اطلاعات کے مطابق پاکستان کی تمام تر کوششوں کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس وقت دونوں اطراف سے کشیدگی دکھائی دے رہی ہے۔ مال بردار امریکی فوجی طیاروں کی بڑے پیمانے پر نقل و حرکت دیکھی گئی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ امریکا کی جانب سے اسرائیل کو بھاری مقدار میں اسلحہ فراہم کیا جا رہا ہے۔ انسانیت کے عالمی مجرم نیتن یاہو نے صہیونی دہشت گرد فوج کو تیاری کا حکم دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران میں اہداف کا تعین کر لیا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک اور امریکا، ایران جنگ سر پر آ چکی ہے۔ دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر کے عسکری مشیر کی طرف سے انتباہ کیا گیا ہے کہ ایران جوابی حملے کے لیے تیار ہے۔ ایران جوہری قوت کے حصول کے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں اطراف سے کشیدگی میں اضافے کی تازہ وجہ مذاکرات کے لیے عائدکردہ شرائط ہیں۔ ایران نے پاکستان کے ذریعے سے مصالحت کی جو پانچ نکاتی شرائط پیش کی تھیں ان میں لبنان میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز پر ایرانی ملکیت کا حق، منجمد اثاثوں کی بحالی اور جنگ کے تاوان کی ادائیگی جیسے ایرانی مفادات کے عین مطابق نکات شامل تھے جو خطے میں ایرانی بالادستی کی راہ ہموار کر رہے تھے جبکہ دوسری طرف امریکا نے جوابی شرائط میں افزودہ یورنیم کی امریکا سپردگی، تمام مواقع پر جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کے بلاٹیکس بحالی نیز منجمد اثاثوں میں سے پچیس فیصد کی بحالی اور جنگ کے تاوان سے مکمل انکار کو شامل کیا جوکہ خطے میں امریکی اور اسرائیلی بالادستی کا اظہار ہے۔ گویا فریقین اپنی بالادستی کو یقینی بنانے پر بضد ہیں اور کوئی بھی ملک اس جنگ کی وجہ سے متاثر ہونے والے اربوں انسانوں کے مسائل پر غور کے لیے تیار نہیں ہے۔
جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو مذاکراتی عمل میں اس کی جانب سے اختیار کیے جانے والے رویے کی تحسین نہیں کی جا سکتی۔ یہ درست ہے کہ امریکا نے جاری مذاکراتی عمل کو اسرائیل کی شہہ پر سبوتاژ کر کے سفارتی آداب کی خلاف وزری کا ارتکاب کیا لیکن پاکستان کی ثالثی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایرانی قیادت کو اپنے موقف میں ایسی لچک ضرور پیدا کرنی چاہیے تھی جو عالمی سطح پر ایران کے لیے مثبت تاثر فراہم کرتی۔ اسی طرح ایران کو عرب ممالک کے ساتھ بدمزگی پیدا کرنے کی بجائے انھیں علاقائی بنیادوں پر اپنا ہم خیال بنانا چاہیے تھا تاکہ خطے میں جنگ کا ماحول پیدا نہ ہوتا۔ اس حوالے سے آبنائے ہرمز کو بلاضرورت اَنا کا مسئلہ بنا لیا گیا۔ یوں آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور ایک عالمی راستے سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول ٹیکس کی وصولی نے ایران کو ایک سنجیدہ، ذمہ دار اور بردبار ریاست کی بجائے علاقائی غنڈے کا روپ دے دیا۔ اس وقت امریکا اور اسرائیل ایران کی اسی غلطی سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ اسرائیل اس خطے میں شر و فساد کی بنیادی وجہ ہے اور امریکی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے وہ ایرانی تیل کے ذخائر ہی پر قبضہ نہیں کرنا چاہتا بلکہ وہ ایران میں رجیم کی تبدیلی کے ذریعے ایک ایسی قیادت سامنے لانا چاہتا ہے جو کہ اسرائیل کی کٹھ پتلی اور اتنی کمزور ہوکہ ایرانی سرزمین کو پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کے خلاف استعمال ہونے میں مزاحم نہ ہو سکے۔
