حکومت کو اب قوم کے مسائل پر توجہ دینا ہوگی

وزیراعظم شہباز شریف نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا دشمن اب بری نظر ڈالنے کی جرات نہیں کرے گا، ایک سال پہلے پاک فضائیہ کے شاہینوں اور فتح میزائلوں نے صحیح نشانے لگا کر دشمن کو کرارا اور ناقابلِ فراموش سبق سکھا دیا۔ پاکستان کسی بھی مہم جوئی کیخلاف اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کیلئے ہرقیمت ادا کرے گا، ہم اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ پاک سرزمین سے دہشت گردی کا ناسور ہمیشہ کے لیے ختم کر کے دم لیں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بجا طور پر اس حقیقت کی یاد دہانی کرائی ہے کہ پاکستان نے گزشتہ سال معرکہ حق میں دشمن کو ایسی کاری ضرب لگائی تھی جس کی نہ صرف اسے توقع نہیں تھی بلکہ پوری دنیا کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں، میزائل ٹیکنالوجی اور مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت نے ایک ایسے دشمن کو چند گھنٹوں میں ہی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جو اپنی عددی، عسکری اور معاشی برتری کے زعم میں مبتلا تھا۔ پاکستان نے دشمن کی کئی دنوں پر مشتمل جارحیت کے جواب میں ”سو سنار کی، ایک لوہار کی” کے مصداق ایسا فیصلہ کن جواب دیا کہ دشمن آج بھی اس کے زخم چاٹ رہا ہے اور اس کے اثرات سے ہنوز باہر نہیں نکل سکا۔ اس شکست نے نہ صرف اس کے عسکری غرور کو توڑا بلکہ عالمی سطح پر اس کے ناقابلِ تسخیر ہونے کے تاثر کو بھی غلط ثابت کردیا۔ یہ حقیقت کسی مبالغے کی محتاج نہیں کہ معرکہ حق پاکستان کی تاریخ کے ان خاص لمحات میں سے ایک تھا جب قوم نے اپنی عسکری قوت، ذہانت، منصوبہ بندی اور حوصلے کا ایسا مظاہرہ کیا جس نے دنیا کو حیران کر دیا۔ دشمن کو دن کی روشنی میں تارے دکھا دیے گئے، اس کے دانت کھٹے کیے گئے اور اسے یہ باور کروا دیا گیا کہ پاکستان کو کمزور سمجھنا ایک مہلک غلطی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ایک سال گزرنے کے باوجود اس جنگ کے اثرات خطے کی سیاست، عالمی سفارت کاری اور عسکری میدان میں واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اس کامیابی نے پاکستان کیلئے سفارتی میدان میں امکانات کے نئے دروازے کھولے۔ یہی وجہ ہے کہ آج امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کی کوششوں میں پاکستان ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ پاکستان کو عالمی سطح پر جو اعتماد، اعتبار اور اہمیت حاصل ہوئی ہے، اس کی بنیاد بلاشبہ معرکہ حق کی تاریخی کامیابی ہے۔

یہ پاکستان کیلئے یقیناایک تاریخی موڑ ہے۔ ہماری تاریخ میں ایسے مواقع کم ہی آئے ہیں جب عالمی طاقتوں نے پاکستان کو بڑے اسٹیج پر ایک بڑے کھلاڑی کے طور پر قبول کیا ہو۔ آج پاکستان اسی مقام پر کھڑا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس عظیم کامیابی کا فائدہ عوام کو کیا ملا؟ کیا حکومت نے اس عسکری اور سفارتی کامیابی کو عوامی فلاح، معاشی استحکام اور داخلی اصلاحات کیلئے ایک موقع میں تبدیل کرنے کی سنجیدہ کوشش کی؟ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ ایک سال گزرنے کے باوجود حکمران طبقہ محض معرکہ حق کی کامیابی کے نعروںمیں گم ہے۔ صبح و شام اس کامیابی کے شادیانے تو بجائے جا رہے ہیں، مگر عوام کی مشکلیں آسان کرنے کی کوئی کوشش نظر نہیں آتی۔ ایک باشعور اور مخلص قیادت ایسے تاریخی مواقع کو قوم کے حالات اور دن رات بدلنے کیلئے استعمال کرتی ہے اور معاشی استحکام، سیاسی ہم آہنگی، صنعتی ترقی، داخلی امن اور عوامی خوشحالی کیلئے طویل المدت منصوبہ بندی کرتی ہے لیکن یہاں صورتحال یہ ہے کہ کامیابی کو محض ایک سیاسی نعرہ اور جذباتی سرمایہ بنا کر ہی استعمال کیا جا رہا ہے۔ قوموں کی ترقی محض جنگی فتوحات سے نہیں بلکہ ان فتوحات کے بعد کیے جانے والے دانشمندانہ فیصلوں سے ہوتی ہے۔ آج پاکستان عالمی سطح پر ایک اہم کردار میں نظر آ رہا ہے، مگر دوسری طرف اس کا اپنا گھر سیاسی انتشار، بدامنی، دہشت گردی، معاشی بے یقینی اور مہنگائی کی آگ میں جل رہا ہے۔ ایک طرف ہم دنیا کو امن کا درس دے رہے ہیں، دوسری طرف اپنے شہری خوف، بے یقینی اور معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ کیا پاکستان کے عوام کا حق نہیں کہ وہ بھی امن چین کی زندگی گزاریں؟

