مختلف ذرائع سے ملنے والی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مملکت ِ خدادادپاکستان پر اس کے دشمنوں کی طرف سے مسلط کردہ مخلوط اورہمہ گیر جنگ میں شدت پیدا ہوچکی ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں بری فوج کے جوانوں پر پے درپے حملے ہوئے ہیں جن میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق سینتیس جوان شہید ہوچکے ہیں جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ بتایا جارہاہے کہ باجوڑ میں گزشتہ رات ہونے والے حملہ سب سے شدید تھا جس میں بیس کے قریب جوا ن شہید ہوئے۔
دوسری جانب سیکورٹی فورسز کا حوصلہ نہایت بلند ہے اور وہ دہشت گردوں کے خلاف آہنی عزم و استقلال کے پیکر بن کر ملک کے چوبیس کروڑ انسانوں کے تحفظ کی جنگ میں مکمل پامردی کے ساتھ میدان میں اتر ے ہوئے ہیں۔ سیکورٹی فورسز کے جوابی حملوں، چھاپہ مار کارروائیوں اور انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے جانے والے آپریشن میں متعدد خوارج مردار کیے گئے ہیں۔ باجوڑ میں حملہ آوردہشت گردوں میں سے بائیس مارے گئے جبکہ دو کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔ کوئٹہ میں تیس دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے جبکہ بلوچستان میں گزشتہ دو دنوں میں مجموعی طورپر فتنہ ٔ ہندوستان کے بیالیس کارندے مارے گئے ہیں۔ صوبہ کے پی کے حالیہ دنوں میں دہشت گردی کا خصوصی ہدف بنا ہوا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کے مطابق بنوں حملے میں ملوث خود حملہ آور کا افغانستان سے تھا۔ باجوڑ میں ہلاک اور گرفتار دہشت گردوں کے متعلق تحقیقات کے نتیجہ بھی شاید اس سے مختلف نہ نکلے۔
دہشت گردو ں کی حالیہ کارروائیوں کا افغانستان سے متعلق ہونا غیر منطقی نہیں۔ گو کہ افغان طالبان کی قیادت دنیا کے آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش میں ہے اور وہ یہ باور کروانا چاہتی ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی افغان حکومت سے تعلق نہیں رکھتی لیکن قرآئن و شواہد ہی نہیں بلکہ اس امر کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں کہ کابل اور قندھار پاکستان کے شہریوں اور سیکورٹی فورسز کے قتل میں شریک ہیں۔ افغانستان سے دراندازی اور وہاں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے افغان حکومت کی منافقت کو بے نقاب کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں پاک، افغان بین الاقوامی سرحد کو تسلیم نہ کرنا بھی اس امر کی علامت ہے کہ افغا ن قیادت پاکستان میں شامل صوبہ خیبر پختونخوا کو اپنی سرزمین کا حصہ سمجھتی ہے اور اسی کے اشاروں پر دہشت گردوں کی کھیپ تیار ہوکر اس صوبے کے عوام کے جان ومال سے کھیل رہی ہے اور نہایت فریب کاری کے ساتھ اس قتلِ عام کا الزام پاک فوج پر عائد کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاک افواج کے خلاف منفی پروپیگنڈے میں افغان حکومت کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی، پی ٹی ایم اور خود صوبے کی حکمران جماعت کے لوگ شریک ہیں۔ ایک طرف فوجی جوان ملک کے تحفظ اور عوام کی حفاظت کی خاطر جانیں قربان کررہے ہیں تو دوسری طرف پاکستان کے ان محافظوں کے خلاف شدید ابلاغی مہم جاری ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے سماجی روابط کے جدید مواصلاتی ذرائع کو منفی خبروں اور زہریلے پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جارہاہے۔ افواج پاکستان اور دیگر اداروں کی اہمیت کو مجروح کرنے اور عوام کو ا ن کے خلاف بھڑکانے کی کوششیں کی جارہی ہیںاور اس زہر آلود فضا میں جذباتی او ر سطحی سوچ رکھنے والے نوجوانوں کو ملک کے خلاف بھڑکانے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے آزمائے جارہے ہیںتاکہ دفاعِ وطن اور قومی تحفظ کے بیانیے کو شکست دے کر قومی کو مجموعی طورپر انتشار میں مبتلا کردیا جائے۔