اسرائیل نے عراق کی سرزمین کو خفیہ فوجی ٹھکانوں کی مدد سے علاقائی ممالک کے خلاف کامیابی سے استعمال کیا ہے۔ اگر اسے ایران میں بھی مناسب جگہ میسر آگئی تو یہ تمام خطہ اسرائیلی دہشت گردی، فتنہ وفساد اور شر اور شورش کا گڑھ بن جائے گا۔ یہ صورت حال خاص طورپر پاکستان کے لیے قطعی طورپر ناقابلِ قبو ل ہوگی۔ پاکستان میں جاری دہشت گردی کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف جیسے عالمی ساہوکار ادارے پاکستانیوں کا خون نچوڑنے کے لیے تلے بیٹھے ہیں اور حکومت ِ پاکستان مجبوری کے عالم میں آئی ایم ایف کی دھمکیوں کی وجہ سے اپنے شہریوں کا گلہ گھوٹنے پر مجبور ہے کیونکہ ملک کے طاقتور طبقات اور اشرافیہ اپنے مالی مفادات میں رتی بھر کمی پر آمادہ نہیں۔ عالمی ساہوکار اداروں کے ہاتھوں اہل وطن کی ذلت یقینا ایک اذیت ناک معاملہ ہے۔ بھارت جیسی علاقائی طاقت کو چند گھنٹوں کی جنگ میں گھٹنوں پر بٹھا دینے والی عالمِ اسلام کی سب سے بڑی عسکری قوت عالمی مالیاتی ادارے کے سامنے سرنگوں دکھائی دیتی ہے اور اس کے شہریوں کے معاشی حالات دن بدن دگرگوں ہوتے جا رہے ہیں۔ قابلِ غور امر یہ ہے کہ ان حالات میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے پاکستانی معیشت پر کیا نتائج مرتب ہوں گے؟
ایران پر امریکی حملے اور آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی تجارت کو گوادر پورٹ کی صورت میں ایک متبادل میسر آ چکا ہے۔ گوادر سے وسطی ایشیائی ریاستوں نیز سی پیک کے ذریعے چین تک رسائی نے اس خطے میں تجارت کے فروغ کے لیے زبردست مواقع پیدا کر دیے ہیں جبکہ روس کی سی پیک میں شمولیت اور گوادر پورٹ کے ذریعے گرم پانیوں تک رسائی کے صدیوں پرانے خواب کی عملی تعبیر پاکستان میں معاشی ترقی اور خوش حالی کے لیے ایک نوید کی حیثیت رکھتی ہے۔ گوادر سے ایران کے راستے روس تک تجارتی راہداری علاقائی ممالک کے لیے بھی ایک خوش خبری ہے۔ ایسے میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ جہاں خود ایران کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے وہاں علاقائی ممالک کے لیے شدید تحفظات کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے بھی گوناں گوں مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت اور افغانستان خاص طورپر پاکستان کو نشانہ بنانے کی کوشش کریں گے تاکہ پاکستان کو علاقائی سطح پر اٹھنے اور آگے آکر کردار ادا کرنے سے روکا جا سکے۔ بھارتی آرمی چیف کی گیدڑ بھبکیاں کچھ تو پس منظر رکھتی ہی ہوں گی۔ تاہم بفضلہ تعالیٰ پاکستان اپنے دفاع کے لیے پوری قوت سے تیار ہے۔ پاکستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گردانہ حملوں کا ممکنہ جواب بہت جلد فتنۂ خوارج کے سرپرست رہنماؤں کو ملنے والا ہے۔ پاکستان سفارتی سطح پر بھی سرگرم ہے تاکہ امریکا، ایران ممکنہ تصادم کو روکا جا سکے۔ وزیراعظم میاں شہبازشریف نے توقع ظاہر کی ہے کہ پاکستان جنگ رکوانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اپنے عوام کو مہنگائی سے بچانے کے لیے ہنگامی اقدامات کرے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ جنگ جیسے حالات میں اپنی ریاست کا بھرپور ساتھ دے سکیں۔ پاکستان پر ہر طرف سے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ بقا کی جنگ میں پوری قوم کو متحد اور ثابت قدم رہنا ہوگا۔

