شادی بیاہ کی فضول رسموں میں ہمارا کردار

زیورات خواتین کی پسندیدہ شے ہوتے ہیں۔ جو خواتین زیور سے آراستہ ہوتی ہیں وہ بلا شبہ بھاگ بھری ہوتی ہیں لیکن عام طور پر بھاگ جگانے والے سونے کے زیورات شہروں میں اس خوف سے لڑکیوں اور عورتوں میں کم پہنے جاتے ہیں کہ کہیں لوٹنے والے انہیں چھین کربھاگ نہ جائیں جبکہ وہ لڑکیاں جو رشتہ ازدواج میں بندھ رہی ہوتی ہیں، انہیں ان کے والدین اور سسرال دونوں کی طرف سے سونا پہننے کو دیا جاتا ہے۔ گویا سونے پہ سہاگہ۔ زیور اور وہ بھی سونے کا، شادی کا سب سے مہنگا آئٹم ہوتا ہے، جو والدین کی جانب سے اپنی بچی کو دیا جاتا ہے۔ لڑکی کو دیے جانے والے جہیز کے ساتھ زیور دینا والدین کی مجبوری ہوتی ہے۔ وسائل کم ہوں تو بچیوں کی مائیں اپنا زیور بیچ کر بیٹیوں کا زیور بنواتی ہیں۔ عجب بات ہے کہ اگر دلہن کو کم دیا جائے زیور، تو چاہے میاں جی کیوں نہ ہوں راضی، باتیں ضرور بناتے ہیں جیٹھ اور دیور۔ سسرالی رشتے داروں کو یہ جاننے میں خصوصی دلچسپی ہوتی ہے کہ بہو کا زیور کیسا اور کتنے تولے کا ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں زیور بیٹی کو وافر مقدار میں دینا ممکن نہیں رہا۔ اس لئے اکثر واقفان حال اور ہمدردی رکھنے والے سسرالی رشتے دار آرٹیفیشل جیولری، جو ملمع کاری کے ذریعے سونے کے زیور کی طرح ہوتی ہے، دلہن کو پہنا کر، بیاہ کر لے جاتے ہیں۔

عمدہ اور دیدہ زیب لباس اور خوبصورت زیور خواتین کی زیب و زینت میں اضافہ کرتے ہیں۔ چوڑیاں ہوں یا بندے اور بالیاں، کڑے ہوں یا نیکلس اور بریسلٹ، خواتین کی شان بڑھا رہے ہوتے ہیں مگر اسلاف کا یہ ہے کہنا کہ اصل میں شرم و حیا ہے خواتین کا گہنا۔ جس نے اس کو خوشی سے پہنا وہ مکرم ٹہری، چاہے بیوی ہو یا بہنا۔ شادی بیاہ میں بے پناہ اخراجات کے زیر بار آنے کے علاوہ جو چیز سب سے زیادہ لوگوں کو کھلتی ہے، وہی ان کیلئے پسندیدہ ٹھہرتی ہے۔ وہ چیز ہے نمود و نمائش، ظاہر داری اور تصنع و بناوٹ، لازم ہے کہ چار پانچ دنوں تک گھرکے در و دیوار پہ رہے برقی سجاوٹ۔ ہم نے بڑے جہیز کے ساتھ بیٹی کو رخصت کرنے کی رسم کو ایسا پکڑ لیا ہے جس کی وجہ سے جوان بیٹیاں کم جہیز یا عدم جہیز کی بھینٹ چڑھتے ہوئے طلاق کی سولی پہ لٹک رہی ہیں یا گھر بیٹھی بیٹھی ڈھلتی شام کی طرح ان کی عمر بھی ڈھل رہی ہے۔ ہم سب اس کے ذمہ دار ہیں۔ زیادہ جہیز دینے کا رواج اب رسم دنیا کے دائرے سے نکل کر فرض عین کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ یہ ایک خطر ناک رجحان ہے۔

اگر کسی گھر میں ماں باپ سمیت سات افراد ہوں تو یہ ضروری ہے کہ شادی کے ہر ایونٹ کیلئے ان سب کے چار پانچ نئے جوڑے تیار ہوں۔ مایوں کے الگ، مہندی اور ڈھولکی کے الگ، شادی کے الگ اور ولیمے کے الگ الگ سوٹ سلوائے جاتے ہیں۔ اسی حساب سے ہر تقریب میں کھانے کا بھی لازمی اہتمام ہوتا ہے۔ لڑکی کی شادی ہو تو بیسیوں سسرالی مرد عورتوں کی پہنائیاں بھی باقاعدہ خوبصورت پیکنگ میں الگ سے جہیز کے ساتھ دی جاتی ہیں۔ اس پر اٹھنے والے اخراجات بھی ہوش ربا ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود کسی کو پہنائی میں دیا جانے والا سوٹ طبع نازک پر پسندیدگی کے پھول نہیں کھلا پایا تو سمجھو اختلاف کی داغ بیل ڈالی جا چکی ہے۔ بعد میں کتنے بھی مواقع پر معترض کو جتنے بھی قیمتی جوڑے دے دیے جائیں، مگر مزاج برہم کے برہم ہی رہیں گے۔ دراصل ہم نے شادیوں کے موقع پر نئے پرانے رسم و رواج کو اپنا کر شادی بیاہ کو دشوار ترین بنا دیا ہے۔ ایک نئی چیز جو رسم کے طور پر رواج پا رہی ہے وہ قوالی نائٹ ہے۔ بھلا قوالی کا شادی سے کیا تعلق؟ اس موقع پر بھی پر تکلف کھانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

