مخدوم پور پہوڑاں میں مانسہرہ کے ایک نامور عالم دین، عالم ربانی دارالعلوم دیوبند کے فاضل، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی کے شاگرد اور مرید، مولانا سید محمد امین مخدوم پوری تھے۔ آپ مخدوم پور میں ایک مسجد کی امامت و خطابت اور مدرسہ کے اہتمام و انتظام پر فائز کیے گئے۔ مخدوم پور کے قریب عبدالحکیم میں شیخ الاسلام حضرت مولانا مدنی کے خلیفہ اجل حضرت مولانا پیر خورشید احمد گیلانی تھے۔ اپنے شیخ حضرت مدنی کے حکم پر حضرت گیلانی صاحب سے مولانا سید محمد امین مخدوم پوری نے اپنا اصلاحی تعلق قائم کیا اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ آپ کو ان سے خلافت حاصل ہوئی۔ مولانا سید امین شاہ صاحب حضرت امیرشریعت کے منظور نظر اور مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری کے عاشقِ صادق تھے۔ ہرہفتہ ملتان دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت تشریف لانا آپ کا معمول تھا۔ صرف اپنے علاقہ نہیں بلکہ موجودہ خانیوال ضلع کے تمام شہروں، دیہات میں تبلیغ اسلام، ترویج دین اور احیائے سنت اور بدعت کے قلع قمع کرنے کے لیے آپ کا وجودِ مسعود، دین کے خادم، داعی مبلغ کے کردار کا حامل تھا۔ آپ کی شخصیت بھرپور متحرک اور تحریکی پر تو اپنے اندر لیے ہوئے تھی۔ کلمہ حق کہنا آپ کا امتیاز تھا۔ حق اور سچ پر استقامت آپ کی شان تھی۔ چلتے پھرتے ایک مناد کے طور پر آپ کا وجود انعام الٰہی اور آیت من آیات اللہ تھا۔ توحید و ختم نبوت، دین اسلام کی ترویج و اشاعت کے لیے ہروقت سرگرم عمل رہناآپ کی پہچان تھی۔عظمت اہل بیت کے آپ علمبردار اور ناموس صحابہ کرام کے آپ پاسبان تھے۔مجلس تحفظ ختم نبوت، جمعیة علماء اسلام کے پلیٹ فارم سے وہ کارہائے نمایاں سرانجام دیے جو تاریخ کا سنہری حصہ ہیں۔ خدام اہل سنت حضرت مولانا قاضی مظہر حسین صاحب سے مدنی نسبت کے باعث اتنے گہرے دینی مراسم تھے کہ ان کے رنگ میں رنگے نظر آتے تھے۔
آج سے ساٹھ سال قبل مولانا سید محمد امین شاہ صاحب کو حق تعالی نے ایک نور نظر عنایت فرمایا۔جن کا نام سید محمد امجد معاویہ تجویز کیاگیا۔ اس صاحبزادہ کی خوش بختی کہ ابتدائی دینی تعلیم اپنے والد گرامی سے حاصل کی۔ دورہ حدیث شریف دارالعلوم کبیروالا، تخصص فی الفقہ اور مفتی کا کورس فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی جمیل احمد تھانوی کی زیرنگرانی جامعہ اشرفیہ لاہور سے کیا۔ فراغت کے بعد گورنمنٹ ہائی اسکول مخدوم پور کے اسلامیات کے استاذ مقرر ہوئے۔ اپنے والد گرامی کی زیرنگرانی دینی علوم کی ترویج کے لیے دن رات ایک کردیا۔ انتہائی لائق استاذ، مدرس اور نامور رہنما کے طور پر آگے بڑھے اوربڑھتے ہی رہے اور پھر وہ وقت آیا کہ اپنے والد گرامی کے ان کی زندگی میں ایسے دست وبازو بنے کہ بس اپنی صلاحیتوں کی بناد پر تمام معاصرین پرچھاگئے۔ چہار سو ان کی عظیم صلاحیتوں اور خوبیوں نے پورے علاقہ کو ان کا گرویدہ بنادیا۔ اپنے والد گرامی کے وصال کے بعد ان کی روایات کے وارث ہی نہیں بلکہ سید محمد امین شاہ کی علمی وجاہت کے امین بن گئے۔
