امریکا اور ایران کے درمیان اعصاب کی جنگ

امریکا اور ایران کے درمیان عسکری محاذ پر دوبارہ معرکہ آرائی شروع ہونے کے امکانات و خدشات کے تناظر میں اعصاب کی جنگ جاری ہے اور امریکی صدر ٹرمپ نے پیر کے روز سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران پر منگل کے روز دوبارہ حملہ کرنے کا پروگرام قطر،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں کی تجویز پر موخر کردیا گیا ہے، ان کے مطابق ان ممالک نے ایران کے ساتھ بات چیت کے ذریعے ڈیل کا یقین دلایا ہے اور یہ کہ ڈیل نہ ہونے کی صورت میں امریکی فوج کو ایران پر حملہ کرنے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

اس دوران امریکا اور ایران کے درمیان کوئی سمجھوتا ممکن بنانے کے لیے پاکستان کی سفاتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ پاکستانی میڈیا اور بین الاقوامی سفارتی ذرائع کے مطابق، خطے کو بڑی تباہی سے بچانے کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار میں ایک بہت بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں ایران نے جنگ کے خاتمے، فوری و پائیدار جنگ بندی اور برسوں پرانی بداعتمادی کی خلیج کو کم کرنے کے لیے ایک جامع 14 نکاتی فارمولا پاکستان کے حوالے کیا ہے۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے تصدیق کی ہے کہ یہ تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچائی گئی ہیں۔ اس سفارتی مشن کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی تین دن تک تہران میں موجود رہے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت کے ساتھ ان نکات کی واشنگٹن تک رسائی کے طریقہ کار پر تفصیلی مشاورت کی ۔ اس پیشرفت کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ تہران اور واشنگٹن دونوں کو اسلام آباد کی ثالثی پر مکمل اعتماد ہے۔عرب خبر رساں ادارے ‘العربیہ’ کے مطابق، ایران معاشی مراعات حاصل کرنے کے بدلے اپنے ایٹمی پروگرام کو منجمد کرنے پر تیار ہو گیا ہے اور اس نے افزودہ یورینیم کو روس منتقل کرنے کی مشروط پیشکش بھی کی ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں تصدیق کی کہ تہران کا موقف پاکستانی ثالث کے ذریعے امریکا کو پہنچا دیا گیا ہے اور فریقین نے ایک دوسرے کی تجاویز پر ردعمل کا تبادلہ کیا ہے تاہم اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ایران اپنے یورینیم افزودگی کے حق پر نہ تو کوئی بات چیت کرے گا اور نہ کوئی سمجھوتہ، کیونکہ یہ حق معاہدہ عدم پھیلا ئو(NPT) کے تحت تسلیم شدہ ہے۔ ایران کے منجمد اثاثوں سے پابندیاں ہٹانا ایران کی شرط نہیں بلکہ بنیادی مطالبہ ہے، جبکہ دیگر مطالبات میں خطے کے ہر محاذ (بشمول لبنان)پر جنگ کا خاتمہ، جنگی نقصانات کا ازالہ، امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، ایرانی تیل کی فروخت کی بحالی اور آئندہ حملوں کی عدم موجودگی کی ضمانتیں شامل ہیں۔

دوسری جانب سفارتی کوششوں کے ناکام ہونے کے خدشات کے پیش نظر امریکا اور اسرائیل نے رواں ہفتے کے اوائل میں ہی ایران پر دوبارہ مشترکہ حملے شروع کرنے کی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ امریکی اخبار ‘نیویارک ٹائمز’ کے مطابق یہ تیاریاں رواں سال اپریل کے آغاز میں پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی عسکری تیاریاں ہیں۔ منصوبوں کے تحت ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں، توانائی کے مراکز اور بنیادی عسکری ڈھانچے پر شدید فضائی حملے شامل ہیں۔ ایک انتہائی حساس منصوبے کے تحت امریکی اسپیشل فورسز کو ایران کے اندر زمین دوز تنصیبات سے جوہری مواد قبضے میں لینے کے لیے بھی بھیجا جا سکتا ہے، جہاں اصفہان کی جوہری تنصیب بنیادی ہدف ہو سکتی ہے، جہاں 60 فیصد تک افزودہ 200 کلو گرام یورینیم موجود ہے۔