دراصل یہ سب پاکستان پر مسلط کردہ اسی مخلوط جنگ ہی کا حصہ ہے جس کا بنیادی مقصد پاکستان پر معاشی دباؤ کو بڑھانا، معاشرے میں انتشار برپا کرنا اور پوری قوم کو نفسیاتی لحاظ سے شکست خوردہ بنانا ہے تا کہ عالم ِ اسلام کی یہ عظیم عسکری طاقت اور مسلم امہ کا بازوئے شمشیر زن ہمت اور حوصلہ کھو بیٹھے اور دشمن کے ناپاک عزائم کامیاب ہوجائیں۔ قوم کے اعصاب کو توڑنے کے لیے متعدد علماء کرام وطن سے محبت کے جرم میں شہید کردیے گئے ہیں جبکہ بیسیوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ ایک بڑی مہم کا حصہ ہے جو محض افغان حکومت کی بس کی بات نہیں۔ افغان قیادت جس طرح بھارت کے ساتھ ساجھے داری پر تیار ہوچکی ہے اس کے بعد اس امر میں کوئی شبہ نہیں رہتا کہ وہ دراصل بھارت اور اسرائیل کی پراکسی کا حصہ بن چکے ہیں اور مالی منفعت کی خاطر مزیدآگے جاسکتے ہیں۔ افغا ن قیادت جس ”لویہ افغانستان ”کے خواب دکھا رہی ہے وہ کسی بھی طرح ”اکھنڈ بھارت ”کے بھارتی توسیع پسندانہ منصوبے سے الگ نہیں۔ اسی بنا پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں ببانگ ِ دہل کہا ہے کہ پاکستان نے جو سبق دہلی کو دیا وہی کابل کو بھی دیا جاسکتاہے۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت اپنی دفاعی حکمتِ عملی کے عین مطابق اقدامات کررہاہے۔ جدید جنگی آبدوزیں، برق رفتار اور جدید ترین جنگی جہازوں کا حصول، بنکروں کو تباہ کردینے والے خطرناک بم اور فتح میزائل کے ساتھ غضب میزائلوں کے تجربات بتاتے ہیں کہ پاکستان بھی ایک بڑی جنگ کی تیاری میں ہے جو بیک وقت بھارت اور اس کی پراکسی یعنی افغان طالبان کو قرار واقعی سبق سکھا دے گی۔
پاکستان اس وقت ایک ہمہ جہت جنگ کے مرحلے سے گزرر ہاہے۔ ملک میں مہنگائی اور بدنظمی جنگ کے اس دورانیے میں سب سے بڑی داخلی کمزوری ثابت ہوسکتے ہیں لہذا اس مسئلے کے حل کی طرف فی الفور توجہ دی جانی چاہیے۔ محکموں میں دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا خاتمہ اولین اقدام ہونا چاہیے اس کے بعد بدعنوان عناصر کا قلع قمع کرنا بھی ضروری ہوگا۔ یہ اتنی بڑی جنگ ہے کہ تنہا حکومت کے بس کا کام نہیں۔ اس جنگ میں جیت کے لیے ریاست کے تمام عناصر کو یکسو، متحد، متفق اور منظم ہونا پڑے گا۔ عوامی آگاہی اور لوگو ں کو ملک و ملت کی خاطر متحد کرنے کی مہم چلانا ہوگی اور اس کے ساتھ ہی ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو عوام کو ریاست کے ساتھ جوڑیں نہ کہ متنفر کریں۔ ملک کو تعلیم، ابلاغ، معیشت اور نظام ِ انصاف میں اہم اور فوری اصلاحات کی ضرورت ہے اور یہ کام ایسے ماہرین انجام دے سکتے ہیں جو نہ صرف وسیع النظر، عمیق الفکر اور ریاست کے مقاصد کے ساتھ مکمل طورپر ہم آھنگ ہوں بلکہ وہ مختلف میدانوں میں اپنی قابلیت، دیانت و امانت اور صلاحیت کا لوہا منوا چکے ہوں۔ بفضلہ تعالیٰ پاکستان عسکری اور سفارتی محاذوں پر اہم کامیابیاں سمیت چکا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کامیابیوں کو داخلی استحکام کے لیے باور آور کیا جائے۔