آپ ایک انتہائی مخلص عالم دین، بھرپور متحرک دینی شخصیت، مذہبی رہنما اور علاقہ کے بااثر مقتدا کے طور پر جانے اور پہنچانے گئے۔ دین اسلام کی خدمت کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جس کی صف اول میں آپ نے علاقہ کی قیادت اور خدمت نہ کی ہو۔ ایک استاذ ہونے کے ناتے آپ کا احترام کا یہ عالم تھا کہ آپ کے چشم وابرو کے اشارہ کوحکم کادرجہ حاصل تھا۔ تمام دینی جماعتیں، دینی ادارے، مساجد و مدارس، منابر ومحراب آپ کے مرہون احسان تھے۔ اسٹیج و تحریکوں کی قیادت و سیادت آپ کا پانی بھرتی تھی۔ تمام سرکاری دوائر، پورے معاشرہ کی قیادت، تمام مسالک کے نمائندگان، شہر کی تمام مذہبی و سیاسی قیادت میں آپ کو نمایاں احترام کا مقام حاصل تھا۔ ہر جگہ آپ کو سر اور آنکھوں پر بٹھایا جاتا تھا۔ اتنی عزت واحترام اور ہر دلعزیزی کہ دنیا کی نظر میں خیریں ہوگئیں۔ ان کی وجاہت و قبولیت کو دیکھ کر علاقہ کی متعدد شخصیات سراپا و احترام بن جاتیں۔ آپ ایک اچھے منجھے ہوئے خطیب، حق گو اور نڈر علاقہ کی آواز اور پہچان تھے۔ چہارسوآپ کی مسحور کن شخصیت کا جادو چلتاتھا۔ بہت اچھی صحت تھی۔ تمام روز مرہ کے معمولات اور سرگرمیاں سماجی معاشرتی اور دینی خدمات بخوبی رواں دواں تھیں کہ وصال سے ایک دن قبل پہلی بار دل کی تکلیف ہوئی۔ خانیوال اسپتال لے جایاگیا۔ چیک اپ ہوا۔ خیریت سے واپس آگئے۔ اگلی رات خیریت سے گزری۔ محرم الحرام جمعرات جون کو فجر کی نماز سے پہلے اپنے جانشین عالم دین صاحبزادہ مولانا مفتی جلال الدین سے فرمایا کہ نماز کے بعد مجھے ملیں۔ وہ حاضر خدمت ہوا، تو فرمایا کہ کل جمعہ آپ پڑھائیں گے۔ امن کمیٹی اور مقامی و ضلعی سرکاری مہمان آئیں گے۔ یوم عاشورہ کے باعث مجھے مصروفیت ہوگی۔
دیگر کام بھی ان کو تفویض کیے۔دوپہر کے وقت نہائے، دھوئے، کپڑے تبدیل کیے۔ اچانک اتھرو آیا، اٹھے، کلی کی، بستر پر دراز ہوئے۔ گھروالوں نے یہ کیفیت دیکھی، ڈاکٹر کو بلایا مگر دیکھتے ہی دیکھتے دنیا سے آنکھیں موندیں اور آخرت میں جاکر کھولیں۔ مختصر سے وقت میں معاملہ اِدھر سے ادھر کاہوگیا۔جس نے سنا وہ دم بخود لیکن حقیقت کو مانے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ مانسہرہ کراچی دوردراز سے عزیزان ومہمانان نے شریک تدفین ہونا تھا۔ اگلے روز دس محرالحرام کو جنازہ ہوا، جو آپ کے جانشین مولانا سید جلال الدین شاہ صاحب نے پڑھایا اور پھر ان کو اپنے والد گرامی کے پہلو میں سپردرحمت باری تعالیٰ کر دیا گیا۔گئے مگر دلوں سے نہیں۔ ان کی یادوں کی بارات کا سلسلہ دیر تک رواں دواں رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کے تمام خیر کے کاموں کو سدا بہار بنائیں، آمین!

