رپورٹ: علی ہلال
قابض اسرائیلی ریاست کے وزیر دفاع یسرائیل کاتس نے دعویٰ کیا ہے کہ صہیو نی فوج نے لبنان کے مشرقی سیکٹر کے 73 فیصد دیہات تباہ کردیے ہیں جبکہ تقریباً 13 لاکھ افراد کو بے گھر ہونے پر مجبور کیا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے ریڈیو اور عبرانی اخبار کے مطابق کاتس نے پیر کی شام فوجی نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور لبنان کے محاذوں کو آپس میں جوڑا تو اسرائیل نے بیروت میں عمارتیں گرانا بند کردی۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور لبنان کے محاذوں کو یکجا کرنا امریکی مفاد تھا اور یہی امریکا کے ساتھ شراکت داری کی ایک بڑی پابندی بھی تھی۔ ان کے بقول اگر یہ ربط نہ ہوتا تو حزب اللہ مکمل طور پر شکست کھا جاتی۔صہیونی وزیر دفاع نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط سے قبل وہ وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو اور صدر ٹرمپ کے درمیان ہونے والی چار ٹیلیفونک گفتگووں میں شریک تھے، تاہم پانچویں گفتگو میں موجود نہیں تھے۔ ان کے مطابق اسی گفتگو میں امریکی صدر نے دباو ڈالا جس کے نتیجے میں ایران اور لبنان کے محاذوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد جنوبی لبنان کے رہائشی واپس آنا شروع ہوئے اور حزب اللہ نے بھی وہاں اپنی موجودگی مضبوط کرلی۔
اسرائیلی فوج کے ریڈیو کے مطابق کاتس کے یہ بیانات دراصل امریکا پر یہ بالواسطہ الزام ہیں کہ اس نے اسرائیل کو ایسے اقدامات سے روک کر حزب اللہ کے خاتمے کی راہ میں رکاوٹ ڈالی جو اس تنظیم کے مکمل انہدام کا سبب بن سکتے تھے۔لبنانی فوج کے ان علاقوں میں داخل ہونے کے منصوبے پر کاتس نے کہا کہ وہ یہ توقع نہیں رکھتے کہ لبنانی فوجی اچانک حزب اللہ کے خلاف کارروائی شروع کر دیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی فوج لبنان میں اپنی موجودگی طویل عرصے تک برقرار رکھے گی۔ کاتس نے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے سربراہ بریڈ کوپر سے ہونے والی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں اس بات پر متفق تھے کہ اسرائیلی فوج لبنان، شام اور غزہ کے تین سکیورٹی زونز سے انخلا نہیں کرے گی۔ صہیونی وزیردفاع نے جنوبی لبنان میں تباہی پر فخر کرتے ہوئے کہا کہ سرحدی علاقوں میں واقع دیہات کو ختم کرنا ضروری تھا اور اب مغربی اور وسطی سیکٹروں میں رابطے کی لائن پر تقریباً تمام دیہات تباہ کیے جاچکے ہیں جبکہ مشرقی سیکٹر میں 73 فیصد دیہات تباہ ہوچکے ہیں۔ کاتس نے مزید دعویٰ کیا کہ اب تک بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے (الضاحیہ) سے 7 لاکھ اور جنوبی لبنان کے دیہات سے 6 لاکھ باشندے بے گھر ہوچکے ہیں۔
دوسری جانب گزشتہ جمعہ امریکا کی ثالثی میں بیروت اور تل ابیب کے درمیان ایک فریم ورک معاہدہ طے پایا، جس کے تحت اسرائیلی افواج کا پورے لبنان سے مرحلہ وار انخلا دو آزمائشی علاقوں سے شروع کیا جائے گا۔ تاہم معاہدے میں انخلا کے لیے کوئی واضح مدت مقرر نہیں کی گئی۔ معاہدے کے مطابق اسرائیلی انخلا کے بعد متعلقہ علاقوں کی سکیورٹی کی ذمہ داری صرف لبنانی فوج سنبھالے گی جبکہ ریاست کے ماتحت نہ ہونے والے تمام مسلح گروہوں، بالخصوص حزب اللہ کو غیرمسلح کیا جائے گا۔ ادھر لبنان کی وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ 2026ء سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک 4 ہزار 247 افراد شہید، 12 ہزار 195 زخمی جبکہ 10 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ اسرائیل جنوبی لبنان کے متعدد علاقوں پر اب بھی قابض ہے۔ ان میں بعض علاقے کئی دہائیوں سے اس کے قبضے میں ہیں جبکہ دیگر پر 2023ء اور 2024ء کی جنگ کے دوران قبضہ کیا گیا تھا۔ موجودہ کارروائیوں میں اسرائیلی فوج لبنان کے اندر 10 کلومیٹر سے زائد تک پیش قدمی کرچکی ہے، جو سنہ 2000ء میں جنوبی لبنان سے انخلا کے بعد اس کی سب سے گہری پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ 18 جون 2026ء کو ایران اور امریکا کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق ہوا تھا جس میں جنگ بندی، ایران پر امریکی بحری محاصرے کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی شقیں شامل تھیں۔ یہ معاہدہ 28 فروری 2026ء سے ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکا کی مشترکہ جنگ کے بعد سامنے آیا۔ اپنی روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر دفاع نے پیر کے روز کہا کہ اسرائیل اور امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے سربراہ کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ لبنان، شام اور غزہ میں قائم ”سکیورٹی زونز“ سے اسرائیلی فوج انخلا نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی لبنان کے دو آزمائشی علاقوں سے انخلا کے بعد بھی مزید کوئی انخلا اُس وقت تک نہیں ہوگا جب تک حزب اللہ کو غیرمسلح نہیں کردیا جاتا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل لبنان سے کسی بھی صورت انخلا نہیں کرے گا، تل ابیب بیروت کے ساتھ ابراہام اکارڈ کا معاہدہ کرنے جارہا ہے اور اس سے قبل صہیونی فوج کی کسی واپسی کا ارادہ نہیں ہے۔
عبرانی اخبار ہآرٹس نے عسکری ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کو تاحال لبنان کے کسی بھی علاقے سے انخلا کا باقاعدہ حکم موصول نہیں ہوا۔ تاہم فوج نے تین دیہات؛ فرون، غندوریہ اور زوطر الغربیہ‘ کی نشاندہی کی ہے جہاں سے انخلا کیا جاسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق زوطرالغربیہ میں اسرائیلی فوج مستقل طور پر تعینات نہیں جبکہ فرون اور غندوریہ میں اس کی موجودگی برقرار ہے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ لبنان میں جنگ بندی کی نگرانی کے لیے ایک نگران نظام تشکیل دینے پر غور کر رہی ہے جو غزہ میں نافذ کیے گئے نگرانی کے طریقہ کار سے مشابہ ہوگا۔
بحیرہ روم کے کنارے پر واقع لبنان کے شمال اور مشرق میں شام اور جنوب میں مقبوضہ فلسطین واقع ہے۔ لبنان کا مجموعی رقبہ 10 ہزار 452 مربع کیلومیٹر ہے۔ لبنان کی 43 لاکھ آبادی ہے جس میں عیسائی،مسلمان اور دروز سمیت دیگر مذاہب کے پیروکار مقیم ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑی مسیحی آبادی والا ملک ہے اور یہ واحد عرب ملک ہے جہاں کے آئین میں سب سے زیادہ اختیارات اور حقوق مسیحی برادری کو ملے ہیں۔ ایک غیرنوشتہ معاہدے کے مطابق لبنان میں صدر مسیحی فرقے مارونی، وزیراعظم سنی اور پارلیمنٹ کا اسپیکر شیعہ ہوتا ہے۔ طائفی شراکتِ اقتدار کے نظام کے تحت اعلیٰ فوجی، سکیورٹی، عدالتی، مالی، پارلیمانی اور حکومتی مناصب بھی مختلف مذہبی و فرقہ وارانہ گروہوں کے درمیان تقسیم کیے گئے ہیں تاکہ ملک میں سیاسی توازن برقرار رکھا جا سکے۔
فوجی اور سکیورٹی اداروں میں لبنانی فوج کے سربراہ کا عہدہ مارونی عیسائی، داخلی سکیورٹی فورسز کے ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ سنی، جنرل سکیورٹی کے ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ شیعہ برادری، ریاستی سکیورٹی کے ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ رومی کیتھولک، جبکہ چیف آف اسٹاف کا منصب دروز برادری کے حصے میں آتا ہے۔ عدالتی اور مالیاتی اداروں میں مرکزی بینک (بینک آف لبنان) کے گورنر، سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ اور آئینی کونسل کے صدر کا منصب مارونی عیسائی کو دیا جاتا ہے، جبکہ پراسیکیوٹر جنرل کا عہدہ سنی کے پاس ہوتا ہے۔ لبنانی پارلیمان کی 128 نشستیں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان برابر تقسیم کی گئی ہیں۔ ان میں مارونی عیسائیوں کے لیے 34، سنیوں کے لیے 27، شیعہ کے لیے 27، رومی آرتھوڈوکس کے لیے 14، رومی کیتھولک کے لیے 8، دروز کے لیے 8، آرمینی آرتھوڈوکس کے لیے 5، علوی برادری کے لیے 2، آرمینی کیتھولک، انجیلی عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے ایک، ایک نشست مختص ہے۔ حکومتی سطح پر بھی کابینہ کی وزارتیں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان مساوی بنیاد پر تقسیم کی جاتی ہیں جبکہ مختلف وزارتوں کی تقسیم ہر دور کی سیاسی مفاہمت اور حکومت سازی کے معاہدوں کے مطابق مختلف طوائف کے حصے میں آتی ہے۔

