی دوسرے معاملے میں بغیر نوٹس، بغیر وضاحت وغیرہ کے برخاست نہیں کر سکتا۔ یہ انیس سو پینتیس میں ‘ہمفریز ایگزیکیوٹر’ کیس میں طے کیا گیا تھا۔ تاہم اب سپریم کورٹ نے اسے ختم کر دیا ہے۔ چیف جسٹس جان رابرٹس نے لکھا کہ نہ تو کانگریس اور نہ ہی عدالتیں صدر پر ایسے افسران مسلط کر سکتی ہیں جن کے ساتھ وہ کام نہ کر سکیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ سپریم کورٹ نے صدر کو فیڈرل ریزرو بورڈ کے سربراہ کو ہٹانے کی اجازت نہیں دی، مگر جو اختیار دیا ہے، وہ بہت زیادہ ہو چکا۔
یہ سمجھ لیں کہ صدر ٹرمپ کو بے پناہ طاقت کی ڈرپ لگ گئی۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ نوے سال پرانا اصول تبدیل ہوجائے گا اور انہیں اس قدر بڑا اختیار مل جائے گا۔ صدر ٹرمپ کے سب سے بڑے حمایتی اخبار نیویارک پوسٹ نے فرنٹ پیج پر ٹرمپ کی بڑی تصویر لگائی اور ساتھ ایک جملہ تھا، ”میں تمہیں فوری ہٹا سکتا ہوں۔ یہ سپریم کورٹ نے مجھے اختیار دیا ہے۔” خود صدر ٹرمپ نے خود اس فیصلے کو سوشل میڈیا پر پچھلے سو برسوں میں صدارتی اختیار میں سب سے بڑا اضافہ قرار دیا۔ نیویارک پوسٹ کے ادارتی بورڈ نے تو اس فیصلے کو ڈیپ اسٹیٹ کے خاتمے کا نام دیا۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ جسے ڈیپ اسٹیٹ کہا جا رہا ہے، وہ دراصل وہی ادارے ہیں جو مارکیٹ ریگولیشن، صارف تحفظ اور مالیاتی نظام کو کسی بھی صدر کی ذاتی پسند ناپسند سے محفوظ رکھنے کے لیے بنائے گئے تھے۔ اب یہ تحفظ ختم ہو چکا، اور راستہ صاف ہے کہ ہر ادارے میں اہلیت کی جگہ وفاداری کا معیار رکھ دیا جائے۔ بات صرف اس فیصلے کی نہیں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی حکومت امریکا کو ایک بادشاہ کے انداز میں چلانا چاہتی ہے۔ جب کوئی حکمران ریاست کو اپنی ذات سمجھنے لگے تو سب سے پہلے یہی ہوتا ہے کہ وہ ریاستی علامتوں پر اپنا چہرہ ثبت کرنا شروع کر دیتا ہے۔ بہت سے لوگوں کے لیے یہ انہونی بات ہوگی کہ امریکا کی دو سو پچاسویں سالگرہ پر جو خصوصی پاسپورٹ جاری کیے گئے، ان کے اندرونی صفحے پر اعلانِ آزادی کی تاریخی تصویر نہیں، خود صدر ٹرمپ کی تصویر ہے، جس میں وہ اپنے مخصوص انداز میں میز پر مکے ٹکائے کھڑے ہیں۔ امریکی تاریخ میں پہلی بار کسی زندہ صدر کی تصویر پاسپورٹ میں شامل کی گئی۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں، بادشاہوں کے دور میں سکوں پر بادشاہ کی تصویر چھپا کرتی تھی، یہاں پاسپورٹ پر چھپ رہی ہے۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کا نقشہ بھی بدل ڈالا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی تاریخی ایسٹ ونگ گرا کر وہاں چھ سو ملین ڈالر کی لاگت سے ذاتی شان کا بال روم بن رہا ہے۔ لنکن میموریل کے سامنے تاریخی ریفلیکٹنگ پول کو امریکی جھنڈے کے رنگ میں رنگوایا گیا، لاگت تخمینے سے سات گنا بڑھ گئی اور رنگ چند ہفتوں میں ہی اکھڑنے لگا۔ کینیڈی سینٹر کا نام بدل کر ٹرمپ کینیڈی سینٹر رکھ دیا اور خود اس کے چیئرمین بن بیٹھے۔ اب آرلنگٹن قبرستان کے قریب دو سو پچاس فٹ اونچی فتحی محراب تعمیر ہو رہی ہے، بالکل نپولین کے آرک ڈی ٹرائمف کے انداز میں۔ ایک صحافی نے پوچھا یہ کس کے لیے بنایا جا رہا ہے تو صدر ٹرمپ کا جواب تھا، ”میرے لئے۔” رپورٹر بیچارہ ہکابکا رہ گیا۔ اس کے پاس کوئی اور سوال بھی نہ بچا۔
