عازمینِ حج کی خدمت میں!

گزشتہ سے پیوستہ:
حج کے منکرات میں ایک: غیرمحرم کے ساتھ اختلاط بھی ہے۔ کمروں میں مردوں اور عورتوں کا مشترک قیام رہتا ہے، اس میں ایک دوسرے کے غیرمحرم بھی ہوتے ہیں، مسجدوں کو جانے اور آنے کے اوقات مختلف ہوتے ہیں، اس کی وجہ سے بعض دفعہ غیرمحرم کے ساتھ تنہائی کی بھی نوبت آجاتی ہے۔ یہ نہایت ہی قبیح بات ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب اجنبی مرد و عورت کی تنہائی ہوتی ہے تو اس میں کا تیسرا شیطان ہوتا ہے، نیز مردوں اور عورتوں کا اس طرح مخلوط قیام نیک طبیعت مرد و خواتین کے لیے گرانی کا باعث بھی بنتا ہے ۔ اس لئے بہتر طریقہ یہ ہے کہ چند افراد مل کر اس طرح نظم بنائیںکہ ایک کمرہ مردوں کے لیے مخصوص کردیں اور ایک کمرہ عورتوں کے لیے تاکہ بدنگاہی، بے پردگی اور اختلاط کے گناہ سے بھی بچیں اور دونوں کو بے تکلف ماحول میں رہنے کا بھی موقع ملے۔

حج کے سفر میں خرید و فروخت کی ممانعت نہیں ہے لیکن اس سے ایسا اشتغال اور ایسی رغبت بھی نہ ہو کہ گویا سفر حج کا مقصود ہی یہی ہے۔ یہ عبادت کی روح کے منافی ہے۔ افسوس کہ بہت سے لوگ حرمین شریفین میں پہنچتے ہی خرید و فروخت کا پروگرام بنانا اور حریصانہ نظر سے بازاروں کا جائزہ لینا شروع کردیتے ہیں اور جن کا واپسی کا سفر حج کے بعد قریب ہوتا ہے اُن میں سے بعض حضرات کو تو دیکھا گیا ہے کہ وہ منیٰ ہی سے خریداری کا نقشہ تیار کرنے لگتے ہیں کہ کس کے لئے کیا سامان خرید کر لے جانا ہے؟ یہ یقینا قابل افسوس ہے۔ حج وہ جگہ ہے جہاں سے انسان کوزرق برق مادی لباس کے بجائے ”لباسِ تقویٰ” لے کر جانا چاہیے جہاں سے سونا چاندی کے بجائے زیور عمل کی سوغات اس کے ساتھ ہونی چاہیے، جہاں سے غذائے جسمانی کے بجائے غذائے روحانی کا توشہ لے کر اسے لوٹنا چاہیے۔ لیکن بہت سے حجاج مادی اسباب عشرت کی بہتات لے کر واپس ہوتے ہیں اور جہاز کا عملہ ان کے سامانوں کے ڈھیر کو دیکھ کر پریشان ہوجاتا ہے۔ حرمین شریفین سے اگر کوئی چیز لانے کی ہے تو وہ وہاں کے تبرکات ہیں، یعنی مکہ مکرمہ سے آب زم زم اور مدینہ منورہ سے کھجوریں نہ کہ متاع عیش و عشرت۔

بعض حجاج خریدنے ہی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ سفر حج کو تجارتی سفر بھی بنالیتے ہیں۔ ادھر ایک سلسلہ بعض افراد نے قربانی کے جانور فروخت کرنے کا شروع کر رکھا ہے جس میں متعدد واقعات دھوکہ اور خیانت کے پکڑے گئے ہیں ۔ اس لئے ایسی چیزوں سے بچنا ضروری ہے۔ عبادت کی روح، اخلاص و للہیت ہے اور اخلاص کی ایک علامت اپنے نیک اعمال کو چھپانا اور اس کی تشہیر سے بچنا ہے لیکن افسوس کہ آج کل حج و عمرہ کی بھی باضابطہ تشہیر کی جاتی ہے۔ اخبارات میں مصور اشتہارات دیے جاتے ہیں کہ فلاں صاحب حج کے لیے جا رہے ہیں، خبریں بھی چھاپی جاتی ہیں۔ افسوس کہ عوام اور دنیا دار سمجھے جانے والے لوگ ہی نہیں وہ لوگ بھی اس میں مبتلا ہیں جو اصلاح و ارشاد کی مسندوں پر متمکن ہیں۔ یہ نہایت قابل افسوس بات ہے۔ حج کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ اس میں تجارت، دکھاوا اور تشہیر سے بچایا جائے۔ (فتح القدیر)

حج کا سفر ہے ہی مشقت و مجاہدہ کا سفر، اس لئے اسے ہنسی خوشی برداشت کرنا چاہیے اور جذبہ ایثار کے ساتھ عزم سفر کرنا چاہیے۔ سفر عشق و محبت کھونے کا سفر ہوتا ہے اس میں کھونا ہی پانا ہے اور اس میں لٹ جانا ہی سرفرازی ہے۔ سفر حج میں بہت سے مواقع باہمی کشاکش کے آتے ہیں۔ تکان اور مشقت اس احساس کو اور بھی سوا کردیتی ہے، اس لئے اگر آدمی پہلے سے ذہن بنالے کہ ہم اپنے حصہ سے کسی قدر کم پر راضی ہوجائیں گے اور اپنے بھائی کے حق میں ایثار سے کام لیں گے تو نہ صرف آخرت میں وہ اجر کا مستحق ہوگا بلکہ اپنے ساتھیوں کے درمیان بھی وہ محبوب و پسندیدہ شخص بن کر رہ سکے گا۔

حرمین شریفین کا تقدس، اس کی عظمت اور رشتہ ایمان کی وجہ سے اس سے جو محبت ہے اُس کا تقاضاہے کہ وہاں کے لوگوں، وہاں کی چیزوں اور وہاں کی خوبیوں کو سراہا جائے اور خامیوں اور پریشانیوں کے ذکر سے گریز کیاجائے ، کیونکہ ان مبارک مقامات سے محبت دراصل ایمان کا حصہ ہے۔ انسان کو اپنے والدین اور اولاد سے محبت ہوتی ہے تو وہ ان کی خامیوں میں بھی خوبیوں کو تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس لئے زبان کو محتاط رکھنے کی ضرورت ہے۔ بہت سے لوگ یہاں پہنچ کر بھی شکایت کا دفتر کھولے رہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے بارے میں فرمایا کہ اس کی مثال ایک بھٹی کی سی ہے، جو خراب حصے کو اچھے حصہ سے الگ کردیتی ہے۔ (مسلم) تو اگر ان مقامات کی محبت سے کسی مسلمان کا سینہ خدانخواستہ لبریز نہ ہو، یہاں کی فضائیں اور یہاں کی چیزیں دل کو نہ بھائیں تو ایمان میں کمزوری کی علامت ہے۔ اس لئے ایسی باتوں سے خوب احتیاط کرنی چاہیے بلکہ وہاں کے لوگوں کی کمزوریوں سے بھی درگزر کرنا چاہیے اور اس کا آسان نسخہ یہ ہے کہ انسان اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں پر نظر رکھے۔