کیا اسرائیل کو تسلیم کرلیا گیا؟ تشویشناک اطلاعات

سوشل میڈیا پرتنقید کے بعد یونیورسٹی آف چکوال کی انتظامیہ نے کیمپس میں اسرائیلی پرچم لگانے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

یہ پرچم یونیورسٹی آف چکوال کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی جانب سے ایران کی امریکہ اور اسرائیل سے حالیہ جنگ کے تناظر میں منعقدہ کانفرنس کے موقع پر لگایا گیا تھا۔

یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق اسی کانفرنس کی مناسبت سے شعبۂ بین الاقوامی تعلقات کے طلبہ نے ایک نمائش کا بھی اہتمام کیا جس کا موضوع ’سٹریٹیجک سٹینڈرڈز‘ تھا اور اس میں شامل طلبا کے گروپس نے پاکستان، انڈیا، چین، روس، جاپان، امریکہ اور شمالی کوریا جیسے ممالک کی نمائندگی کی اور اس حوالے سے معلوماتی سٹالز بھی لگائے جن میں ہر ملک کی خارجہ پالیسی، دفاعی حکمتِ عملی، معاشی صورتحال، عالمی سیاست میں کردار، علاقائی اثر و رسوخ، کلچر، زبان کے بارے میں معلومات کے علاوہ ان کے پرچم بھی پیش کیے گئے۔

انتظامیہ کے مطابق اسی نمائش میں اسرائیل کی صلاحیتوں کو ایک حریف قوت کے طور پر اُس کی سٹریٹجک طاقت کا جائزہ پیش کیا گیا اور دوسرے ممالک کی طرح اسرائیل سے متعلق تمام معلومات کے ساتھ اسرائیل کا جھنڈا بھی لگایا گیا۔

یونیورسٹی کی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ کانفرنس میں اسرائیلی جھنڈے کا موجود ہونا ہرگز اسرائیل کے تشخص کو اجاگر کرنا یا اس کی تائید کرنا نہیں تھا بلکہ طلبہ و طالبات کو اس حقیقت سے آگاہ کرنا تھا کہ اسرائیل امت مسلمہ کے لیے، بالخصوص پاکستان کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے اور وہ غزہ کے مظلوم مسلمانوں پر سنگین ظلم و جبر کر رہا ہے۔

بیان کے مطابق ’کانفرنس کا بنیادی مقصد طلبہ میں شعور اجاگر کرنا اور انھیں موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال کی درست تناظر میں سمجھ بوجھ فراہم کرنا تھا‘ اور یہ کہ ’سوشل میڈیا پر اس سے متعلق گردش کردہ خبریں حقائق سے لاعلمی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غلط فہمی کا نتیجہ ہیں‘ اور انتظامیہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے درست حقائق کو عوام کے علم میں لا رہی ہے۔

وضاحتی بیان کے بعد یونیورسٹی کے رجسٹرار کی طرف سے جاری مراسلے میں معاملے کی تحقیقات کرانے اور 48 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرنے کا اعلان بھی سامنے آیا۔
وائس چانسلر نے اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے شعبۂ الیکٹرانکس انجینیئرنگ کے پروفیسر ڈاکٹر محسن ممتاز تارڑ کو انکوائری افسر مقرر کیا ہے اور انھیں 48 گھنٹے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