اہم عہدوں پر وفاداروں کا تقرر: امریکا میں یہ ایک اور بڑا ایشو بنا ہوا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے خاص لوگوں کو میرٹ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے مختلف اہم ترین عہدوں پر فائز کر رہے ہیں۔ اب بل پلٹے کا معاملہ دیکھیں۔ اس شخص کو امریکا کی اٹھارہ خفیہ ایجنسیوں کا سربراہ، یعنی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس بنا دیا گیا، حالانکہ اسے انٹیلی جنس، فوج یا قومی سلامتی کے کسی شعبے کا ایک دن کا بھی تجربہ نہیں۔ نائن الیون کے بعد پہلی بار کوئی ایسا شخص اس عہدے پر بیٹھا ہے جسے پہلے سیکیورٹی کلیئرنس تک حاصل نہیں تھی۔ خفیہ اداروں کے سینئر افسران کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ پلٹے کو سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے اور الیکشن کے نتائج پر شکوک پیدا کرنے کے لئے لگایا گیا ہے۔ یہ کوئی انتظامی غلطی نہیں، یہ ایک واضح پیغام ہے کہ اب اہلیت نہیں، وفاداری چاہیے۔
ایران جیسے حساس ترین معاملے پر مذاکرات کی ذمہ داری بھی کسی سفارت کار کو نہیں، اپنے رئیل اسٹیٹ کے دوست سٹیو وٹکاف اور اپنے داماد جیراڈ کشنر کو سونپی گئی۔ داماد کو ملکی خارجہ پالیسی کے حساس ترین معاملات میں شریک کرنا، شاید ہی کسی اور امریکی صدر نے کیا ہو۔ یہ سب دیکھ کر لگتا ہے جیسے وائٹ ہاس چلانے کا انداز اب کسی بادشاہت کے خاندانی دربار جیسا ہوتا جا رہا ہے، جہاں عہدے قابلیت پر نہیں، قربت پر ملتے ہیں۔صرف تقرریاں ہی نہیں، ان اداروں کے اندر سے نگرانی کرنے والے انسپکٹر جنرلز کو بھی ایک ہی جھٹکے میں فارغ کر دیا گیا، وہ لوگ جن کا کام یہی تھا کہ حکومتی بدعنوانی اور بدانتظامی پر آزادانہ نظر رکھیں۔ جب نگران خود نکال دیا جائے تو باقی کیا رہ جاتا ہے؟ امریکی دانشور اور تجزیہ کار چیخ رہے ہیں کہ یہ سب برا ہوامگر بدترین یہ کہ امریکی قوم بری طرح تقسیم ہوچکی ہے۔ ایک دوسرے کی جانی دشمن بن رہی ہے۔ صدر ٹرمپ کے حامی ری پبلکنز اپنے مخالف ڈیموکریٹس سے شدیدنفرت کر رہے ہیں جبکہ یہی جذبات ڈیموکریٹس کے ری پبلکن پارٹی اور ٹرمپ نواز حلقے کے لیے ہیں۔وی ڈیم انسٹی ٹیوٹ کی تازہ رپورٹ کے مطابق امریکا پچاس سال سے زیادہ عرصے بعد پہلی بار لبرل ڈیموکریسی کی صف سے نکل کر محض الیکٹورل ڈیموکریسی کے درجے میں آ چکا ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں، یہ وہی نسخہ ہے جو ہر جگہ آزمایا جا چکا ہے، عدالتوں سے قانونی جواز حاصل کرو، اداروں میں وفادار بٹھا، نگرانی کرنے والوں کو نکالو، ریاستی علامتوں پر اپنا نام لکھو اور معاشرے کو اتنا تقسیم کر دو کہ کوئی متفقہ آواز باقی ہی نہ رہے۔
تیسری دنیا کے کئی ممالک میں ایسا ہوتا ہے، بس وہاں یہ کام براہ راست مارشل لا کی صورت میں ہوتا رہا، امریکا میں یہی کچھ عدالتی زبان، ایگزیکٹو آرڈرز اور سوشل میڈیا پوسٹس کے پردے میں ہو رہا ہے، مگر نتیجہ وہی ہے۔امریکا کے پاس ابھی بھی مضبوط معیشت، وفاقی نظام اور ایک متحرک سول سوسائٹی موجود ہے، اس لیے مکمل تباہی کی پیش گوئی شاید جلد بازی ہوگی۔ مگر جو امریکا ہم پچھلی سات آٹھ دہائیوں سے جانتے تھے، وہ اب واپس نہیں آئے گا۔ امریکا جس طرف چل نکلا ہے، وہاں سے خیر کی خبر نہیں ملنی۔ صدر ٹرمپ شاید امریکا کے ساتھ وہی کام کرنے جا رہے ہیں جو گورباچوف نے سوویت یونین کے ساتھ کیا تھا۔ خیر امریکا نے دنیا بھر میں جو مظالم ڈھائے، ہر ظلم کا ساتھ دیا، مظلوموں کے لیے جینا دوبھر کر دیا۔ اس سب کا مکافات عمل بھی تو ہونا ہے۔ امریکا نے دنیا بھر میں آمر مسلط کئے، ان کی اندھی حمایت کی۔ اب خود امریکیوں کو بھی ایک آمر صدر مل گیا تو بھگتیں۔ برداشت کریں اور ہوسکے تو اس سے سبق سیکھیں۔