ایک عرصے سے رواج چلا آ رہا ہے کہ بارات کی آمد بینڈ باجے کے ساتھ ہوتی ہے اور دولہا کے بھائی، رشتے دار اور دوست بینڈ کی دھن پر لڈیاں ڈالتے ہوئے بارات کے ساتھ ساتھ شادی ہال کے اندر آ جاتے ہیں۔ کانوں کے پردے چاک کرتا ہوا ڈھول کا شور اور باپردہ خواتین کو مصیبت میں ڈالنے والا الاپ ایک مشکل صورت حال پیدا کر دیتا ہے۔ باراتیوں پر کرنسی نوٹ اور سکے وار پھیر کر کے لٹائے جاتے ہیں۔ اگر غریب و فقرا کی مدد مقصود ہوتی ہے تو نوٹ یوں پھینک کر دینا کہ جو چاہے انہیں چھینا جھپٹی کرکے لوٹ لے، غریبوں کی عزت نفس کے خلاف اور ان کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ اسی طرح شادی ہال سے باہر گاڑی یا ڈولا رکائی کی رسم کو لازم بنا لیا گیا ہے۔ جب تک پیسوں کے لین دین کے مطالبات پورے نہیں ہوتے دولہا کو گاڑی سے اترنے اور شادی ہال میں داخل نہیں ہونے دیا جاتا۔

کوئی غریب یا متوسط درجے کی فیملی تو قطعاً ان رسم و رواج کی متحمل نہیں ہو پاتی، البتہ نت نئی رسوم کی بنیاد ڈالنے میں دولتمند اور اہل ثروت لوگوں کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ پھر باقی لوگ ان پر کشش رسم و رواج کو اپنانے کیلئے مقناطیسی قوت کے ساتھ کھنچے چلے آتے ہیں۔ اسی طرح شادی کے بعد جب دولہا والوں کی دعوت ہوتی ہے تو لڑکی والے نوجوان لڑکے، لڑکیاں دولہا کا جوتا چھپا دیتے ہیں، وہ جوتا اس وقت تک واپس نہیں کرتے جب تک دولہا کی طرف سے معقول رقم کی ادائی کا مطالبہ پورا نہیں ہو جاتا۔ یہ رسم و رواج نہ صرف بے جا اخراجات اور زیر باری کی وجہ بنتے ہیں بلکہ بسا اوقات ان سے اختلاف پیدا ہونے پر نازک رشتوں کو بھی ٹھیس پہنچتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی اور بھیڑ چال کے رجحان کی وجہ سے رسوم کو پوری طرح سے پھلنے پھولنے کا موقع مل رہا ہے۔ ہم زیادہ تر بھارتی ثقافتی شوز اور ہندوستانی فلموں میں دکھائی جانے والے شادی کے ملبوسات اور رسوم سے متاثر ہو کر انہیں اپنی شادیوں میں بھی رائج کرتے ہیں بلکہ مغربی تہذیب کو اپنانے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستانی ٹی وی چینلز کے بیشتر مارننگ شوز اور نئے فیشن پروگرام رسم و رواج کو مزید پھیلانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

اوپر بیان کر دہ رسوم رواج وہ ہیں جو نمایاں نظر آتی ہیں اور ان رسوم کو اس خوبصورت و دلکش انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ تقریبات میں شریک ہونے والے خواتین و حضرات نہ صرف انہیں پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں بلکہ ان کے دلوں میں اپنے یہاں بھی اسی طرح کی رسوم کو ادا کرنے کا ارمان پیدا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ اور بھی رسمیں ہیں جو شادی کی کئی روزہ تقریبات میں گاہے بہ گاہے ادا کی جاتی ہیں، مثلاً مہندی کی فضول رسم میں نوجوان بچیاں ناچ گانے کی محفل سجاتی ہیں۔ وہ تمام گھر والوں اور مدعوئین کی موجودی میں ٹھمکے لگا کر اور ہاتھوں میں چھڑیاں پکڑ کر سہیلیوں کی چھڑیوں سے ٹکراتی ہیں اور اس کی ردھم کے ساتھ رقصاں ہوتی ہیں۔ خالصتاً ہندووانہ اور خلاف اسلام رسم ہے جسے فوری ترک کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک اور رسم جو ہمارے گھرانوں میں رواج پا رہی ہے وہ یہ ہے کہ شادی کی اگلی صبح توقع کی جاتی ہے کہ دلہن کے گھر والوں کی طرف سے دولہا والوں کے گھر ناشتہ بھیجا جائے۔ خود دولہن کے میکے والے بھی اس کا اہتمام کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اس طرح وہ نہ صرف اپنے یہاں ٹھہرے ہوئے مہمانوں کے ناشتے پانی کا بندوبست کرتے ہیں بلکہ دولہا کے گھر بھی پر تکلف ناشتہ بھیجتے ہیں۔ یہ فضول خرچی پر مبنی رسم ہے جس سے لڑکی والوں پر مزید مالی بوجھ پڑتا ہے، لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک بھر میں سنجیدہ و دین دار افراد کے حلقوں کی جانب سے باقاعدہ ایسی تحریک کا آغاز کیا جائے، جس کے ذریعے نہ صرف تبلیغ و اشاعت کے ذریعے فضول اور غیر اسلامی رسوم و رواج کو ترک کرنے کی ترغیب دی جائے، بلکہ قیامت کے روز ان پر مواخذہ ہونے سے بھی ڈرایا جائے۔ یہ مہم اس لئے ضروری ہے کہ حکومتیں ایسی بے جا رسوم کے خاتمے کے سلسلے میں ابھی تک کوئی قدم نہیں اٹھا سکیں اور نہ ہی یہ کسی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