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ عالمی سطح پر عزت اور وقار حاصل کرنے کے باوجود عام پاکستانی کی زندگی میں آسانی پیدا نہیں ہو سکی۔ پٹرول کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، مہنگائی اپنی بدترین سطح پر ہے، بجلی اور گیس کے بل عوام کی برداشت سے باہر ہو چکے ہیں، جبکہ مراعات یافتہ طبقے کی عیاشیاں اور اسراف بدستور جاری ہیں۔ دو فیصد اشرافیہ کے معمولات زندگی میں کوئی فرق نہیں آیا، جبکہ باقی پوری قوم قربانیوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ اگر حکومت معرکہ حق کی کامیابی اور عالمی ثالثی پر فخر کرتی ہے تو اسے یہ بھی سوچنا ہوگا کہ خالی نعروں اور جذباتی بیانیوں سے چولہے نہیں جلتے۔ کوئی بھی ملک اس وقت تک حقیقی معنوں میں مضبوط اور ترقی یافتہ نہیں ہو سکتا جب تک اس کے عوام معاشی طور پر مستحکم نہ ہوں۔ قومی طاقت صرف بیانات سے نہیں بنتی بلکہ اس کی اصل بنیاد خوشحال عوام، مضبوط معیشت، معیاری تعلیم، انصاف پر مبنی نظام اور داخلی استحکام ہوتا ہے۔ اگر عوام مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی اور سیاسی عدم استحکام میں گھرے رہیں تو یہ عالمی وقار بھی رفتہ رفتہ اپنا اثر کھو دیتا ہے۔

حکومت کو اب حقیقت کی سنگلاخ وادی میں اترنا ہوگا۔ معرکہ حق کی کامیابی اور عالمی سفارتی مقام کو ایک موقع سمجھتے ہوئے ملک و قوم کی حقیقی خوشحالی کیلئے جامع منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا، اپوزیشن کو اسپیس دینا ہوگی، امن و امان، معیشت، توانائی، تعلیم اور انتظامی اصلاحات جیسے بنیادی مسائل پر سنجیدہ حکمت عملی وضع کرنا ہوگی۔ محض وقتی اقدامات اور نمائشی اعلانات سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ آج پاکستان کے پاس ایک تاریخی موقع موجود ہے۔ دنیا پاکستان کو سن رہی ہے، اس پر اعتماد کر رہی ہے اور اسے اہمیت دے رہی ہے۔ اگر اس موقع کو دانشمندی، تدبر اور خلوص کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ ملک نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر ایک مضبوط، مستحکم اور باوقار ریاست بن سکتا ہے لیکن اگر ہم صرف ماضی کی فتوحات کے سحر میں کھوئے رہے اور عوامی مسائل کو نظر انداز کرتے رہے تو یہ سنہری موقع بھی ضائع ہو سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ معرکہ حق کی کامیابی کو محض جشن کا موضوع بنانے کی بجائے اسے قوم کی معاشی، سیاسی اور سماجی بحالی کا نقطہ آغاز بنایا جائے۔ اسی میں قوم کی ترقی کا راز پنہاں ہے۔