بین الاقوامی امور کے ماہر تجزیہ نگاروں کے مطابق اگرچہ امریکا اور ایران دونوں کی جانب سے مذاکرات کے دوران غیر معمولی خود اعتمادی کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے بالخصوص امریکی ٹرمپ کی جانب سے روز سوشل میڈیا کے ذریعے ایران کو تباہ کرنے اور صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں اور بڑے پیمانے پر جنگی تیاریوں کو تاثر پیدا کرکے ایران کو دباو میں لانے کی کوشش ہورہی ہے، اسی طرح ایران کی جانب سے بھی امریکا کو صاف صاف جواب دیا جارہا ہے اور کسی حملے کی صورت میں منہ توڑ جواب دینے کی دھمکی بھی دی جارہی ہے مگر درحقیقت یہ سب مذاکرات میں زیادہ سے زیادہ مطالبات منوانے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت امریکا خطے میں دوبارہ جنگ چھیڑنے کا متحمل ہے نہ ایران اپنے شہروں اور باقی ماندہ تنصیبات پر امریکی و اسرائیلی بمباری کو سہنے کی طاقت رکھتا ہے۔دونوں فریق اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں جو تباہی ہوگی ،اس سے کسی کے ہاتھ میں کچھ نہیں آئے گا۔یہ بات طے ہے کہ امریکا نے ایران پر حملہ کردیا تو ایران ایک بار پھر اپنی پوری قوت مجتمع کرکے خلیج میں قائم امریکی اڈوں پر حملے کرے گا جس سے خلیجی ریاستیں بھی جنگ کا ایندھن بن جائیں گی۔ قطر،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں نے اگر امریکی صدر ٹرمپ کے بقول ان سے رابطہ کرکے جنگ نہ کرنے کی صلاح دی ہے تو اس کا سیدھا سیدھا مطلب یہی نکلتا ہے کہ وہ اس جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہتے جبکہ ان ممالک کے بغیر امریکا ایران پر حملہ نہیں کرسکتا۔ اس وقت دنیا میں اگر کوئی واحد ملک ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کا ساتھ دے سکتا ہے،وہ اسرائیل ہی ہے جس کا مقصد اس جنگ کے ذریعے ایران اور خلیجی ممالک کو ایک دوسرے سے لڑواکر گریٹر اسرائیل کے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانا اور امریکا کے کندھے پر رکھ کر عالم اسلام کے خلاف اپنی بندوق چلانا ہے۔

مقام شکر ہے کہ خلیجی ممالک نے تاحال انتہائی صبرو ضبط کامظاہرہ کرکے اسرائیل کے اس منصوبے کو ناکام بنادیا ہے مگر اب یہ ایران کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ خلیجی ممالک کو غیرضروری طور پر اشتعال دلاکر جنگ میں کودنے پر مجبور نہ کرے۔ بعض مبصرین کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کوخلیجی ممالک کے ساتھ امن قائم رکھنے سے زیادہ دل چسپی نہیں ہے اور وہ بھی امریکا اور اسرائیل کی طرح خلیجی ممالک کی سرزمین کو اپنے مفادات کی جنگ کا میدان بنانے پر مصر ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ ایران کی سیاسی قیادت کو اس معاملے کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لینا چاہیے اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ دشمنوں والا رویہ رکھنے سے گریز کرنا چاہیے۔ایران کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ پڑوسی ممالک کے لیے خطرہ بننے کا تاثر پیدا کرکے وہ اپنے لیے مشکلات میں ہی اضافہ کرے گا۔