دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک بہت جلد دنیا کے پہلے ٹریلین ائیر یا کھرب پتی بننے کے قریب ہیں۔
ایسا اس وقت ممکن ہوسکے گا جب ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس عوام کے سامنے 1750 ارب ڈالرز مارکیٹ ویلیو کے ساتھ جائے گی۔
اس کمپنی میں ایلون مسک کا حصہ کافی زیادہ ہے اور اگر واقعی اس کے حصص کی فروخت 1750 ارب ڈالرز مارکیٹ ویلیو کے ساتھ ہوئی تو ایلون مسک بہت زیادہ امیر ہو جائیں گے۔
ایلون مسک کی جانب سے امریکی اسٹاک مارکیٹ میں اسپیس ایکس کے حصص کو فروخت کے لیے پیش کرنے کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے جس سے وہ دنیا کے پہلے ٹریلین ائیر یا ایک ہزار ارب ڈالرز کے مالک فرد بن سکتے ہیں۔
اسپیس ایکس کی جانب سے جون 2026 کے وسط میں ابتدائی پبلک آفرنگ یا آئی پی او کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
آئی پی او کی دستاویزات کے مطابق کمپنی کا مقصد لوگوں کو چاند اور مریخ پر پہنچانے کے لیے سرمایہ جمع کرنا ہے کیونکہ زمین پر انسانیت کی بقا کو خطرہ لاحق ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا کہ ہم نہیں چاہتے کہ انسانوں کی قسمت ڈائنا سور جیسی ہو۔
دستاویزات میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسپیس ایکس کتنا سرمایہ اکٹھا کرنا چاہتی ہے مگر اس طرح کے منصوبوں کے لیے اربوں ڈالرز درکار ہوں گے اور کچھ رپورٹس کے مطابق ایلون مسک 75 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری اکٹھا کرنا چاہتے ہیں۔
اسپیس ایکس وہ کمپنی ہے جس نے کامیابی سے دنیا کے پہلے بار بار استعمال کیے جانے کے قابل راکٹ کو تیار کیا اور اسٹار لنک کے نام سے بڑے سیٹلائیٹ نیٹ ورک کو تشکیل دیا۔
ویسے تو ٹیسلا نے بھی ایلون مسک ایک ہزار ارب ڈالرز کا معاوضہ ادا کرنے کے پیکج کی منظوری دی ہے مگر اس کا انحصار اہداف کے حصول پر ہوگا۔
ایلون مسک اسپیس ایکس کے 42 فیصد حصص کے مالک ہیں۔
اب ایلون مسک ٹیسلا یا اسپیس ایکس جس ذریعے سے بھی ٹریلین ائیر بنتے ہیں، انہیں چیلنجز کا سامنا ہوگا۔
ٹیسلا سے معاوضہ حاصل کرنے کے لیے انہیں مخصوص اہداف حاصل کرنا ہوں گے، جیسے کمپنی کی مارکیٹ ویلیو 8500 ارب ڈالرز تک پہنچانا، جو ابھی 1500 ارب ڈالرز ہے۔
اسپیس ایکس کے حصص کو 1750 ارب ڈالرز کی مارکیٹ ویلیو کے ساتھ پیش کرنا بھی کافی چیلنجنگ ہوگا کیونکہ اس کے بعد کمپنی کی آمدنی میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا۔

